ن لیگی قیادت کی عوام کو ماموں بنانے کی ناکام کوشش

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرنے کے بعد لیگی قیادت کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس شرمندگی کو مٹانے کے لئے ن لیگ نے توسیع بل پر قانون سازی کو لٹکانے کی کوششیں شروع کردی ہیں جو دائرے میں گھومنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن لیگی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کے دور میں عوام کو ماموں بنانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے.
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت نے پارٹی قائد میاں نواز شریف کی ہدایات کے مطابق مسلح افواج کے سربراہان بالخصوص جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کو پندرہ جنوری تک لٹکانے کی کوششیں تیز کردی ہیں تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکالنے کے لئے تھوڑا مزید وقت مل جائے گا اور یہ تاثر مضبوط نہ ہونے پائے کہ پارلیمان نے اس تاریخی بل کو بغیر سوچے سمجھے منظور کرلیا۔
لیگی ذرائع کے مطابق یہ بل اگلے ہفتے کے اختتام سے کچھ پہلے پارلیمان سے پاس ہو جائے گا جو کہ نواز شریف کی دی گئی تاریخ سے دور نہیں۔ اسی مخصوص وجہ سے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس جو ہفتے کو ہونا تھے، انہیں ملتوی کردیا گیا جیسا کہ ن لیگ نے واضح کیا تھا کہ اس عمل کو وقت دیا جانا چاہئے اور جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ ان کا موقف تھا کہ ہم نے عوامی سیاست کرنی ہے اور ماضی میں ہم توسیع کی مخالفت کرتے رہے ہیں لہذا چیف کی توسیع کے معاملے پر قانون سازی باعزت طریقے سے کی جانی چاہیے تاکہ عوام میں نون لیگ کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توسیع بل کے معاملے میں مسلم لیگ نون کی قیادت کی جانب سے غیر مشروط حمایت کے اعلان کے بعد نون لیگ کے اندر شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی لیگی قیادت پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ سے ڈیل کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جہاں تک نون لیگ کے بیانیے کے نقصان کا تعلق ہے تو سخت گیر اور اعتدال پسند دونوں کے سرگرم ارکان متفق ہیں کہ اسکی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ بعض لیگی رہنماؤں کے خیال میں لندن میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے بعد شریف برادران نے جو بھی فیصلے لئے ہیں وہ پارٹی پر ایک خودکش حملے سے کم نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں مسلم لیگ نون اب ایک روایتی جماعت بن گئی ہے اور اس کی حیثیت محض ’ق‘ لیگ جیسی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ توسیع بل کی غیر مشروط حمایت کرکے ایک ہی جھٹکے میں ں لیگ نے اپنی شناخت کھودی ہے۔ پاکستان میں موجود لیگی رہنماؤں کے مطابق اس فیصلے کا دفاع ان کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں ہے۔ ایک اہم لیگی رہنما کے بقول سیاستدان کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب وہ قید و بند کی سختیوں کے دباؤ سے بھی نہیں ٹوٹتا لیکن پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک مخصوص سیاسی ٹولے کے زیر اثر آ کر ٹوٹ جاتا ہے۔
اس ٹولے سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کا نقصان عارضی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ ان کے خیال میں یہ نقصان ایک بلبلے جیسا ہے جو جلد ہی پھٹ جائے گا۔ تاہم یہ لوگ شاید بھول گئے کہ آج کے دور میں عام عوام کو ماموں بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت نے توسیع سے متعلق قانون سازی میں اپنا غیرمشروط کردار ادا کرنے کے حوالے سے جو تاریخی یوٹرن لیا، اس سے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا ہوگیا ہے۔ اس معاملے پر ہزیمت کا شکار ہونے کے بعد لیگی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ پارٹی رہنماؤں اور ہمدردوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کچھ ایسا کرے جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ بلاوجہ توسیع کی حمایت نہیں کررہی بلکہ یہ کڑوا گھونٹ وسیع تر قومی مفاد اور پارٹی کے بہترین مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے پینا پڑرہا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون نے غیر مشروط حمایت کا لفظ استعمال کرکے خود کو جس حصار میں مقید کر لیا ہے اب لاکھ کوشش کے باوجود اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔
