ن لیگ سے فاصلے بڑھ گئے،پیپلزپارٹی رہنماؤں کو رابطوں سے روک دیا گیا

ملکی سیاست میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اب محض بیانات اور سیاسی شکووں تک محدود نہیں رہے بلکہ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطوں کی سطح پر بھی فاصلے نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے اپنے رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ کو مسلم لیگ ن کے وفاقی و صوبائی وزرا اور دیگر اہم رہنماؤں سے براہ راست رابطے سے روکنے کی اطلاعات نے اس کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو مسلم لیگ ن کی جانب سے موصول ہونے والے سیاسی پیغامات کا جواب دینے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ ہدایات اس وقت سامنے آئی ہیں جب آزاد کشمیر کے انتخابات، مبینہ دھاندلی کے الزامات، نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں سے متعلق بیانات اور وفاقی حکومت کی مجموعی سیاسی پالیسی پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ بظاہر دونوں جماعتیں اب بھی وفاقی حکومت کے موجودہ سیاسی بندوبست کا حصہ ہیں، لیکن ان کے درمیان اعتماد کی سطح میں کمی کے آثار نمایاں ہیں۔ پیپلز پارٹی کا تازہ فیصلہ اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ پارٹی قیادت اب مسلم لیگ ن کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارٹی رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ کو واضح ہدایات دی ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن کے وزرا اور رہنماؤں کے ساتھ براہ راست سیاسی رابطے نہ کریں۔ یہاں تک کہ اگر مسلم لیگ ن کے کسی رہنما کی جانب سے سیاسی نوعیت کا پیغام موصول ہو تو اس کا فوری جواب دینے سے بھی گریز کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں میں اس نوعیت کی ہدایات عام طور پر اس وقت جاری کی جاتی ہیں جب قیادت کسی حساس معاملے پر اپنے تمام رہنماؤں کو ایک ہی سیاسی مؤقف کا پابند رکھنا چاہتی ہے تاکہ مختلف سطحوں پر ہونے والی گفتگو سے پارٹی کی مجموعی حکمت عملی متاثر نہ ہو۔
اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض حکومتی شراکت کے بجائے ایک نئے سیاسی زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ تعاون ابتدا ہی سے نظریاتی اتحاد کے بجائے سیاسی ضرورت اور پارلیمانی بندوبست کی بنیاد پر قائم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی اہم سیاسی، آئینی یا انتظامی معاملے پر دونوں جماعتوں کے مفادات مختلف ہوئے، اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
حالیہ کشیدگی میں آزاد کشمیر کے انتخابات بنیادی محرک بن کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ’الٹی گنتی شروع ہونے‘ کا بیان دیا تھا۔ ان کے اس مؤقف نے مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید نمایاں کیا۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کو بنیادی مسئلہ قرار دیا، جبکہ حکومتی حلقوں نے انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کیا۔
اب پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد اپنی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہے۔ اس اجلاس کو موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ یہاں نہ صرف آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج اور مبینہ دھاندلی کے الزامات پر پارٹی کا آئندہ مؤقف طے کیا جائے گا بلکہ مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات اور وفاقی حکومت کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی تاریخ اور مقام کا حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت اور دیگر اہم رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ یہ اجلاس آزاد کشمیر کے انتخابات کے فوراً بعد بلایا جائے۔ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حالیہ بیانات بھی خصوصی اہمیت اختیار کریں گے۔ پاکستان کی سیاست میں نئے صوبوں کا معاملہ پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے اور مختلف سیاسی قوتیں اس حوالے سے اپنے اپنے تحفظات اور تجاویز سامنے لا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ انتظامی یونٹس میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے سیاسی، انتظامی اور انتخابی اثرات براہ راست سندھ سمیت دیگر صوبوں پر پڑ سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری متوقع طور پر پارٹی رہنماؤں کو نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر پارٹی کے مؤقف سے آگاہ کریں گے اور اس حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔ اس اجلاس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا پیپلز پارٹی اس معاملے پر حکومت کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کرتی ہے یا اپنے تحفظات کو زیادہ واضح اور جارحانہ سیاسی انداز میں عوام کے سامنے لاتی ہے۔
مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات کا معاملہ بھی اجلاس کا سب سے اہم موضوع ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اگرچہ وفاقی حکومت کا حصہ ہے، لیکن حالیہ دنوں میں پارٹی کی جانب سے آنے والے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن سے اپنے سیاسی فاصلے کو بڑھا کر اپنی الگ شناخت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومت کے خلاف سخت سیاسی زبان اور انتخابی عمل پر احتجاج اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
تاہم اس کا مطلب فوری طور پر وفاقی حکومت سے علیحدگی قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے اندر یہ بات پہلے بھی واضح کی جا چکی ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ اس کا تعلق نظریاتی اتحاد نہیں بلکہ ایک سیاسی اور جمہوری انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتیں ایک طرف حکومت میں شریک ہیں، جبکہ دوسری طرف مختلف معاملات پر ایک دوسرے کے خلاف سیاسی مؤقف بھی اختیار کرتی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ حکومت کے اندر رہتے ہوئے مسلم لیگ ن پر سیاسی دباؤ کیسے بڑھائے۔ اگر پارٹی وفاقی حکومت سے فوری علیحدگی اختیار کرتی ہے تو اسے سیاسی اور انتظامی طور پر کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن اگر وہ مکمل خاموشی اختیار کرتی ہے تو آزاد کشمیر کے انتخابات، نئے انتظامی یونٹس اور دیگر معاملات پر اس کے اپنے سیاسی کارکنوں اور ووٹرز میں بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی لیے موجودہ حکمت عملی بظاہر ایک درمیانی راستہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے: حکومت کا حصہ بھی رہنا اور مسلم لیگ ن سے سیاسی فاصلہ بھی بڑھانا۔ پارٹی رہنماؤں کو رابطوں سے روکنے کا فیصلہ اسی حکمت عملی کا ایک اہم اشارہ ہے۔
اس فیصلے کا ایک اور پہلو آئندہ عام انتخابات کی تیاری بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ مسلسل سیاسی شراکت اس کی اپنی جماعتی شناخت کو نقصان پہنچا رہی ہے تو وہ اب بتدریج خود کو ایک الگ سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ سخت بیانات بھی اسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے انتخابات اس حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی مبینہ دھاندلی کے الزامات پر بھرپور سیاسی مہم چلاتی ہے تو مسلم لیگ ن کے ساتھ اس کے اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر دونوں جماعتیں کسی مرحلے پر مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کر لیتی ہیں تو موجودہ کشیدگی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے رہنماؤں کو مسلم لیگ ن سے رابطوں سے روکنے کا فیصلہ اس بات کی علامت ضرور ہے کہ پارٹی قیادت نے صورتحال کو معمولی اختلاف نہیں سمجھا۔ مرکزی مجلس عاملہ کا ممکنہ اجلاس اس سیاسی بحران کو ایک باقاعدہ جماعتی سطح کی بحث میں تبدیل کر سکتا ہے، جہاں صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات کو کس حد تک برقرار رکھا جائے اور کن معاملات پر حکومت کے سامنے واضح سرخ لکیر کھینچی جائے۔
یوں موجودہ صورتحال کو فوری حکومتی اتحاد کے خاتمے کے طور پر دیکھنا شاید درست نہ ہو، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعتماد کا رشتہ دباؤ میں آ چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کا تازہ فیصلہ، بلاول بھٹو کے سخت بیانات، آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر اعتراضات اور نئے انتظامی یونٹس کی بحث اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ دونوں جماعتیں اب ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سیاسی جنگ کے لیے بھی اپنی اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل فیصلہ اب آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد ہونے والی پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی تعاون جاری رکھنے کے ساتھ سخت شرائط عائد کی گئیں تو موجودہ اتحاد ایک نئے معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، لیکن اگر پارٹی نے اپوزیشن طرز کی سیاسی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا تو وفاقی حکومت کے لیے آنے والے مہینے خاصے مشکل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں اب سوال صرف یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ حکومت میں کب تک رہے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں جماعتیں ایک ہی حکومت کا حصہ رہتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی صف بندی جاری رکھ سکتی ہیں؟
