نیو اسلام آباد ائیر پورٹ نےFWO کی کارکردگی کا پول کھول دیا

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ہاتھوں تعمیر شدہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی ناقص کارکادگی کا پول اس وقت ایک مرتبہ پھر کھل گیا جب حالیہ بارشوں کے باعث اسکی چھت کی سیلنگ جگہ جگہ سے فرش پر آ گری۔ اسلام آباد ائیرپورٹ کے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک ڈیپارچرلاؤنج کی چھت کی سیلنگ گرنے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا ہر وائرل ہے جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ایئر پورٹ کی سیلنگ گرتے ہی بارش کا پانی بھی دونوں لاؤنجز میں داخل ہوگیا۔
یاد رہے کہ یہ دونوں لاؤنج بھی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے تعمیر کیے تھے لیکن 105 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے مکمل ہونے والے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے آپریشنل ہونے کے دو سال بعد بھی مسائل ختم نہ ہوسکے۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا پر اسلام آباد ایئرپورٹ کی عمارت کے اندر گھٹنوں گھٹنوں پانی داخل ہونے کے مناظر وائرل ہوئے تھے۔ اب سوشل میڈیا پر وائرل اسلام آباد ایئرپورٹ کی ایک تازہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بارش کے دوران کیسے ایئرپورٹ کی چھت اور اس کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بارش سے ہونے والے نقصان کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسلا دھار بارش سے ایئر پورٹ کی چھت کو نقصان پہنچا ہے اور اس حوالے سے تین روز میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
اسلام آباد ایئر پورٹ مینجر کے مطابق مسافر ٹرمینل کی چھت کے اوپر بارش کا پانی جمع ہونے سے پانی لیک ہوا اور سیلنگ کو نقصان پہنچا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کی چھت اور سیلنگ کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے کئی تجاویز زیر غور ہیں جیسے متعدد پائپس کے ذریعے بارش کے پانی کو چھت پر جمع ہونے سے روکا جائے یا چھت پر نکاسی آب کا مکمل ڈیزائن تبدیل کیا جائے گا۔
اسلام آباد ائیر پورٹ کی حالت زار کی ویڈیو کے ردعمل میں لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی ہے۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں اس معاملے پر مسلم لیگ نواز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بارش میں یہ عمارت کسی نہ کسی جگہ سے بھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ان سے کوئی ادارہ سوال کرے گا تو جتھہ لے کر اس پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ آخر رشتے داروں کا اتنا حق تو بنتا ہے۔ تاہم شہباز گل شاید یہ بھول گئے کہ اسلام آباد ائیرپورٹ کی جو سیلنگ نیچے گر رہی ہے وہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے بنائی تھی۔
گلوکار فخر عالم نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی یہ حالت دیکھ کر انہیں دُکھ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایک ملک کے دارالحکومت کا ایئر پورٹ اس کا پہلا اور آخری تاثر ہوتا ہے۔ ایک ملک جو سیاحت کا فروغ چاہتا ہے اس کےلیے یہ پہلا تاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ مناظر اسلام آباد کے اس انٹرنیشل ائیر پورٹ کے ہیں جس کو تیار ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور چھت یوں ٹپک رہی ہے جیسے سو سال پرانا ایئر پورٹ ہو۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ اس ایئر پورٹ کے کنٹریکٹر، انجینئر اور افسران کو بلیک لسٹ کر دینا چاہیے۔ ایک صارف نے ان کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ کرپشن کا مینہ برس رہا ہے۔ ایک دوسرے صارف کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ اے سی سسٹم ہو سکتا ہے جس کی شاید صحیح مرمت نہیں ہوئی۔ تحقیقات کے بغیر کسی پر الزام ڈالنا درست نہ ہوگا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی ناقص تعمیرات کی انکوائری 2 سالوں سے جاری ہے لیکن تاحال کوئی نتیجہ خیز کارروائی سامنے نہیں آئی۔ یہ ائیرپورٹ 105ارب روپے سے زائد کی لاگت میں 10 سال کے طویل عرصے کے بعد عجلت میں مکمل کیا گیا تھا۔ (ن) لیگ کی حکومت میں 20 اپریل 2018ء کو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس کا افتتاح کیا تھا ۔
