وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا امکان

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کے اپنے دورے کے دوران سعودی حکمرانوں کے تحفظات دور کرنے میں ناکامی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا اپنی اہلیہ کے ہمراہ جلد عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس جانے کا امکان ہے.
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمرہ کیلئے سعودی عرب کے دورے کے موقع پروزیراعظم عمران خان کی سعودی حکمرانوں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ملاقات کی صورت میں وزیراعظم سعودی حکمرانوں کو چین ، ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اعتماد میں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق کرونا وبا کی صورتحال مزید بہتر ہونے اور عمرہ کی ادائیگی پر عائد پابندی ختم ہونے کے فوری بعد وزیراعظم عمران خان اپنی اہلیہ بشریٰ بیگم اوراہم وزراء کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جائیں گے۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے عسکری قیادت اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب نے بھی اپنے سفیر سعید المالکی کو متحرک کر دیا ہے جنہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری سمیت دیگر اہم حکومتی ذمہ داروں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں آنے والی کشیدگی کو دور کرنے کا ایجنڈے لیکر سعودیہ جانے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کا مشن ناکام ہو گیا تھا۔ اس اہم ترین دورے کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو روز ریاض میں قیام کے دوران پاکستانی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہی نہیں ہو پائی تھی۔ ایسا ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سعودی عرب جائیں اور سعودی ولی عہد سے ان کی ملاقات نہ ہو پائے۔ تاہم عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آرمی چیف کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے باہمی دفاعی معاملات کے حوالے سے سعودی فوجی قیادت سے ملاقاتیں کرنا تھا جو کہ شیڈول کے مطابق ہوئیں۔ عسکری ذرائع نے بتایا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان سے ملاقات نہ ہو پائی کیونکہ وہ اپنے علیل والد کی عیادت میں مصروفتھے۔ تاہم شہزادہ محمد بن سلیمان کے چھوٹے بھائی اور سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلیمان نے اپنے بڑے بھائی کی ترجمانی کرتے ہوئے جنرل باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کی تھی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان نے اپنے چھوٹے بھائی اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلیمان کو تمام تر اختیارات کے ساتھ پاکستانی فوجی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button