انصاف نہ ملنے کے خدشات پر صحافیوں نے پٹیشنز واپس لے لیں


عدالت سے انصاف نہ ملنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 30 اگست کے روز پانچ میں سے چار صحافیوں نے بےجا گرفتاریوں اور ہراسانی کے خلاف دائر کردہ اپنی آئینی درخواستیں واپس لے لیں۔ چار صحافیوں کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ پر عدم اعتماد قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنائے گئے دو رکنی بینچ کو ختم کرنے کے بعد قائم مقام چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں جو تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا اس نے پیر کے روز سینئر صحافیوں عامر میر، عبدالقیوم صدیقی، اسد علی طور،عمران شفقت اور امجد نذیر کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کی سماعت شروع کی تو معزز عدالت کو بتایا گیا کہ پانچ میں سے چار پٹیشنرز انصاف نہ ملنے کے خدشات کے باعث یہ کیس جاری نہیں رکھنا چاہتے اور اپنی درخواستیں واپس لے رہے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے ججز کا موقف تھا کہ چونکہ یہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت دائر کردہ آئینی درخواستیں ہیں اس لیے انہیں واپس لے بھی لیا جائے تو عدالت کارروائی جاری رکھے گی۔ درخواستیں واپس لینے والے چاروں صحافیوں نے ججز کے نام تحریری طور پر مختلف وجوہات بیان کیں۔ عبد القیوم صدیقی نے لکھا کہ انہیں یقین ہے کہ روز محشر ان تمام لوگوں کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا جو دنیا پر نا انصافیاں کر رہے ہیں۔ عمران شوکت نے لکھا کہ وہ عدالت کی عزت کرتے ہیں لیکن اپنا کیس واپس لینا چاہتے ہیں۔ اسد طور نے لکھا کہ انہیں انصاف ملنے کی امید نہیں ہے اس لیے وہ اس کیس کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔
تاہم 7 اگست کو ایف آئی اے کے ہاتھوں لاہور سے گرفتار ہونے والے سینئر صحافی عامر میر نے عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ کے نام اپنے تفصیلی خط میں لکھا کہ انہوں نے خفیہ طاقتوں کی جانب سے ایف آئی اے کی آڑ میں خود سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف داد رسی کے لئے 20 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا تھا لیکن ان کی پیٹیشن کو فٹبال بنا کر اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کے بعد وہ شدید مایوس ہوئے ہیں اور انہیں عدالت سے انصاف کی کوئی امید نہیں لہذا وہ اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں۔
سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184 کی ذیلی شق 3 کے تحت دائر کی گئی پٹیشن واپس لیتے ہوئے عامر میر نے لکھا کہ وہ معزز عدالت کے بینچ نمبر 3 کو بتانا چاہتے ہیں کہ بطور پٹینشر وہ اس درخواست پر مزید کارروائی کے متمنی نہیں ہیں لہذا ان کی پٹیشن کو خارج تصور کیا جائے۔ عامر میر نے لکھا کہ انہیں یقین ہے کہ اس عدالت سے انہیں انصاف نہیں مل سکتا کیونکہ گذشتہ دو برس سے جو نظر نہ آنے والے خفیہ عناصر انہیں ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کے ذریعے ڈرانے، دھمکانے اور گرفتار کروانے جیسے واقعات کے پیچھے ہیں، وہ انصاف دینے والوں سے زیادہ تگڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر مرئی عناصر عوام کو انصاف اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے ذمہ دار اداروں سے بھی زیادہ طاقت ور ثابت ہورہے ہیں اور اسی لیے آج دن تک ان کا احتساب نہیں ہو پایا۔
درخواست گزار عامر میر کے مطابق پٹیشن واپس لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نظر نہ آنے والے یہ عناصر جو ایف آئی اے کے ذریعے انکے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں مصروف ہیں، یہی عناصر دراصل دیگر دبنگ صحافیوں پر بھی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ عامر میر نے لکھا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں پر حملوں کے تین بڑے واقعات پیش آئے ہیں۔ سنیئر صحافی ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ ہوا، اسد طور کو گھر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مطیع اللہ جان کو دن دیہاڑے اغوا کرلیا گیا۔ تینوں واقعات میں ملوث ملزمان کی شکلیں سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح تھیں لیکن ہمشیہ کی طرح نہ تو نادرا ملزمان کی شناخت کر سکا اور نہ ہی آج دن تک حملہ آور پکڑے جا سکے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ کسی بھی دوسرے ادارے سے زیادہ طاقتور ہیں۔ عامر میر نے موقف اپنایا کہ ان واقعات کے تناظر میں وہ سمجھتے ہیں کہ ایف آئی اے جن نظر نہ آںے والی قوتوں کے ایما پر انہیں نشانہ بنا رہا ہے، ان کا احتساب عدلیہ سمیت کوئی بھی ادارے نہیں کرسکتا۔ عامر میر کا کہنا ہے کہ غیر مرئی قوتوں کی جانب سے انہیں گذشتہ دو سال سے سنگین نتائج کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں،حتی کہ 7 اگست 2021 کو انہیں ایف آئی اے نے غیر قانونی طور پر گرفتار بھی کر لیا۔ لہذا انہوں نے داد رسی کے لئے 20 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ایف آئی اے اور دیگر حکام کو طلبی کے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد جس عجلت میں انکے فیصلے اور دو رکنی بنج کو ختم کیا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خفیہ ہاتھ کتنے طاقتور ہیں۔عامر میر کا کہنا تھا کہ ان کی پٹیشن کو جس طرح فٹ بال بنا کر کھیلا گیا اس سے ان کی مایوسی انتہا کو پہنچ گئی اور انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ انصاف ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے، لہذا انہوں نے اپنی پٹیشن بطور احتجاج واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ 20 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس جمال خان مندو خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سینئر صحافی عامر میر اور عمران شفقت کو 7 اگست 2021 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو 26 اگست کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ دو رکنی بینچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی پریس ریلیز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کیوں کی اعلیٰ عدلیہ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کی بجائے صحافیوں پر جبر کے واقعات میں حکومت اور ریاست کی معاون اور مددگار بنی ہوئی ہے؟ تاہم یہ کیس تب لٹک گیا جب قائم مقام چیف جسٹس عمر بندیال نے دو رکنی بینچ کی جانب سے صحافیوں کی درخواست پر از خود نوٹس لینے کے معاملے میں مداخلت کی اور سو موٹو نوٹس سے متعلق پیرامیٹرز طے کرنے کے لئے اپنی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دینے کے بعد 26 اگست کو سنائے گئے فیصلے میں نہ صرف سو موٹو نوٹس کو چیف جسٹس کی صوابدید قرار دے دیا بلکہ جسٹس فائز عیسی کے دو رکنی بینچ کا ازخود نوٹس اور حکم نامہ بھی واپس لے لیا۔ قائمقام چیف جسٹس نے کہا تھا کہ صحافیوں کا کیس اب چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوایا جا رہا ہے کیونکہ اس کے علاوہ کسی بھی بنچ کو کسی بھی معاملے کا از خود نوٹس لینے کا اختیار حاصل نہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کی درخواست کا فیصلہ چیف جسٹس ہی کریں گے اور اس معاملے پر بنچ بھی وہی تشکیل دیں گے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ مستقبل میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کرنے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری لازمی ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار سینئر صحافی عامر میر کے وکیل جہانگیر خان جدون نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ پر اعتراض بھی کیا تھا۔ دوران سماعت جب جسٹس قاضی امین نے کہا صحافیوں کی درخواست میں فریقین کے نام بھی شامل نہیں تو جہانگیر جدون نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ عامر میر اور دیگر صحافیوں کے ساتھ جو بھی لوگ زیادتی کر رہے ہیں ان کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے اور اسی لئے دو رکنی بینچ نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور سیکرٹری داخلہ کے علاوہ دیگر حکومتی افسران کو طلب کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججز میں اس پٹیشن کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات کو دیکھتے ہوئے نظام عدل سے مایوس صحافیوں نے پٹیشن واپس لے کر عدالت کی مشکل تو آسان کردی ہے لیکن اپنے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
WhatsApp Image 2021 08 30 at 15.02.09 e1630318540553

Back to top button