نگران وزیراعظم نے پاکستان کو چین کا اسرائیل کیوں بنا دیا؟

نگران وزیراعظم نے پاکستان کوچین کا اسرائیل کیوں بنا دیا؟ سینئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے کہا ھے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بدھ کے روز نیویارک میں خارجہ امور کی کونسل سے بات کرتے ہوئے پاکستان کو چین کا اسرائیل قرار دیا ہے۔ تاہم انہیں یاد دلانے میں حرج نہیں کہ ان کا جملہ 2010 ء میں ایک چینی سفارت کار کے قو ل کی بازگشت تھا۔ کوئی باوقار قوم کسی بڑی طاقت کی بھکاری ہونے پر فخر نہیں کر سکتی۔ یہ بھی یاد رہے کہ طاقتور قومیں اپنے مفاد میں آنکھیں پھیرنے میں وقت نہیں لیا کرتیں۔ اپنے ایک کالم میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بدھ کے روز ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2023ء میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 0.3 فیصد رہی جبکہ آئندہ برس پاکستان کی معیشت ممکنہ طور پر 1.9فیصد کی شرح سے ترقی کر سکے گی۔ مگر …..اور اس مگر میں چھپے مگرمچھ پر خاص توجہ کی درخواست ہے… شرط یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہو، منڈی پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو، موسمی حالات سازگار رہیں اور اشرافیہ کو ملنے والی 17.4ارب ڈالر کی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مراعات پر نظرثانی کی جائے۔ معیشت اور سیاسی استحکام میں تعلق بیان کرنے سے قبل مناسب ہے کہ پاکستان کے قرب و جوار میں واقع ممالک کی معاشی صورت حال پر طائرانہ نظر ڈال لی جائے تاکہ وطن عزیز کے ساتھ ’پروجیکٹ عمران‘ کے نام پر کئے گئے قومی جرم کی تباہی واضح ہو سکے۔ رواں برس میں بھارت کی معاشی شرح نمو 6.4 فیصد اور بنگلا دیش کی معاشی ترقی 5.5فیصد رہی۔ واضح رہے کہ جولائی 2018ء میں جب اہل پاکستان کے زخموں پر ’وتعز من تشا و تذل من تشا‘ کی آیت مبارکہ کی آڑ میں نمک پاشی کی جا رہی تھی، پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی۔
وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ آج ایشیا کے 46 ممالک میں پاکستان کی معیشت 43 ویں نمبر پر ہے۔ بھارت میں مہنگائی کی شرح 7.8فیصد اور بنگلادیش میں 9.9فیصد ہے جبکہ پاکستان میں مہنگائی 27فیصد کے ہندسے کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں مالیاتی خسارہ 7.5فیصد اور جاری اخراجات کا خسارہ 1.5فیصد ہے۔ بھارت میں زرمبادلہ کے ذخائر 600 ارب ڈالر اور بنگلہ دیش میں 23 ارب ڈالر ہیں جبکہ پاکستان میں زرمبادلہ کے کل ذخائر 8.7 ارب ڈالر ہیں۔ بھارت میں ڈالر کی شرح تبادلہ 83 بھارتی روپے اور بنگلہ دیش میں 109 ٹکہ کے برابر ہے جبکہ پاکستان میں انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 297 روپے ہے۔ اس معاشی تصویر کو چند ہنگامی اقدامات یا قلیل مدتی جوڑ توڑ کے ذریعے بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ معاشی ترقی اور شفاف سیاسی نظام کے تسلسل میں ناگزیر تعلق ہے۔ اس ضمن میں ہمارے کچھ ارباب وطن ہمیں سمجھایا کرتے ہیں کہ معاشی ترقی کے لیے جمہوریت لازم نہیں ۔ اس کی مثال میں سنگاپور، چین اور سعودی عرب کی مثالیں دی جاتی ہیں۔سنگاپور کی کل 55 لاکھ آبادی پاکستان کے ایک درمیانے درجے کے شہر سے زیادہ نہیں۔ سعودی عرب بنیادی طور پر کرائے کی معیشت ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کے امکانات نے سعودی معیشت اور خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کے دروازے کھول دیے ہیں ۔

وجاہت مسعود بتاتے ہیں کہ چینی معیشت بحران کا شکار ہے اور گزشتہ ہفتوں میں وہاں کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے بارے میں کچھ خبر نہیں۔ اگرچہ کسی ملک کی معاشی قدر پیمائی ہنگامی واقعات کی مدد سے نہیں کی جاتی تاہم چین کے موجودہ قائد ژی جن پنگ نے 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بدعنوانی کے خلاف بے رحم مہم چلا رکھی ہے جس میں ہزاروں نہیں، لاکھوں افراد ملوث پائے گئے ہیں۔ فیصلہ سازی کی اعلیٰ سطحوں پر اقتدار کی کشمکش سے قطع نظر کسی ملک میں اس قدر وسیع پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف بتاتا ہے کہ نظام حکومت میں اختیار اور جواب دہی کا شفاف نظام مفقود ہے۔ بھارت میں 1991ءسے سیاست اور معیشت کے دھاروں میں ایسی مطابقت پائی جاتی ہے جو تحکمانہ نظام حکومت میں ممکن نہیں۔ چنانچہ طویل مدتی تناظر میں بھارت کے معاشی امکانات زیادہ روشن ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ریاست بالخصوص کوئی طاقتور عالمی قوت اخلاقی اصولوں کی پابند نہیں ہوا کرتی۔ امریکہ ہو یا روس، بھارت ہو یا چین، عالمی بالادستی کیلئے کمزور اور زیر دست ملکوں سے کھلواڑ کیا کرتے ہیں۔چین اور روس نے مشرق اور مغرب میں کچھ چھوٹی بڑی ریاستوں کو ساتھ ملا کر عالمی صف بندی میں متوازی راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ انقلاب فرانس کے بعد سے عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ علمی جستجو، سیاسی انصاف اور معاشی ترقی کے بڑے دھارے سے انحراف کی کوئی کوشش پائیدار نہیں ہوا کرتی

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ہماری آبادی پچیس کروڑ ہے اور اس کا بڑا حصہ نوجوان ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا خمیر جمہوریت سے اٹھا ہے۔ ہمارے بانی رہنما جدید سیاسی اقدار کے علمبردار تھے۔ اس ملک کے عوام نے یکے بعد دیگرے آمریت کے مختلف تجربات کو پرامن سیاسی جدوجہد سے شکست دی ہے۔ ہمیں کسی مسیحا کے دست ِاعجاز کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اقوام عالم سے تعاون اور تجارت کے راستوں پر چلتے ہوئے ایک ذمہ دار قوم کی طرح اپنے لوگوں سے انصاف کرنا ہے۔ ہماری معیشت کے موجودہ اشاریے تابناک نہیں لیکن ہم دستور میں طے کردہ پارلیمانی جمہوریت کے راستے پر چلتے ہوئے ترقی کی منزل پا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم یہ سمجھ لیں کہ جمہور کی حکمرانی اور سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔

Back to top button