ترمیم پر اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ مذاکرات لندن میں ہوئے

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے تمام معاملات لندن میں موجود شریف برادران سے پس پردہ ملاقاتوں میں طے کیے اور نون لیگ کی حمایت کی یقین دہانی مل جانے کے بعد ایک حکومتی وفد نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں صرف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت سے اسلام آباد میں ملاقات کی تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ ترمیم کا معاملہ حکومت اور نون لیگ کے مابین مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ لندن مذاکرات کے دوران آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے نون لیگ کی حمایت کے بدلے شریف برادران کو یہ یقین دھانی کروائی گئی ہے کہ ان کے خلاف زیر سماعت کرپشن کے مقدمات میں ریلیف فراہم کیا جائے گا اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا معطلی کے لیے اپیل پر بھی کوئی مثبت فیصلہ آجائے۔ ذرائع تو یہ بھی کہتے ہیں کہ لندن میں اسٹیبلشمنٹ اور شریف برادران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں مستقبل کے حکومتی سیٹ اپ کے بارے میں بھی بہت سے اہم معاملات طے ہوگئے ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ توسیع کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد وزیراعظم عمران کو تحریک عدم اعتماد یا الیکشن کمیشن کے ذریعے گھر بھجوا دیا جائے اور اقتدار کا ہما دوبارہ سے شریف خاندان کے کسی فرد کے سر پر بٹھا دیا جائے جبکہ شریف برادران کے قریبی ذرائع اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر یوٹرن لے کر بوٹ کو عزت دینے سے نون لیگی قیادت کی ساکھ کو کوئی بڑا نقصان پہنچے گا۔ میاں برادران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلی حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک میں سیاسی تبدیلی اب عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ صرف اور صرف عسکری سپورٹ سے آتی ہے لہذا اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف جدوجہد جاری رکھنا اب لاحاصل ہے اور نتیجہ یہی نکلا ہے کہ اگر پاکستان میں کامیاب سیاست کرنی ہے تو وہ اقتدار کی سیاست ہے جو فوج کی اطاعت گزاری کے بغیر نہیں مل سکتا اور اگر مل بھی جائے تو چھن جاتا یے اور شہباز شریف کے بعد اب یہ بات میاں نوازشریف کو بھی بہت اچھی طرح سمجھ میں آچکی ہے خصوصا دو مرتبہ اقتدار سے نکالے جانے اور پھر جیل بھگتنے کے بعد۔
چنانچہ لندن مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے حکومتی بل کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کردیا جوکہ بلاول بھٹو کے لیے بھی حیران کن تھا کیونکہ اگر نون لیگ ترمیم کے خلاف کھڑی ہو جاتی تو شاید پی پی پی پی والے بھی سخت موقف اپنا لیتے ہیں۔ ن لیگی ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں کے لندن میں مقتدر حلقوں سے تفصیلی مزاکرات ہوئے جن کے بعد نواز شریف نے یہ فیصلہ کیا کہ پارلیمان میں آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی حمایت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مریم نواز کوبھی لاہور سے ان کی جاتی امراء رہائش گاہ سے کانفرنس کال کے ذریعے مشاورت میں شامل کیا اور ان کے تحفظات دور کیے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کو یہ توقع تھی کہ مریم نواز جماعت کے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت دکھائیں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ’مسلم لیگ کو موجودہ سیٹ اپ میں یا پھر نصف مدتی انتخابات کے ذریعے شریک اقتدار کیا جا سکتا ہے۔ اس کا انحصار آنے والے چند ماہ کی سیاسی و معاشی صورت حال پر منحصر ہے۔
مسلم لیگ ن اس مبینہ ڈیل کے تحت اپنے بیانیے میں نرمی پیدا کرے گی کیونکہ اس کا ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ مبینہ طور پر عسکری قیادت کی سیاست میں مداخلت کے خلاف تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے پہلے ایک ابتدائی ڈیل شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کی تھی جس کے نتیجے میں نواز شریف ملک سے باہر گئے، شہباز شریف ملک سے باہر گئے اور مریم نواز کو رہا کیا گیا۔
تاہم کڑوا سچ تو یہ ہے کہ محسن داوڑ، علی وزیر، محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمن، میر حاصل بزنجو اور عثمان کاکڑ جیسے سیاستدان جنہیں ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ آئین کا غدار قرار دیتی تھی، یہ سب آج ترمیم کے معاملے پر آئین کے ساتھ اصولی موقف لیے کھڑے ہیں اور وہ سب سیاستدان جو سویلین سپرمیسی اور ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے تھے، ایک فرد واحد کی خوشنودی کے لئے اپنے اصولوں، نظریات اور ووٹرز کے جذبات کو بالائے طاق رکھ کر جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار پر غلاموں کی طرح سر جھکائے اور ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ حریم نے تو تحریک انصاف کی قیادت کو ننگا کیا تھا لیکن ترمیم نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کی قیادت کو ننگا کر دیا ہے۔
