وزیرخزانہ اورصدرکی ملاقات،آرمی چیف کی تعیناتی پرمشاورت

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے اہم ملاقات کے دوران آرمی چیف کی تقرری سمیت دیگر معاملات پر مشاورت کی ہے۔
اسحاق ڈار نے18 نومبر بروز جمعہ ایوان صدر اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی،ملاقات آدھےگھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ اسحاق ڈار اور صدر کے درمیان اہم تقرری اور بعض دیگر امور پر مشاورت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ وفاقی وزیر خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف کا اہم پیغام بھی صدر مملکت کو پہنچایا،اسحاق ڈار نے پیغام دیا کہ صدر مملکت باہمی احترام اور سیاسی اعتدال کے لیے کردار ادا کریں، آئینی و قانونی امور پر ڈیڈلاک نہیں ہونا چاہیے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ سیاسی امور کو بہتر ماحول اور قانونی و آئینی دائرے میں ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
تاہم ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ نے صدر سے ملاقات میں ملک کی بہتری کيلئے مل کر آگے بڑھنے کی خواہش کا اظہارکیا، وزیر خزانہ نے صدر کو معاشی صورت حال پر بھی اعتماد میں لیا۔ جب کہ وزارت خزانہ کی کارکردگی اور آئی ایم ایف سے معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے صدر مملکت کو ملک کی مجموعی اقتصادی اور مالیاتی صورت حال پر بریف کیا۔ وزیر خزانہ نے صدر مملکت کو پاکستان کے عوام بالخصوص ملک کے محروم علاقوں کی غیر مراعات یافتہ آبادی اور سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔اس سے قبل ابتدائی مشاورت میں اتحادیوں نے وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلادیا۔ اسحاق ڈار کی سابق صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے بھی گزشتہ روز جمعرات 17 نومبر کو اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اتحادیوں نے پیغام دیا ہے کہ وزیراعظم کو آئینی اختیار ہے کہ وہ تقرری آئین کے مطابق کریں، سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانیہ اور لانگ مارچ کو اہمیت نہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو پوری ہو رہی ہے، فوجی ترجمان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے،صدر عارف علوی نے گزشتہ ہفتے اعتراف کیا تھا کہ قابل عمل حل تلاش کرکے سیاسی افراتفری کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی کھلاڑیوں سمیت طاقتور حلقوں کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے مشاورت کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف 9 نومبر کو لندن پہنچے تھے، ایک معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق شریف برادران کی لندن میں ہونے والی ایک اہم ترین ملاقات میں مبینہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو حالات و نتائج ہوں، وزیر اعظم کسی بھی ’دباؤ‘ قبول نہیں کریں گے۔
