ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق رکنِ قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ فیصلے نے انہیں شدید حیرت زدہ کردیا ہے اور آج کا دن قانون کی حکمرانی کے لیے بدقسمت ہے۔ہائی کورٹ کے فیصلے پر تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے نفیسہ شاہ نے مزید کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزا سنانے والی خصوصی عدالت سپریم کورٹ نے تشکیل دی جو ہائی کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل تھی۔ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں ہی درخواست دائر کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جانا چاہیئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی پی پی کے بانی اور سابق وزیراعطم ذوالفقار علی بھٹو جے عدالت قتل کیس بھی گزشتہ 8 سالوں سے سماعت کا منتظر ہے جبکہ فوجی آمر کی سزا کے خلاف درخواست پر چند دنوں میں فیصلہ ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قاتل بھی اب تک گرفتار نہیں ہوئے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے بھی خصوصی عدالت کے خلاف ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے 6 سال تک مقدمہ چلنے کے بعد 17 دسمبر کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی۔مذکورہ کیس 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کرنے کے بعد ایمرجنسی لگانے پر سابق صدر کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دائر کیا تھا۔
بعدازاں 27 دسمبر کو سابق ملٹری ڈکٹیٹر (ر) پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کیس میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے چیلنج کیا تھا۔ جس کی کل ہونے والی سماعت میں لاہور ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت ک درخواست پر سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئین قرار دیا تھا۔علاوہ ازیں اپنے فیصلے میں ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ سابق آرمی چیف کے خلاف سنگین غداری کیس قانون کے مطابق نہیں بنایا گیا۔
