نیب کو حکومتی پارٹی کے لٹیرے کیوں نظر نہیں آتے؟

اگرچہ پچھلے دو عشروں کے دوران آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں درجنوں اپوزیشن رہنماوں اور بیوروکریٹس کو گرفتار کیا گیا لیکن آج تک کسی سیاستدان کے خلاف نیب اب تک آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزامات نہ تو عدالت میں ثابت کر پایا ہے اور نہ ہی مبینہ کرپشن سے کمائی جانے والی رقم برآمد کر کے سرکاری خزانے میں ڈالی سکا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ بیرون ملک سیاستدانوں کے مبینہ اثاثے ڈھونڈنے کے چکر میں حکومت پاکستان کو ایک برطانوی فارم کو ساڑھے سات ارب روپے سے زائد کا جرمانہ بھرنا پڑ گیا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیب یکطرفہ احتساب کیے چلے جا رہا ہے جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے خلاف کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کے درجنوں کیسز پچھلے کئی سالوں سے زیر التوا ہیں۔
یاد رہے کہ اب تک سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دی جانے والی سزا کے علاوہ کسی سرکاری عہدیدار یا سیاستدان کو تاحال اس قانون کے تحت سزا نہیں ہو پائی، میاں صاحب کو بھی اقامہ رخھنے پر سزا صرف اس لئے سنائی گئی کیونکہ انہیں ہر حال سیاست سے آوٹ کرنا مقصود تھا۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سےحال ہی میں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری کے بعد نیب کی تحویل میں رہنے والے اپوزیشن رہنماؤں کی طویل فہرست میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس سے قبل شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے زیادہ تر رہنما آمدن سے زائد اثاثوں اور دیگر کیسز میں نیب کی قید بھگت چکے ہیں جبکہ پارٹی کے اکثر رہنماؤں کے خلاف نیب کیسز جاری ہیں اور لوگ ضمانتوں پر ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنما، سلیم مانڈوی والا، انجینیئر امیر مقام، کیپٹن (ر) صفدر اور ایم این اے جاوید لطیف بھی نیب کے ریڈار پر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے بودے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تاہم کسی ایک پر بھی جرم ثابت نہ وہسکا جس کے نتیجے میں بہت سے رہا ہوگئے اور بعض کے خلاف ابھی تک ریفرنس بھی داخل نہں ہوسکا۔
جب سے وزیراعظم عمران خان حکومت میں آئے ہیں، نیب کے ذریعے دو سابق وزرائے اعظم، اور ایک وزیراعلیٰ سمیت درجن بھر سیاسی رہنما گرفتار کیے گئے جن میں سے اکثر اب رہا ہو چکے ہیں۔ تاہم نیب کے ریڈار پر اب بھی درجنوں سیاستدان ہیں جن کے خلاف تحقیقات مختلف مراحل پر ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں۔نیب کیسز کا سامنا کرنے والے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں میں پارٹی کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کے علاوہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، حمزہ شہباز، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مفتاح اسماعیل، خواجہ آصف، کیپٹن صفدر شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پر آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریفرنسز ہیں۔نیب کیسز کا سامنا کرنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں سابق صدر آصف زرداری ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو، سابق صدر کی بہن فریال تالپور، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم پرویز اشرف، خورشید شاہ اور آغا سراج درانی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے درجنوں رہنما پہلے بھی قومی نیب کے کیسز کا سامنا کر رہے تھے مگر جب سے اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے خلاف اپوزیشن نے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے اپوزیشن کے مزید رہنماؤں کو بھی نیب کی طرف سے تحقیقات کے نوٹسز ملنا شروع ہو چکے ہیں۔حال ہی میں نیب نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف ریفرنس کی منظوری دی ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن کو بھی نیب پشاور کی جانب سے نوٹس مل چکا ہے۔ اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں انجینیئر امیر مقام اور جاوید لطیف کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیب خیبر پختونخوا ذرائع کے مطابق انجینیئر امیر مقام کی مستقبل میں گرفتاری کو خارج ازمکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکے خلاف نیب خیبر پختونخوا میں آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس چل رہا ہے۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف بھی نیب راولپنڈی نے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن خالد سجاد کھوکھر کی تقرری کے کیس میں تفتیش شروع کر رکھی ہے۔
دوسری جانب نیب کا دعویٰ ہے کہ اس وقت بھی وفاقی کابینہ کے رکن غلام سرور خان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق وزیر صحت عامر کیانی کے خلاف ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے کیس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کے خلاف وزارت کی عمارت غیر قانونی طریقے سے اپنے دوست کو ہائرنگ پر دینے کے کیسز بھی زیر تفتیش ہیں۔ نیب کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی وزرا ایک بار بھی نیب میں تفتیش کے لیے طلب نہیں کیے گئے۔ نیب ذرائع کے مطابق مالم جبہ کیس اور ہیلی کاپٹر کیس اس وقت صوبائی دفتر سے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل ہو چکا ہے تاہم اس پر کارروائی سردخانے کی نذر ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی اتحادی اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے خلاف بھی نیب کیس میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کیسز کا سامنا کرنے والے حکومتی رہنما جن میں وزیراعظم اور کابینہ کے بعض ارکان بھی شامل ہیں فی الحال گرفتاری کے خطرے سے محفوظ نظر آتے ہیں۔
جہاں اپوزیشن رہنما یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ حکومت نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے وہیں نیب کی جانب سے تواتر کے ساتھ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ احتساب بیورو فیس یعنی چہرہ نہیں کیس دیکھتا ہے اور تمام تر اقدامات ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ترجمان بھی یہی موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف نیب کیسز ان کی مبینہ کرپشن کا نتیجہ ہیں اور حکومت کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔گو یہ درست ہے کہ نیب نے جتنی تعداد اور تواتر سے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اس کا موازنہ ادارے کی حکومتی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں سے نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ کہنا غلط ہو گا کہ نیب نے کسی بھی حکومتی رہنما کے خلاف انکوائری نہیں کی۔نیب کے صوبائی دفاتر نے متعدد حکومتی رہنماؤں کے خلاف بھی انکوائریاں کی ہیں اور ان میں چند گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم ابھی تک جس بڑے پیمانے پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں نظر آئی ہیں اس سطح کی کارروائیاں حکومتی ارکان کے خلاف نظر نہیں آئیں۔پی ٹی آئی سے متعلقہ مشہور زمانہ مالم جبہ کیس، بی آر ٹی کیس اور عمران خان ہیلی کاپٹر کیس پر تو خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی چند نئے کیسز وفاقی وزرا کے خلاف سامنے آئے مگر اس میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ نیب کے پی میں مالم جبہ کیس پر بھی تحقیقات ہوئیں جس میں مبینہ طور پرسابق وزیراعلیٰ کے پی اور موجود وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا بھی نام ہے۔ تاہم ان تمام کیسز میں گرفتاری سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ احتساب کا عمل یکطرفہ ہے۔
سیاسی جماعتوں کی طرف سے نیب کو آمدن سے زائد اثاثوں کے قانون کے حوالے سے حکومت کے سیاسی مخالفین کے خلاف جانبدارانہ کارروائی کے لیے استعمال کیے جانے یا پھر غیر سیاسی قوتوں کی جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیے جانےکے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنمائوں کا کہنا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کا قانون اتنا مبہم ہے کہ اسے نیب کے ذریعے سیاسی مخالفین یا غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی جرم نہ بھی ہو تو اس قانون کے تحت نیب کے ذریعے اندر کروادیا جاتا ہے۔ حال ہی میں لیگی رہنما خواجہ آصف بھی اسی مقصد کے لئے آمدن سے زائد اثاثوں والے متنازع قانون کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔
