افغان طالبان نے پاکستان سے آنکھیں پھیرنا شروع کر دیں


دو دہائیوں سے پاکستان سے دوستانہ تعلقات کا دعویٰ کرنے والے افغان طالبان نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان سے آنکھیں پھیرنا شروع کر دی ہیں اور اب یہ بیان داغ دیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اسلام آباد والوں کا اندرونی مسئلہ ہے جس کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں۔
افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مکمل ہونے سے چند روز پہلے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا یے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے، اس لیے اس حوالے سے حکمت عملی بنانا بھی پاکستان کا کام ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور ترجمان آئی ایس پی آر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گرد کارروائیاں کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان مخالف کارروائیاں روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایک 3 رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ لیکن اب افغان طالبان نے ان تمام اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک طالبان سے نمٹنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے جسکا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ‘جرگہ’ میں گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر تحریک طالبان پاکستان والے عناصر خود کو ہمارا تابعدار سمجھتے ہیں اور ہمارے امیرالمومنین کو مانتے ہیں تو پھر انہیں ان کی باتوں پر عمل کرنا ہو گا۔ تاہم ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روکنے کے سوال پر افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے ان کے عوام، علما اور پاکستانی حلقے لائحہ عمل طے کریں، یہ ہمارا قضیہ نہیں۔ ذبیح کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان سے متعلق ہے اس اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانا بھی پاکستان کا کام ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمارا یہ اصولی موقف ہے کہ ہم افغانستان کی سر زمین کسی دوسرے ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم اپنے اس موقف پر اب بھی قائم ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ناہموار ہے اور ایسے علاقے بھی ہیں جہاں طالبان کا کنٹرول نہیں اور وہاں موجود جنگجو اپنی مرضی کرتے ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی جیلوں سے 780 سے زائد تحریکِ طالبان پاکستان کے شدت پسند کی رہائی سے اسکے پاکستان میں دوبارہ منظم ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید دہشت گردوں سمیت تمام قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کے سربراہ مولوی فقیر محمد بھی شامل ہیں۔ جیل سے رہائی کے بعد ٹی ٹی پی کے اہلکاروں نے مولوی فقیر کا والہانہ استقبال کیا اور انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے تمام طالبان کو متحد رہنے پر زور دیا۔ مولوی فقیر سمیت ٹی ٹی پی کے دیگر عسکریت پسندوں کی رہائی پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹی ٹی پی کے افغان طالبان کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں اور افغانستان میں طالبان کے قبضے سے ان کے نظریات کو تقویت مل سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں ہونے والے متعدد بڑے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ ایسے میں افغان جیلوں سے شدت پسندوں کی رہائی پر پاکستان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کو کہا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے متحرک جنگجوؤں کی تعداد چھ ہزار کے قریب ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں سرِ فہرست ٹی ٹی پی ہے۔ اسکے علاوہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔

Back to top button