وزیراعلیٰ جام کمال کے بیٹے کا ’شاہانہ پروٹوکول‘ زیر تنقید

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے 14 سالہ بیٹے جام محمد عالیانی کے سرکاری گاڑیوں کے لمبے قافلے اور شاہانہ پروٹوکول کی ویڈیوز سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد کپتان سرکار کے وزیر اعلیٰ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے جام کمال کے بیٹے کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود بے شرمی سے عوامی وسائل کے بے دریغ استعمال پر تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بیٹے کے ہمراہ نہ صرف ذاتی محافظ، اپنی جماعت کے کارکنوں اور حامیوں کی درجنوں گاڑیوں کے علاوہ پولیس، اے ٹی ایف اور لیویز کی کئی گاڑیاں بھی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قافلے میں بم دھماکے سے بچانے والی جیمر گاڑی کے علاوہ بُلٹ پروف گاڑیاں بھی شامل تھیں جن میں وزیراعلیٰ کے صاحبزادے سوار تھے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے چھوٹے جام کے قافلے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بڑے جام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ جب ایک صوبے کا وزیر اعلی اپنی ذات کے لئے سرکاری وسائل کا یوں بے دریغ استعمال کرے گا تو وہ کسی اور کو سرکاری وسائل کے ضیاع سے کیسے روک سکے گا۔
لسبیلہ رائٹس ٹویٹر ہینڈل نے اس معاملے پر لکھا کہ یاد رکھیں اس ویڈیو میں نظر آنے والا لمبا گاڑیوں کا قافلہ کسی وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا پروٹوکول نہیں ہے، یہ غریب صوبے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے بیٹے کا پروٹوکول ہے ۔‘
جمیل احمد اچکزئی نے تبصرہ کیا کہ ’کسی عہدے پر نہ ہونے کے باوجود بھی اتنا بڑا پروٹوکول۔ چھوٹا جام سرکاری وسائل کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر اڑا رہا ہے’۔
مقامی پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال کے 14 سالہ صاحبزادے جام محمد عالیانی کے سرکاری پروٹوکول میں ایڈیشنل ایس پی لسبیلہ، دو پولیس تھانہ کے ایس ایچ اوز، پولیس، اے ٹی ایف اور لیویز کی آٹھ سے زیادہ سرکاری گاڑیاں موجود تھیں۔ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے سکواڈ کی گاڑی بھی انہیں فراہم کی گئی تھی۔
ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ’وزیراعلیٰ جام کمال کے صاحبزادے گذشتہ دو دنوں سے اپنے آبائی ضلع لسبیلہ کے دورے پر ہیں۔‘ ایڈیشنل ایس پی لسبیلہ کیپٹن ریٹائرڈ صدام خاص خیلی نے تصدیق کی کہ وہ وزیراعلیٰ کے صاحبزادے کے ہمراہ دریجی گئے تھے۔ان کے مطابق ’جب بھی کوئی مہمان آتا ہے تو انہیں سکیورٹی دی جاتی ہے، بعض اوقات غیرملکی وفود یا سیاح آتے ہیں تو ہم انہیں بھی سیکورٹی دیتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ کے بیٹے کی سکیورٹی کے لیے اے ٹی ایف کی ایک گاڑی تھی۔ باقی گاڑیاں میری، میرے گارڈز، ایس ایچ او اور دیگر سرکاری افسران کی تھیں۔‘
لسبیلہ پولیس کے ایک اور آفسر نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’وزیراعلیٰ کے نوجوان صاحبزادے گذشتہ دو دنوں سے اپنے آبائی ضلع لسبیلہ کے دورے پر آئے ہوئے ہیں جہاں انہوں نے مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں سے ان کے رشتہ داروں کی وفات پر تعزیت کی۔‘ انکا کہنا تھا سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دریجی کے علاقے کی ہے، جہاں وزیراعلیٰ کے بیٹے جام محمد عالیانی اپنے دوست رکن قومی اسمبلی عامر مگسی کے صاحبزادے زرین مگسی کے ہمراہ قبائلی رہنما جمیل باریجہ سے ان کے چچا کی وفات پر تعزیت کرنے گئے تھے۔
پولیس کے مطابق واپسی پر وزیراعلیٰ کے بیٹے کے قافلے میں شامل گاڑی کو حادثہ بھی پیش آیا جس میں نجی سیکورٹی گارڈز سوار تھے۔ حادثے میں زرین خان مگسی کے دو نجی سیکورٹی گارڈز ہلاک ہوئے جبکہ سات زخمی ہوئے۔
پولیس افسر کے مطابق دریجی جام کمال کے سیاسی مخالف بھوتانی برداران یعنی رکن قومی اسمبلی سردار اسلم بھوتانی اور بلوچستان اسمبلی کے رکن سردار صالح بھوتانی کا علاقہ ہے، جہاں جام کمال کے بیٹے شاید پہلی بار گئے۔ لہازا سیاسی مخالف کا علاقہ ہونے کی وجہ سے انہیں اضافی سکیورٹی دی گئی۔
اس معاملے پر بلوچستان حکومت کے ترجمان یا وزیر اعلی کی جانب سے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں آئی۔
