وزیراعظم، پی ٹی آئی رہنماؤں کی لندن میں جائیدادیں ہیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دھماکا خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تلاش کے دوران اثاثہ برآمدگی یونٹ کے چیئرمین مرزا شہزاد اکبر اور وزیراعظم عمران خان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں اور سابق صدر پرویز کی لندن میں جائیدادوں کی معلومات ملی ہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں درخواست گزار جج نے کہا کہ انہیں شہزاد اکبر کے اس دعوے کہ برطانیہ میں کسی کی بھی جائیداد سرچ انجن 192.کام کے ذریعے تلاش کی جاسکتی ہے سے ایک اشارہ ملا۔
انہوں نے بتایا کہ سرچ انجن کو کچھ معروف شخصیات کی جائیدادیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
جس کے تنائج کے مطابق برطانیہ میں عمران خان کی جائیدادیں 6، شہزاد اکبر کی 5 ، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی ایک، ذوالفقار بخاری کی 7، عثمان ڈار کی 3، جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی 2 جائیدادیں ہیں۔
جج کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد معروف عوامی شخصیات ہیں اور انکم ٹیکس، فارن ایکسچینج یا منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ میں غیر قانونی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیئے اور دیکھنا چاہیئے کہ کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر ہے اور ان شخصیات نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا ان افراد کی آمدن قابل ٹیکس تھی کیوں کہ زرعی زمین انکم ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنٰی ہے۔
جج نے درخواست کی کہ غیر قانونی رقم بیرونِ ملک منتقل کرنےکا الزام لگانے سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس بات کو لازمی چیک کرے کہ کیا ان افراد کے فارن ایکسچینج اکاؤنٹس تھے اور کیا ان اکاؤنٹس کے ذریعے رقم بیرونِ ملک منتقل کی گئی تاکہ حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے رقم برطانیہ بھیجنے کے امکان کو خارج کیا جاسکے۔
درخواست میں کہا گیا کہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ افراد سوالات کے جوابات دینے میں ناکام ہوجاتے ہیں اس کے باوجود بھی وہ وضاحت کا موقع دیے جانے کے اہل ہوں گے اور کوئی وضاحت لینے سے قبل اور بغیر ثبوت کے یہ الزام نہیں لگایا جائے کہ ان افراد کے شریک حیات جائیدادوں کے حقیقی مالک ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جو بات یقینی طور پر نہیں کرنی چاہیے وہ یہ کہ ان افراد سے ناممکن کام، یعنی اس بات کا انکار کہ الزامات درست نہیں ہیں، کرنے کا مطالبہ کریں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اثاثہ برآمدگی یونٹ کو غیر قانونی اور بغیر کسی قانون کے کام کرنے والا قرار دیا جائے اوریونٹ کی درخواست گزار جج اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ریفرنس کے زمرے میں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ شہزاد اکبر اور اثاثہ برآمدگی یونٹ کے ضیا مصطفیٰ نسیم کے خلاف حکام جن اور ان کے اہلِ خانہ کی دستاویزات، ریکارڈز تک رسائی، حصول نقول تیار کرنے اور اسے آگے بڑھانے پر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی چارہ جوئی کریں جن میں بینکنگ آرڈیننس 1962، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی آرڈیننس 2000 انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 شامل ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ گزشتہ برس سال میں شروع ہوا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔
اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔
ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔
صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔
جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 2 ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا تاہم یہ ریفرنس بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔
بعد ازاں7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔
صدارتی ریفرنس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحلیل ہوجانے کے بعدعدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے 14 اکتوبر کو سماعت کا آغاز کیا تھا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
