عوام پر بجلی بم گرانےکی تیاری،اگلے ماہ بل بڑھنے کا خطرہ کیوں؟

بجلی کے بھاری بلوں سے پہلے ہی پریشان عوام کے لیے ایک اور مشکل سامنے آ گئی ہے۔ ملک بھر کے بجلی صارفین کو ملنے والا اربوں روپے کا سہ ماہی ریلیف رواں ماہ ختم ہونے جا رہا ہے، جبکہ اس کے خاتمے کے فوراً بعد بجلی کے نرخ دوبارہ بڑھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا سے صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بجلی کے نرخ کم کرنے کی بات کی جا رہی تھی تو یہ ریلیف ختم کیوں کیا جا رہا ہے، اور اگر نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ منظور ہو گئی تو عام صارف کے بجلی کے بل پر اس کا کتنا اثر پڑے گا؟
ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے جاری بڑا ریلیف ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ ماہ سے بجلی کے نرخوں میں دوبارہ اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے یہ پیش رفت ایک نئے مالی بوجھ کا سبب بن سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کی صورت میں دیا جانے والا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ریلیف رواں ماہ اگست میں اپنی مدت مکمل کر رہا ہے۔ یہ ریلیف جون 2026 سے نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت ملک بھر کے بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کا فائدہ پہنچ رہا تھا۔
تاہم اب یہ ریلیف ختم ہونے کے بعد صارفین کو ایک مرتبہ پھر اضافی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ آئندہ ماہ سے بجلی کے نرخوں میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، جس سے فی یونٹ قیمت میں اضافہ متوقع ہے۔
اس سلسلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا کے سامنے درخواست جمع کرا دی ہے۔ درخواست میں صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ابتدائی حساب کے مطابق یہ بوجھ تقریباً ایک روپے فی یونٹ کے برابر بنتا ہے، تاہم حتمی شرح اور اطلاق کا فیصلہ نیپرا کرے گا۔
یہ صورتحال اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ بجلی صارفین پہلے ہی بنیادی ٹیرف، مختلف سرچارجز، ٹیکسز، ایڈجسٹمنٹس اور دیگر مدات میں بھاری رقوم ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر موجودہ ریلیف ختم ہونے کے بعد نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بھی نافذ کردی گئی تو عام صارف کے ماہانہ بجلی کے بل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین پر اس فیصلے کے اثرات اہم ہوں گے، کیونکہ موجودہ ریلیف صرف ایک محدود مدت کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔ اب اس مدت کے اختتام پر گزشتہ سہ ماہی کے مالی اثرات صارفین تک منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں بار بار ایڈجسٹمنٹ کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ صارفین کے لیے بجلی کا بل صرف بجلی کے استعمال کی قیمت نہیں رہا بلکہ اس میں مختلف محصولات، سرچارجز، لیویز اور ایڈجسٹمنٹس شامل ہونے کے باعث مجموعی مالی بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اضافی رقم وصول کرنے کی درخواست کے بعد اب نظریں نیپرا کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ نیپرا درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ صارفین پر کتنی رقم منتقل کی جائے اور اس کا اطلاق کس شرح سے کیا جائے۔
اگر مجوزہ اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو اگلے ماہ سے بجلی کے بلوں میں ایک نئے اضافی بوجھ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں وہ ریلیف جو گزشتہ چند ماہ سے صارفین کو بجلی کے نرخوں میں کمی کی صورت میں حاصل تھا، مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور اس کے ساتھ نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا مالی اثر بھی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔
یوں 67 ارب روپے سے زائد کا موجودہ ریلیف ختم ہونے کے بعد 23 ارب روپے سے زائد کا نیا بوجھ بجلی صارفین کے لیے ایک اہم معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔ حتمی صورتحال نیپرا کے فیصلے کے بعد واضح ہوگی، تاہم موجودہ درخواست نے پہلے ہی صارفین میں یہ تشویش پیدا کر دی ہے کہ بجلی کے بلوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہونے جا رہا ہے۔
