آرمی چیف کی توسیع پر ن لیگ کی ڈبل گیم پکڑی گئی

مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ترمیمی بل کی ’’غیر مشروط حمایت‘‘ پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ن لیگ کی قیادت نے اپنے حتمی موقف کے حوالے سے کنفیوژن کی فضا پیدا کر دی ہے اور کھل کر نہیں بتایا جارہا کہ آیا ترمیمی بل کی حمایت کی جائے گی یا نہیں ؟ تاہم ن لیگ کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے آرمی چیف کی توسیع کی حمایت کا فیصلہ تین ہفتے پہلے ہی لندن میں 7 دسمبر کو ہونے والے نون لیگ کے اعلی سطحی مشاورتی اجلاس کے دوران کر لیا تھا جسے خفیہ رکھا گیا۔ اب اس معاملے پر ن لیگ کے بدلتے موقف ڈرامہ بازی سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ ترمیم کی حمایت کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ توسیع کے معاملے پر پہلے ن لیگی قیادت نے باقاعدہ اعلان کیا کہ ترمیمی بل کی حمایت کی جائے گی لیکن پھر سوشل میڈیا پر سخت عوامی ردعمل آنے کے بعد نواز شریف اور مریم کے حوالے سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ ترمیمی ایکٹ کے مخالف ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باقاعدہ اعلان یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور ایک کنفیوژن کی فضا ہے جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ن لیگ ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت نے مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر صورت توسیع بل کی حمایت کی پالیسی اختیار کی ہے لیکن اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے لئے تھوڑا ڈرامہ ضرور کیا جائے گا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے خواجہ آصف کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر ترمیم سے متعلق دستوری عمل عجلت میں مکمل کیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ترمیمی بل کے حق میں ووٹ نہیں دے گی۔ خواجہ آصف سے کہا گیا کہ وہ یہ بات صاف طور پر حکومت پر واضح کردیں۔
ذرائع کے مطابق اس پیغام کا اصل مقصد ن لیگ کو پہنچنے والے سیاسی نقصان کا ازالہ ہے اور یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش ہے کہ لیگی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ خط میں نواز شریف نے دونوں ایوانوں کے متعلقہ کمیٹیوں میں بل پر تفصیلی غور و خوض کے لئے ٹائم فریم بھی تجویز کیا تھا جس کے بعد بل پر بحث ہوتی اور پھر اس کی منظوری لی جاتی جو 15 جنوری سے قبل نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ بقول ن لیگی قیادت، ہم پارلیمنٹ کے وقار پر سمجھوتہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نے مؤقف اپنایا کہ اتنے اہم بل پر پارلیمنٹ ربر اسٹیمپ بنتی ہوئی نظر نہیں آئی چاہئے اور یہ کہ ترمیم کے حق میں ووٹ غیر مشروط نہیں ہوگا۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ نواز شریف کا یہ پیغام آنے کے بعد حکومت نے مذکورہ ہدایات کو مسترد کرتے ہوئے آئندہ بدھ کو ترمیمی بل کی منظوری کی ڈیڈ لائن دے دی اور بتایا کہ بل دونوں ایوانوں سے منظور کرالیا جائے گا۔ دوسری طرف اہنا مطالبہ پورا نہ ہونے پر بل کے حق میں ووٹ نہ دینے کی بات پر قائم رہنے کی بجائے لیگی قیادت نے حکومتی ٹائم فریم کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اب پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے لئے شیڈول میں بدھ تک کی توسیع کردی گئی ہے جس میں دونوں ایوانوں کی متعلقہ کمیٹیاں شامل ہیں۔ حکومتی شیڈول پر جانے کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ن لیگ ایک مرتبہ پھر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے کیونکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا قبل ازیں موثقف تھا کہ اگر ترمیمی بل پر ووٹنگ 15 جنوری سے قبل ہوئی تو وہ اس میں حصہ نہیں لے گی۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کی جانب سے منہ چھپانے کی ایک اور حکمت عملی یی اختیار کی گئی ہے کہ ناراض ارکان کو پارلیمنٹ کے اندر و باہر خوش کردیا جائے جہاں پارٹی ارکان کی اکثریت ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دے گی وہیں چند ارکان احتجاج کی علامت کے طور پر غیر حاضر رہیں گے۔ شاید یہ کھوج لگانے والی آنکھوں کو دھوکہ دیں اور یہ تاثر دیا جائے کہ پارٹی اس معاملے پر تقسیم ہوگئی ہے۔ یہ تائثر بھی دیا جائے گا کہ سخت گیر رہنما نواز شریف کی ہدایات پر چل رہے ہیں اور شہباز شریف کا ساتھ دینے والے حقیقت پسندوں نے ان سے لاتعلقی اختیار کرلی ہے۔
قبل ازیں غیر مشروط حمایت کے معاملے پر کنفیوژن پیدا ہوگئی تھی کیونکہ خواجہ آصف کا اس بات پر زور تھا کہ پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے و یسا ہی کیا جیسا نواز شریف نے کہا۔ اس فیصلے کے بارے میں دعوہ کرنے کے معاملے میں وہ غلط نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ تو ایک ماہ قبل لندن میں 7 دسمبر کو پارلیمانی مشاورتی گروپ کے ارکان سے ملاقات میں کر لیا گیا تھا۔ توسیع کے لیے ترامیم کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے خود کیا بشمول نواز شریف جس کی بنیادی وجہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لندن میں ہونے والے مذاکرات تھے۔
لہذا اس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ میاں برادران اسٹیبلشمنٹ کو دی گئی اپنی کمٹمنٹ سے پھرتے ہوئے ترمیمی بل گی مخالفت کریں گے۔
