وفاقی حکومت کے اقدامات سے سندھ مسائل کا شکار

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے صحت اور آبادی کے منصوبوں کے فنڈز روکنے، صوبے میں گیس کی قلت اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے کمیٹی کے قیام میں تاخیر جیسے اہم مسائل پر وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھتے ہوئے تشویش کا اظہار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی طرف سے لکھے گئے خط میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ دفتر کو کہ صحت اور آبادی سے متعلق عمودی منصوبوں کے لیے صوبوں کو واجب الادا رقم فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جولائی 2018 سے روکے گئے فنڈز کے اجرا کے لیے براہِ راست وزارتوں کو خط لکھے جائیں گے۔
اس حوالے سے وزارت صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ابتدا میں 2001 میں صوبوں کو عمودی پروگرام کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت اور آبادی صوبوں کو معاملہ بن گیا ہے۔تاہم صوبوں کی جانب سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ فیصلہ 2010 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کو حتمی شکل دینے کے بعد کیا گیا۔
صوبوں کے مطابق اگر انہیں اس فیصلے کے بارے میں پہلے سے بتایا جاتا تو وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حصے میں اضافے کا مطالبہ کرتے۔ بعدازاں صوبوں کے تحفظات کا حقیقی قرار دیتے ہوئے سی سی آئی نے فیصلہ کیا تھا کہ عمودی پروگرامز کی فنڈنگ اگلے این ایف سی پروگرام کے حتمی فیصلے تک جاری رہے گی۔
وزارت صحت کے عہدیدار کے مطابق یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے 23 دسمبر 2019 کو ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا جس پر وزیراعظم نے وفاقی وزارت صحت کو صوبائی وزارت صحت اور سیکریٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا کہا تھا جس کا انعقاد 2 ہفتوں میں متوقع ہے۔
واضح رہے ’عمودی صحت پروگرام‘ کی اصطلاح ایسے خصوصی اور عارضی پروگراموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کا مقصد وقتاً فوقتاً خصوصی امراض اور صحت کی صورتحال نے نمٹنا ہوتا ہے جو عمومی امراض کے علاج سے مختلف ہے۔
18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی معاملہ بن گیا تھا تاہم 12 عمودی صحت پروگرام وفاقی سطح پر مختص کیے تھے جن میں پولیو کا خاتمہ، ایڈز کنٹرول، بچوں کی تب دق اور ہیپاٹائٹس بی وغیرہ شامل تھے۔اس ضمن میں سیکریٹری صحت نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ 2011 میں فنڈز این ایف سی ایوارڈ کے تحٹ فراہم کیے گئے تھے جنہیں مزید 2015 کے این ایف سی ایوارڈ میں مختص کیا جانا تھا تاہم این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ نہ ہونے کے باجود وزارت صحت نے اس پروگرام کو جون 2018 تک جاری رکھا۔
اپنے خط میں وزیراعلیٰ نے 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد کا معاملہ بھی اٹھایا اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اٹارنی جنرل، چاروں ایڈوکیٹ جنرل اور صوبائی ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کریں جو ایک ماہ میں اپنی تجاویز سی سی آئی کو پیش کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button