نیب نے عثمان بزدار کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا

نیب لاہور نے تحریک انصاف کے رہنما و سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکوغیر قانونی لائسنس اورآمدن سے زائد اثاثوں میں گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
باخبر نیب ذرائع نے نیب انوسٹی گیشن ٹیم کی بریفنگ کے حوالے سے بتایا کہ عثمان بزدار کے خلاف ابھی ایسے شواہد نہیں ملے کہ گرفتار کیا جا سکے جس پر نیب ہیڈ کوارٹر نے ہدایت کی کہ 15 دنوں میں شواہد حاصل کرکے گرفتاری یقینی بنائی جائے۔
نیب لاہور نے ایل ڈی اے سمیت دیگر سوسائٹیز کو مراسلے لکھ رکھے ہیں اور ایل ڈی اے کو17 اکتوبر کو مراسلہ لکھ کر تفصیلات مانگی ہیں ، جس میں عثمان بزدار کے نام پر موجود پراپرٹی کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں جبکہ عثمان بزدار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی بھی تحقیقات شروع ہیں، سابق وزیراعلیٰ پر نجی ہوٹل کو غیر قانونی لائسنس دینے میں اثر و رسوخ استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو تفتیش کے لیے نیب لاہور میں طلب کیا جا چکا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں انہیں دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ وکیل عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔
