جوتے پالش کرنے سے انکار اور پھر اقرار کی کہانی

ماضی قریب میں نیب کی حراست کے دوران عدالت میں پیشی کےموقع پر جوتے پالش نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرنے والی مریم نواز اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور صارفین ان کے جوتے صاف کرنے سے انکار کے ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ جوتے ہی صاف کرنے تھے تو پہلے انکار کیوں کیا۔
جوابی طور پر مریم نواز کے میڈیا سیل نے اب یہ خبریں چلانا شروع کر دی ہیں کہ نواز شریف کی صاحبزادی ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہیں اور وہ بوٹ کو عزت دینے والوں کے ساتھ نہیں ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف نے مریم نواز کا دباؤ قبول کرتے ہوئے اپنی جماعت کے ممبران قومی اسمبلی کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی حمایت کی بجائے اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہ ہوں۔
تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان نون لیگ کے کسی رہنما کی طرف سے نہیں آیا اور یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ ایسی خبریں صرف فیس سیونگ حربے ہیں تاکہ مریم نواز کے سیاسی مستقبل کو بچایا جا سکے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت پر سوشل میڈیا صارفین کے مابین ووٹ کو عزت دو یا بوٹ کو، پربحث تو جاری ہے مگر موقع کی مناسبت سے اب اس ٹرینڈ میں سامنے آنے والی ویڈیوز بھی خاصی دلچسپ ہیں اور وائرل ہوتی نظر آرہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں مریم نواز یہ کہتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں کہ اقتدار میں آنے کا آسان راستہ مجھے بھی بہت اچھی طرح آتا ہے۔ اس راستے میں صرف ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں اور اپنی عزت نفس کی قربانی دے کر جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں۔ مریم نواز کے الفاظ کے پیش اب نظر تو یہی آتا ہے کہ شریفوں نے اسی بیانیے کے مطابق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔
ن لیگی قیادت نے اپنے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس وہ آسان راستہ اپنا لیا ہے جس کی ماضی قریب میں مخالفت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو نہ صرف اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل ہونا پڑا بلکہ جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ مریم نواز کی ایک اور ویڈیو بھی خاصی وائرل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا کہ ’آپ کو کیا لگتا ہے ڈان لیکس کی وجہ سے آپ کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگتیں؟ جس کے جواب میں مریم نواز کہتی ہیں کہ ’میں جوتے پالش نہیں کرتی اور میں اس کو برا سمجھتی ہوں شاید اس لیے وہ لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔‘
مریم نواز کے یہ کلپس سوشل میڈیا پر آرمی ایکٹ کے حوالے سے چلنے والے تمام ٹرینڈز میں شیئر کئے جا رہے ہیں۔ جس پر سوشل میڈیا صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
ٹوئٹر صارفین کا لیگی قیادت کےآرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ن لیگ کے ووٹرز کے لیے شرمندگی کا مقام ہے جو ووٹ کو عزت دو کے جھنڈے تلے جھوٹے لوگوں کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتیں جو آرمی ایکٹ مین ترمیم کی حمایت کر رہی ہیں وہ اس قوم پر مذید 50 برس تک بوٹوں کی بادشاہی کا راستہ ہموار کر رہی ہیں اور تاریخ میں ان کا نام سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔
ایک صارف نے اس صورتحال کو اقبال کے ایک شعر میں ترمیم کرکے اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے:
خان و مولانا و شریف و بھٹو ایک ہوئے
اس کے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
کئی ٹوئٹر صارفین نے کسی مخصوص جماعت کو تنقید کا نشانہ بنائے بغیر بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیلیفون کالز اور خفیہ ملاقاتوں کے بعد اب سیاسی جماعتوں کے رہنما وفاداری کا امتحان پاس کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں تاکہ اپنے اصل آقاؤں کو کورنش بجا لائیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اب سیاستدان کس منہ سے ججز سے شکوہ کریں گے کہ ججز ہمیشہ جنرلز کو ایکسٹینشن دے دیتے ہیں۔ فرق صرف آئینی اور غیر آئینی کا ہے باقی بندہ وہی ہے۔ طاقت کا نشہ وہی ہے۔ اقتدار کا طول بھی وہی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ایک بات تو طے ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کر کے لیگی قیادت نے کمال مہارت سے ملک میں برسنے والے تمام تنقیدی تیروں کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ نون کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ تھا جس کی بنیاد پر اس نے پچھلا الیکشن بھی لڑا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button