نواز شریف کی جانب سے پہلی مرتبہ مفاہمت کی پیشکش

اینٹی اسٹیبلشمنٹ مزاحمتی بیانیہ لے کر چلنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے موقف میں نرمی دکھاتے ہوئے پہلی مرتبہ یہ بیان دیا ہے کہ اگر مفاہمت سے پاکستان میں قانون اور آئین کی حکمرانی قائم ہو جائے تو انہیں بھی لڑنے کا کوئی شوق نہیں۔ 27 ستمبر کو نوازشریف نے لندن سے ویڈیو لنک پر پارٹی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مجھے لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی طرح لڑنے کا کوئی شوق نہیں اگر ملک میں آئین کی حکمرانی کا مشن مفاہمت سے پورا ہو جائے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کی بے توقیری اس لیے بھی ہے کہ ہمارے ہاں بار بار آئین توڑے جاتے ہیں اور عدالتیں آئین شکنی کو قانونی قرار دے دیتی ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر ہم منظم ہوں گے تو کوئی دھاندلی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین و قانون کا احترام ہونا چاہیے۔کم بطور پاکستانی اس لیے بھی بے توقیر ہیں کہ ہمارے ملک میں بار بار وزیراعطم ہاؤس کو فتح کیا جاتا ہے اور وزیر اعظم کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ توڑی جاتی ہے، آئین توڑا جاتا ہے، قانون توڑا جاتا ہے اور عدالتیں توڑتے جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہیں۔ 22 کروڑ عوام کو انکے حق حکمرانی سے محروم کیا جاتا ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ ہم بے توقیر کیوں ہو رہے ہیں اور ہمارا ملک زوال پذیر کیوں ہو رہا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی سیاست ختم کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی۔ لیکن یہ کوشش کرنے والے دیکھیں، کہ نوازشریف کی سیاست پھر بھی زندہ ہے اور زور پکڑ رہی ہے۔ نواز شریف نے ملک کی ترقی کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کو اقامے پر نہ نکالا جاتا تو پاکستان میں ترقی کا سفر جاری رہتا۔ انکا کہنا تھا کہ آج پاکستان صرف کرپشن انڈکس میں ترقی کررہا ہے اور اسے کرپٹ ملک کہا جا رہا ہے۔ ا ہوں نے کہا کہ خدارا اس ملک کو چلنے دیں۔ اب تو کرکٹ کا بھی بیڑہ غرق کردیا گیا ہے، نیوی لینڈ کی ٹیم واپس چلی گئی، انگلینڈ کی ٹیم نے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین کی حکمرانی ہوتی ہے تو ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ انہون نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کروڑوں نوکریاں دینے کا وعدہ کیا لیکن لوگوں کو بیروزگار اور بے گھر کردیا۔ کل تک وہ کنٹینر پر کرپشن کے خلاف لیکچر دیتا تھا لیکن آج تمام کرپٹ لوگ اس نے اپنے اردگرد بٹھا رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک میں بھی کرپٹ لوگوں کو بٹھا دیا گیا ہے جس سے سی پیک منصوبہ تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ملک اور قوم کو اپنی جیبیں بھرنے کے لیے منگتا بنادیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان سب سے بڑا چور ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران کہتا تھا ڈالر کی قیمت بڑھے تو سمجھ لو کہ وزیر اعظم چور ہوتا ہے، آج اگر تین برس میں ڈالر کی قیمت میں 64 روپے اضافہ ہو چکا ہے تو تم سب سے بڑے چور ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم لڑنا چاہتے ہیں۔ ’قانون اور آئین کی حکمرانی ہمیں مفاہمت سے ملے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ ویسے بھی قدرت کا اصول ہے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور ہم وقت بدلتا دیکھ رہے ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پارٹی میں مختلف سوچ تو ہو سکتی ہے لیکن ہمارے گھر اور پارٹی کے سربراہ نواز شریف ہیں اور اس پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں ڈکٹیٹر شپ کے دور سے زیادہ برے حربے استعمال ہوئے لیکن ہمیں بڑی کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا ماضی، حال اور مستقبل مسلم لیگ ن ہی ہے، اگر مسلم لیگ ن نہیں تو اور کون ہے؟‘
