نواز کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نتیجہ کیاہو گا؟


ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے اور پھر اس سے لڑنے والے نواز شریف کا سخت ترین اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ نہ صرف ان کے سیاسی اور غیر سیاسی مخالفین کے لیے پریشان کن ہے بلکہ ان اپنے کے ساتھیوں کے لیے بھی حیران کن ہے اور ہر طرف سے ایک ہی سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اس بیانیے کا اختتام کسی نقصان کی صورت میں ہو گا یا نواز شریف ماضی کی طرح فوج پر دباو ڈالنے کے بعد سرپرائز دے کر کوئی نہ کوئی قبول درمیانی راستہ نکال لیں گے۔
نواز شریف نے اے پی سی میں دھواں دھار تقریر کر کے عملی سیاست میں دوبارہ انٹری ڈالی تھی، لیکن گوجرانوالہ میں 16 اکتوبر کو کی گئی تقریر سے وہ محاذ آرائی کی حکمت عملی کو ایک قدم آگے لے گئے اور براہ راست آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے سیاسی کردار کی بنا پر انہیں چارج شیٹ کر دیا۔ نواز شریف کی گوجرانوالہ کی تقریر نا صرف ان کے اتحادیوں بلکہ اپنی پارٹی کے رہنماؤں کے لیے بھی سرپرائز ثابت ہوئی بلکہ اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی اس تقریر نے سرپرائز کر دیا۔ اس تقریر کے نتیجے میں اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کا دباؤ نہ لیا تو پھر مریم نواز کی گرفتاری ہوگی۔
تاہم موجودہ حالات میں جب کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کھلم کھلا سیاست میں ملوث ہے اس بات کا بھی امکان ہے کہ فوج کا ادارہ خود پر ہونے والی تنقید کے پیش نظر سیاست میں بظاہر اپنا کردار کم کرتے ہوئے پیچھے ہٹے اور اپوزیشن کو کھل کر کھیلنے کا موقع دے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس کا براہ راست نقصان وزیراعظم عمران خان کو ہو گا جن کو فوج کے ادارے کی مکمل حمایت حاصل ہے اور جس کا اظہار وہ کھلے عام کرتے ہیں۔
دوسری طرف 18 اکتوبر کو توقع کے برخلاف نواز شریف نے کراچی کے جلسے سے خطاب نہیں کیا جس پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسے میں جو باتیں کر دی تھیں ان کے بعد فوری طور پر ان کے پاس اور کچھ کہنے کے لیے نہیں تھا اس لئے کراچی کے جلسے سے خطاب نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ ویسے بھی مریم نواز ان کی ترجمانی کے لیے وہاں موجود تھیں۔
تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی والوں نے نواز شریف کی منت کرکے تقریر سے روکا۔ کسی کو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے رابطوں کے بعد میاں صاحب نے وقتی خاموشی اختیار کی۔ بہرحال تجزیہ کار توقع کرر ہے ہیں کہ نواز شریف کچھ ایسا کر سکتے ہیں کہ جس سے ان کے لئے نئی راہیں کھلیں گی کیوں کہ سرپرائز دینے کی صلاحیت شروع سے ہی سے ان کی سیاست کا خاصہ رہہ ہے۔ ان کی اپنی پارٹی کی کور کمیٹی، یہاں تک کہ قریبی خاندانی رشتے بھی انکے اہم فیصلوں کے بارے میں لا علم ہوتے ہیں۔نواز شریف اپنے پتے اتنی شدت سے سینے کے ساتھ بھینچ کر رکھتے ہیں کہ اچھے اچھے اندازہ نہیں لگا پاتے کہ وہ کرنے کیا جا رہے ہیں۔ اسی سرپرائز کرنے کی صلاحیت نے نواز شریف کو بڑی کامیابیاں بھی دی ہیں اور جیل کی یاترا بھی کروائی ہے۔ یقیناً سرپرائز نواز شریف کا سب سے مؤثر اور پسندیدہ سیاسی ہتھیار ہے۔
سیاست اور کاروبار کے امتزاج سے سیاسی سفر شروع کرنے والے نواز شریف نہ تو بینظیر بھٹو کی طرح غیر ملکی تعلیم یافتہ تھے اور نا ہی چوہدری برادران کی طرح مقامی جوڑ توڑ کے ماہر تھے۔کم گو اور کسی حد تک اعتماد کی کمی کا شکار نواز شریف نے اپنے ہر سیاسی حریف سے، چاہے وہ جونیجو ہو یا صدر اسحاق ہوں یا پھر فاروق لغاری۔۔۔۔ اسی سرپرائز سٹریٹجی کے ذریعے پیچھا چھڑایا۔ جسٹس سجاد علی شاہ سے لے کر جنرل جہانگیر کرامت تک کئی عہدے دار اسی سرپرائز کا شکار ہوئے مگر جنرل پرویز مشرف کی بار یہ سرپرائز الٹا پڑ گیا اور نواز شریف کی اپنی حکومت فارغ ہو گئی۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی شریف خاندان کے انٹرویوز پر مشتمل کتاب کے مطابق آرمی چیف کی برطرفی ان کے قریبی ساتھی وزرا اسحاق ڈار اور نثار علی خان حتیٰ کہ ان کے سگے بھائی شہباز شریف تک کے لیے سر پرائز تھا۔ ایسا ہی ایک سرپرائز انہوں نے تب دیا جب جب عدالت کی جانب سے طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد اچانک ایک روز وہ اٹک جیل سے عازم جدہ ہوئے۔ سرپرائز کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ میثاق جمہوریت دستخط کرنے کے بعد اسی جماعت کے خلاف تحریک بھی چلائی اور کالا کوٹ پہن کر اسی جماعت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف میمو گیٹ کیس میں سپریم کورٹ بھی پہنچ گئے۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب آصف علی زرداری نے میاں صاحب کو ملنے کی کوشش کی تو ان کو منع کر دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ آصف زرداری نے فوج کو مخاطب کرتے ہوئے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی۔
لیکن اب پھر پی پی پی اور ن لیگ بھائی چارہ اپنے عروج پر ہے مگر کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ کب کیا ہو جائے۔ فی الحال نواز شریف نے اپنی ہی جماعت اور سیاسی ماحول کو بدستور سسپنس میں رکھا ہوا ہے۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹنشن پر قانون سازی میں حکومت کی مدد کرنے کے بعد ایسے لگتا تھا کہ شہباز شریف فرینڈلی اپوزیشن کا کردار جاری رکھیں گے اور نواز شریف چار سال تک لندن میں چپ سادھے رہیں گے۔ لیکن یہاں بھی انہوں نے اپنے من پسند ہتھیار سرپرائز کا استعمال کر کے لندن میں بیٹھ کر بھی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
لگتا تو کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کے کسی حلیف اور ان کی جماعت میں سے غالباً مریم نواز کے علاوہ کسی کو اندازہ نہیں کہ آگے کونسا سرپرائز باقی ہے۔ پرانے تجربات کے مطابق ایک اور بات بھی طے ہے کہ ڈیل کی گنجائش بھی ہمیشہ رہتی ہے۔ چاہے معاملات کسی حد تک بھی چلیں جائیں پسپائی اور مصالحت کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ابھی تک ان کے حلیف بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہچکچا رہے ہیں اور ان کی اپنی جماعت کے رہنما تذبذب کا شکار ہیں۔ کام نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ آج کے نواز شریف اور ماضی کے نواز شریف میں زمین آسمان کا فرق ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر میدان جنگ میں اترے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button