نیب کی توپوں کا رخ اب شاہد خاقان عباسی کے بیٹے کی طرف

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف این ایل این جی ریفرنس میں الزامات ثابت کرنے میں ناکامی کے پیش نظر اب نیب نے اپنی توپوں کا رخ ان کےبیٹے عبداللہ عباسی کی جانب موڑتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ سے اربوں روپوں کی منتقلیاں ہوئیں جن کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔
قومی احتساب بیورو نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبد اللہ عباسی کے تین بینک اکاونٹس سے ایک ارب 20؍ کروڑ روپے کی مشکوک منتقلیاں ہوئیں۔ الزام کے مطابق جعلی کمپنیوں کے 5؍ اکائونٹس ٹریول روٹرز (ملکیتی عبداللہ عباسی /سعودی عباسی)، بلو واٹر (ملکیتی عبداللہ عباسی اور مومن علی خان) اور پیورا بلڈرز (ملکیتی عبداللہ عباسی) کی چھان پھٹک کی جارہی ہے جن میں 24؍ کروڑ 20؍ لاکھ روپے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیب کے دعوے کے مطابق عبداللہ عباسی کے کوئی آزاد ذرائع آمدن نہیں ہیں۔ 2015ء سے 2019ء کے درمیان واجب الادا مجموعی ایک ارب 60؍ کروڑ میں سے ایک ارب 10؍ کروڑ روپے عبداللہ عباسی نے نکلوائے۔
یہ نئی پیش رفت شاہد خاقان عباسی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کئے جانے کے چند دنوں بعد ہی سامنے آئی ہے۔ جب نیا ترمیمی نیب آرڈیننس سرکاری طور پرنافذ العمل ہوگیا ہے۔ احتساب عدالت میں پیش نیب تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان اور ان کے خاندان کے ارکان نے غیر قانونی طور پر حاصل رقوم کو رکھنے کے لئے فرنٹ مین اور جعلی کمپنیاں استعمال کیں۔
نیب کے مطابق شاہد خاقان عباسی، ان کی اہلیہ ثمینہ شاہد، بیٹے عبداللہ عباسی، برادر نسبتی ڈاکٹر جہاں زیب قریشی، بہن سعدیہ عباسی اور عابد ریاض نے فروری 2015ء سے نومبر 2019ء کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب 53؍ کروڑ روپے کریڈٹ / ڈیبٹ کئے۔ دو کروڑ 23؍ لاکھ روپے شاہد خاقان عباسی کے اے بی ایل اسلام آباد برانچ کے اکائونٹ سے ملے۔ شاہد خاقان عباسی کے رشتہ داروں عابد ریاض اور سعدیہ عباسی کے چار اکائونٹس میں 30؍ کروڑ 60؍ لاکھ اور ڈاکٹر جہاں زیب قریشی کے اکائونٹ میں 7؍ کروڑ 40؍ لاکھ روپے کریڈٹ کئے گئے۔ ایئر بلو ائیر لائینز کے کھاتوں کی بھی جانچ پڑتال ہورہی ہے۔ عبداللہ عباسی جنہیں نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے تین بار طلب کیا، نے نیب کے عائد کردہ الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ تو کوئی غیر قانونی کاروبار کیا اور نہ ہی وہ کسی غیر اعلانیہ کمپنی کے مالک ہیں۔ بلو واٹر اور ٹریول روٹرز کے بارے انکا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کا تو انہوں نے اپنے گوشواروں میں بھی ذکر کیا ہےجبکہ ان میں سے زیادہ تر رقوم انہیں اپنے والد کے اکائونٹ سے گفٹ کی صورت ملی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تمام اثاثوں کی تفصیلات نیب کو دے دی گئیں جو کسی غلط کاری کا سراغ نہیں لگا سکا۔
دوسری طرف نیب کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرا ایل این جی ٹرمینل کسی طلب کے بغیر عجلت میں قائم کیا گیا جس سے وائٹ کالر کرمنلز کو مال بنانے کا موقع ملا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک نے نیب کو اپنی خفیہ رپورٹ میں کہا کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے اکائونٹس سے 44؍ کروڑ 30؍ لاکھ روپے کی غیر معمولی منتقلی ہوئی۔ تاہم یاد رہے کہ مفتاح اسماعیل کو پہلے ہی عدالت کی طرف سے ان الزامات کے باوجود ضمانت دی جا چکی ہے۔
