کیا جنید جمشید نے خفیہ طور پر تیسری شادی بھی کر رکھی تھی؟

اپنی دوسری بیوی کے ہمراہ ایک طیارہ حادثے میں گزر جانے والے جنید جمشید کی تیسری بیوی نے مرحوم شوہر کی جائیداد سے حصہ لینے کے لئے سندھ ہائیکورٹ میں انکی پہلی بیوی اور بچوں کے خلاف کیس دائر کردیا ہے۔ وراثت میں اپنا حصہ مانگنے والی اسلام آباد کی رہائشی رضیہ مظفر کا مؤقف ہے کہ مرحوم نے ان سے 2009 میں نکاح کیا تھا اور وہ سات سال سے جنید جمشید کے عقد میں تھیں۔
چار سال قبل 2016 میں خیبر پختونخوا کے علاقے حویلیاں میں پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرنے کے نتیجے میں دیگر درجنوں افراد کے ساتھ پاکستان کے معروف سابق پاپ سنگر اور کاروباری شخصیت جنید جمشید بھی اہنی دوسری بیوی کے ہمراہ اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد یہ انکشاف ہو اتھا کہ جنید جمشید نے دو شادیاں کررکھی تھی کیونکہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی ایک جواں سال خاتون نیہا کی شناخت جنید جمشید کی دوسری بیوی کے طور پر ہوئی تھی۔ اب جنید جمشید کے وصال کے چار برس بعد ان کی تیسری بیوی ہونے کی دعویدار ایک خاتون منظر عام پر آئی ہیں۔ جنید جمشید مرحوم کی مبینہ بیوی نے جنید جمشید کی پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے چار بچوں پر اپنا وراثتی حق غصب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے داد رسی کے لئے رجوع کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ جنید جمشید گلوکاری چھوڑنے کے بعد مولانا طارق جمیل کے بتائے ہوئے تبلیغ کے راستے پر چل نکلے تھے۔ نعت خوانی اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ انہوں نے جے ڈاٹ کے نام سے ریڈی میڈ کپڑوں کا بڑا بزنس بھی شروع کر رکھا تھا اور آج اس برانڈ کی برانچز ملک کے تمام بڑے شہروں میں پھیل چکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس بزنس سے جے ڈاٹ کی کروڑوں روپے ماہانہ کی کمائی ہے جس میں سے اب جنید جمشید کی مبینہ تیسری بیوی نے بھی حصہ مانگ لیا ہے۔
خاتون کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس جنید جمشید کے ساتھ نکاح کا دستاویزی ثبوت بھی موجود ہے جو وہ عدالت میں پیش کریں گی۔رضیہ کا مؤقف ہے کہ مرحوم جنید جمشید کی پہلی بیوی کی جانب سے ان کے وراثتی حقوق سے انکار کیا جارہا ہے۔ مدعی خاتون نے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ جنید جمشید کی بیوہ ہیں جنہوں نے 20 اکتوبر 2009 کو مرحوم سے شادی کی تھی۔ رضیہ کا موقف ہے کہ جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو طیارے کے حادثے میں المناک موت سے قبل تک ہر ماہ خرچہ دے کر ان اخراجات برداشت کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنید جمشید کے بیٹے اور ان کی پہلی بیوی کے بچوں نے ان کی وراثتی حقیقت کو چھپا کر عدالت سے دھوکہ دہی سے جانشینی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا اور اب اسے مرحوم کی پہلی شریک حیات عائشہ جنید کی طرف سے وراثت کے حق دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق جنید نے کروڑوں روپے مالیت کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد چھوڑی جس میں ان کا شرعی اور قانونی طور پر حصہ بنتا ہے۔لہذا انہوں نے مجبور ہو کر اپنے حق کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
مدعی نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ وہ شرعی قوانین کے مطابق مرحوم جنید جمشید کی جائیداد میں سے ان کو وراثت کا حصہ عطا کریں اور تمام ورثاء کے درمیان جائیداد کی تقسیم اور منتقلی کی ہدایت کرے۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں ایس ایچ سی کے سنگل بنچ نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے بعد ورثاء کو 2 ستمبر 2020 کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔
خیال رہے کہ گلوکاری سے تائب ہوکر نعت خواں اور تبیلغی بن جانے والے جنید جمشید نے پسماندگان میں تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو چھوڑا تھا۔ جب جنید طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے تو ان کی پہلی بیوی اور چاروں بچے کراچی میں موجود تھے۔ اس بات کی تصدیق جنید جمشید کے بھائی ہمایوں جمشید نے کی تھی تاہم ہمایوں جمشید نے طیارے میں جنید جمشید کے ساتھ موجود خاتون نیہا کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا تھا۔ جنید جمشید کے قریبی حلقوں کے مطابق جنید جمشید نے دو شادیاں کی تھیں اور طیارے میں ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والی نیہا جمشید ان کی دوسری اہلیہ تھیں۔ تاہم ان کی مبینہ تیسری بیوی کے حوالے سے آج سے چند ماہ پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت رضیہ کی جانب سے جنید جمشید کی اہلیہ ہونے کا دعویٰ تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔
