نیب زدہ احد چیمہ نے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ کیوں لے لی؟

عمران خان دور حکومت میں تین برس نیب کی حراست میں گزار کر ضمانت پر رہائی پانے والے سابق بیوروکریٹ احد چیمہ نے شہباز حکومت کی جانب سے اپنے خلاف عائد تمام الزامات اور کیسز واپس لیے جانے کے باوجود بالآخر سول سروس سے استعفی دے دیا ہے اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں احد چیمہ شہباز شریف کے ساتھ بطور قریبی رفیق کام کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے اب وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے احد چیمہ کو استعفی واپس لینے کے لیے کہا تھا لیکن وہ نہیں مانے چنانچہ وزیر اعظم نے اسے قبول کرنے کے بعد انکے خلاف عمران دور میں ہونے والی نیب کی مہم جوئی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بتایا گیا یے کہ احد چیمہ نے اپنے استعفیٰ میں حکومت پاکستان سے سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب نے ان کے خلاف سیاسی مقاصد کے تحت جھوٹ پر مبنی کرپشن کے الزامات لگائے اور تمام ادارے خاموش رہے۔ بیوروکریٹ نے اس بات پر اظہار مایوسی کیا کہ انکی گرفتاری کے بعد حکومت نے انہیں خود پر لگے الزامات کے خلاف قانونی نمائندگی یا معاونت فراہم کرنے کے بجائے لاتعلق رہنے کو ترجیح دی۔حتیٰ کہ انہیں سروس سے بھی معطل کر دیا گیا تاکہ صورت حال مزید بگڑ جائے حالانکہ ان کے خلاف الزامات کہیں ثابت نہیں ہو پائے تھے۔
احد چیمہ نے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ میں اب ایسے نظام میں نوکری کا طلبگار نہیں ہوں جہاں اچانک ایک صبح یہ الزام لگا دیا جائے کہ میں کرپٹ یا چور ہوں ، جہاں جھعٹے الزامات پر مقدمہ چلا کر مجھے تنگ کیا جائے اور جہاں قانون مجھے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو۔ ان سب واقعات نے ان اقدار کو مجروح کیا جو میری ذاتی خودمختاری اور ایمانداری سے متعلق ہیں لہٰذا میں مستعفی ہوکر سروس سے ریٹائرمنٹ کا خواہاں ہوں۔ ہاد رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں احد چیمہ کو تین سال تک جاری ٹرائل کے بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ان پر نیب نے پی ٹی آئی قیادت کے زیر سایہ تین ریفرنسز دائر کیے تھے۔
یاد رہے کہ 2018 کے الیکشن سے قبل پنجاب میں نیب کی جانب سے احد چیمہ کی پہلی ہائی پروفائل گرفتاری تھی۔ بعد میں نیب نے ان کے خلاف تین اہم انکوائریاں شروع کیں جو آشیانہ ہائوسنگ اسکیم، ایل ڈی اے سٹی اسکینڈل اور آمدن سے زائد اثاثے شامل تھے۔ انہیں تین سال حراست میں رکھنے کے بعد 2021 میں ضمانت دی گئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بھی ای اینڈ ڈی رولز کے تحت انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس دیا اور چارج شیٹ فائل کی تھی، جس میں وہی الزامات عائد کیے گئے تھے جو نیب نے اپنے ریفرنس میں دائر کیے تھے۔ حال ہی میں وفاقی حکومت کی قیادت میں شہباز شریف نے احد چیمہ کے خلاف چارج شیٹ واپس لی۔ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ احد چیمہ کے خلاف تمام زیر التواء انکوائریاں مسترد کی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ گریڈ 19 کے افسر احد چیمہ، ن لیگ دور حکومت میں لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ تھے۔ ان کی خدمات کے سبب بالخصوص لاہور میٹرو کی تعمیر میں ان کے کردار کی وجہ سے صدر پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا تھا۔ جب کہ نیب نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ ان کی ملکیت میں اپنے نام پر بے نامی منقولہ اور غیرمنقولہ جائدادیں ہیں جن کی مالیت تقریباً 60 کروڑ روپے ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کرپشن کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثے بنائے جو کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 اے فائیو کے زمرے میں آتے ہیں۔
دوسری جانب احد چیمہ نے اپنی ضمانتی پٹیشن میں الزامات کی تردید کی اور انہیں بےبنیاد قرار دیا۔ تاہم ضمانت پر رہائی کے بعد گزشتہ دنوں احد چیمہ نے سرکاری نوکری سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا جسے اب شہباز شریف نے قبول کرلیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم نے ذاتی حیثیت میں احد چیمہ کے مستعفی ہونے پر اظہار مایوسی بھی کیا اور اس بات پر افسوس کا بھی اظہار کیا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں انتقامی کاروائی کے تحت چیمہ اور ان کے گھروالوں کو بدنام کیا گیا۔
