ن لیگ کا بیانیہ عوام نے رد کیا یا اسٹیبلشمنٹ نے؟

مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے الیکشنز میں تحریک انصاف کے ہاتھوں شکست کے بعد اپنے استعفے کی افواہ کو رد تو کر دیا ہے لیکن نواز لیگ میں بیانیے کے اختلاف کا تاثر ختم نہیں ہو پایا۔ تاہم ایک بات پر مزاحمتی اور مفاہمتی دونوں دھڑوں کا اتفاق ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں نواز لیگ کو شکست ہوئی نہیں بلکہ دلوائی گئی اور اس معاملے میں پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے حکومتی جماعت تحریک انصاف کا بھر پور ساتھ دیا۔
جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے گفتگو میں شہباز شریف نے پارٹی صدارت سے اپنے استعفے کی خبر کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین برس میں فوج کی جانب سے جتنی سپورٹ عمران خان کو ملی ہے، ماضی کی کسی اور حکومت کو نہیں ملی۔ شہباز کے مطابق اگر کسی اور وزیر اعظم کو عمران خان کو ملنے والی فوجی حمایت کا 30واں حصہ بھی ملا ہوتا تو اس ملک کے حالات کچھ اور ہوتے لیکن افسوس کہ عمران خان نے خود کو ملنے والی حمایت کو پاکستان کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کیا۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 کے تین برس بعد بالآخر وہ وقت آ پہنچا ہے جب وزیر اعظم عمران خان اور ان کی تحریک انصاف یہ دعویٰ کر سکیں کہ انھوں نے نواز شریف کی مسلم لیگ نون کو ان کے اپنے علاقے میں خاصی سنجیدہ مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ڈان اخبار سے وابستہ رہنے والے سینئر صحافی اشعر رحمن کا بی بی سی کے لیے اپنے تجزیے میں کہنا یے کہ سیالکوٹ براستہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اتنی شدید چوٹ ہے کہ یہ سہلانے میں نہیں آ رہی۔ نون لیگ کی تمام تر تاویلات کے باوجود آزاد کشمیر اور پھر سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں شکست یہ گواہی دے رہی ہے کہ یا تو میاں صاحب کا کیمپ کمزوری کی طرف مائل ہے یا پھر تحریک انصاف آخر کار اس راز کو پا گئی ہے کہ نون لیگ، جس کی جڑیں عوام میں بہت گہری سمجھی جاتی ہیں، کو کس طرح زیر کیا جا سکتا ہے۔
اشعر رحمان کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابی شکستوں نے ہاؤس آف شریف کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ نون لیگ میں بہت جان تھی اور اب بھی ہے۔ اس نے انتقام سے بھری اور اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی دعویدار کپتان حکومت کا ایک لمبے عرصے تک اپنے بیانیے پر زور دیتے ہوئے بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ تھا جو حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ جیسی ساخت رکھنے والی پارٹی سے برپا ہوا مگر آزاد کشمیر میں ناکامی، جہاں پی ایم ایل این محض چھ سیٹیں لے سکی اور اسکے بعد سیالکوٹ میں پنجاب اسمبلی کی نشست پر شکست نے واضح کر دیا کہ سہانا ماضی اب ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔
اشعر رحمان کے مطابق بالآخر نواز لیگ کو پچھاڑنے کے بعد تحریک انصاف والوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں، اور شریفوں میں وہ پھوٹ پڑ جانے کی اطلاعات ہیں جس کی ان کے مخالفین کو عرصے سے تلاش تھی۔ ان حالات میں میاں صاحب کا مزاحمتی بیانیہ خطرے میں ہے، اور شور بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ بیانیہ نہیں چل سکتا، اور اس بیانیے کیساتھ اگلے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے۔
لیکن اشعر رحمن کے مطابق پی ٹی آئی کے لیے یہ موقع شاید ابھی جشن منانے کا نہیں۔ اسے اپنی جماعت کی نا تجربہ کار قیادت کی وجہ سے اپنے اندر کی خامیوں کو چھپا کہ رکھنا پڑے گا۔ اگر سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی کامیابی نون لیگ کے غلط بیانیے کی وجہ سے ہے تو پھر یہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے حق میں ہو گا کہ نون لیگ اور اسکے حمایتی یہی راگ الاپتے رہیں کہ حالیہ الیکشنز میں نون کو مزاحمتی بیانیہ لے ڈوبا۔ انکا کہنا ہے کہ وہ تمام اصحاب جو نون لیگ کو بغاوت پر اکساتے چلے آئے ہیں خبردار رہیں کیونکہ یہ سیاست ہے، پاکستانی سیاست۔
اشعر رحمن کے مطابق بڑے میاں صاحب کے پاس اب بھی یہ آپشن موجود ہے کہ وہ مزاحمتی بیانیے کا مدعا مریم بی بی کے سر پر ڈال کر خود کاروبار سیاست کے اعتدال پسند شراکت کاروں سے جا ملیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کا ساتھ دینے والوں اور ان کی آواز میں لبیک کہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے یا کمی؟ چھوٹے بڑے انتخابات میں جیت حوصلہ قائم رکھنے کا ہمیشہ ایک اچھا ذریعہ ہوتے ہیں۔ نون لیگ کو عوام کا جذبہ بر قرار رکھنے کے کوئی دوسرے طریقے بھی سوچنے پڑیں گے، مزید زور لگانا پڑے گا کیونکہ آگے چڑھائی ہے۔ یہ ایک انتہائی فیصلہ کن لمحہ ہے اور اس بات کا مزید ثبوت میاں شہباز کا متحرک ہونا ہے۔
اشعر رحمان کا کہنا ہے کہ بحیثیت صدر پی ایم ایل این شہباز شریف اس وقت دو محاذوں پر لڑتے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف وہ عمران خان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے سنائی دیتے ہیں اور اپنی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں کہ اس امر کے باوجود کہ خان صاحب کو ان قوتوں کا بھرپور ساتھ حاصل ہے جن کی آشیرواد کے بغیر شہباز صاحب اپنی پارٹی کی سیاست نا مکمل سمجھتے ہیں، تحریک انصاف حکومت ترقی کے ضمن میں کچھ نہیں کر پائی ہے۔ ساتھ ساتھ شہباز شریف اپنی پارٹی بلکہ اپنی شریف فیمیلی کے ناراض سیاستدانوں، نواز شریف اور مریم نواز کو یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش میں ہیں کہ مفاہمت کے لفظ کو غلط معنی کے ساتھ ان سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے سلیم صافی سے حالیہ انٹرویو کے دوران یہ باور کرانے کی بھرپور سعی کی کہ ان کا مطلب اور مقصد نیشنل ری کنسیلی ایشن ہے نہ کہ کوئی عام سی مفاہمت جس سے ان کی پارٹی کی سبکی ہوتی ہو۔ شہباز شریف کی اپنی پارٹی راہ راست پر لانے کی یہ ایک آخری کوشش ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مسلم لیگ کے کارکنان اور لیڈران عمران خان کے سپاہیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ زیادہ واضح طور ہر سن سکتے ہیں۔ اور یہ بات شہباز شریف اور ان کی سیاست کے حق میں جاتی ہے۔
