وفاقی کابینہ کا نواز شریف کوفوری واپس لانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف سمیت ہر ملزم کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا. قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے ، مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فوراً وطن واپس لایا جائے۔ اس ھوالے سےکسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرونگا، نواز شریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ذمہ داری نبھائے گی.
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال پر طویل مشاورت ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی وطن واپسی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘کابینہ نے نوٹ کیا کہ نوازشریف حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی رعایت کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں’۔کابینہ کو بتایا گیا کہ ‘نواز شریف کی جانب سے عدالت میں بیماری کو عذر بنا کر ضمانت کی درخواست دی گئی اور اس حوالے سے قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے بھی ضمانت لی گئی’۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ‘العزیزیہ ریفرنس کیس میں 29 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کو 8 ہفتوں کے لیے ضمانت ملی اور 16 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے نام ای سی ایل سے نکال کر 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی’۔کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ ‘اس حوالے سے نوازشریف اور شہباز شریف دونوں نے شخصی ضمانت دی اور وطن واپسی، میڈیکل رپورٹس جمع کرانے اور حکومت کے نمائندے کی جانب سے میڈیکل رپورٹس کے معائندے پر اعتراض نہ کرنے اور مکمل تعاون کی ضمانت دی تھی’۔
بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ ’23 دسمبر 2019 کو نواز شریف کے وکلا نے ضمانت میں توسیع کے لیے درخواست دی، جس پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور فروری 19، 20 اور 21 فروری کو سماعت کے لیے تین مواقع فراہم کیے گئے’۔وفاقی کابینہ میں کہا گیا کہ ‘سماعت میں نواز شریف خود بھی پیش نہیں ہوئے اورنہ کوئی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی جبکہ 27 فروری کو ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کردیا گیا’۔برطانیہ سے متعلق معاملات پر کہا گیا کہ ‘نواز شریف کی روانگی کے وقت برطانوی حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا تھا، جس کے بعد 2 مارچ کو پنجاب حکومت کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا گیا’۔
نواز شریف کی برطانیہ میں طوالت پر کہنا تھا کہ ‘کووڈ-19 کی وجہ سے مختلف ملکوں کی طرح برطانیہ کے وزٹ ویزوں میں بھی توسیع کی گئی تھی اور نواز شریف وزٹ ویزے میں توسیع کے تحت وہاں موجود ہیں’۔کابینہ کو بتایا گیا کہ ‘نواز شریف کے وکلا نے ان کی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس کا تحریری فیصلہ آناباقی ہے’۔وزیراعظم عمران خان اور کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ‘نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے، وفاقی کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حکومت کی جانب سے قانون کے یکسان اطلاق کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی’۔اجلاس کے دوران وزیراعظم اور کابینہ اراکین نے کہا کہ ‘این آر او کے حوالے سے حکومت بلیک میل نہیں ہوگی’۔عمران خان نے کہا کہ ‘ماضی میں دیے جانے والے این آر او کی وجہ سے ملک کے قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے’۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے مریم نواز کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیگی رہنما مریم نواز نے نیب کے باہر جو کیا اس پر انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔ کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جھوٹ بول کر باہر گئے، انہیں ہر حال میں واپس لایا جائے، امید ہے نواز شریف کی واپسی سے متعلق وزیراعظم کو مس گائیڈ نہیں کیا جائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جن لوگوں نے جھوٹی رپورٹس تیار کیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت ہوئی، شہزاد اکبر نے نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ کابینہ ارکان نےکہا نوازشریف علاج کی بجائے لندن میں بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں. میاں نواز شریف واپس آ کر مقدمات کا سامنا کریں.
ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران وزراء نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ بھی اٹھایا، اجلاس کے دوران کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ کل قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم کی جانب سے افسوسناک زبان استعمال کی گئی۔اس پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ عوام سے ووٹ گالیاں سننے کیلئے نہیں لئے تھے۔ آئندہ ہمیں گالی دی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔وزراء کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کی عزت و تکریم کا بھی احساس نہیں کیا گیا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسپیکر کو بدزبانی کے مرتکب ارکان کی رکنیت معطل کرنا چاہئیے۔
کابینہ اجلاس کے دوران نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت ہوئی، کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ بیماری کا سرٹیفکیٹ دکھا کر ملک سے بھاگنے والوں کو اب کوئی بیماری نہیں۔ وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر لیگی قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اُدھر وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے خلاف سیاسی محاذتیز کرنے پر مشاورت بھی ہوئی، اجلاس کے دوران نوازشریف کووطن واپس لانے مشاورت مکمل کر لی گئی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو وطن واپس لایا جائے، حکومتی لیگل ٹیم نوازشریف کی واپس کے حوالے سے ٹاسک مل گیا۔ کابینہ نے گیارہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فوراً وطن واپس لانا چاہیے۔ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے، کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرونگا، نواز شریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں دیں گے۔ قوم کی دولت لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ نواز شریف سمیت ہر ملزم کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا.
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔دوسری طرف میاں نوازشریف کو واپس لانے کے معاملے پر سینئر تجزیہ کار نسیم زہرا نے کہاہے کہ میاں نوازشریف کو وطن واپس لانا حکومت کیلئے ممکن نہیں کیونکہ حکومت پاکستان اور برطانیہ کے مابین ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے کوئی بھی معاہدہ موجود نہیں. تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ حکومت کے پرفارمنس پر اتنے سوالیہ نشان ہیں کہ ان کے پاس میاں نوازشریف کو واپس لانے کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہے جبکہ تجزیہ کار نوید چودھری نےکہاکہ حکومت کی طرف سے میاں نوازشریف کی واپسی کوباقی مسائل سے توجہ ہٹانےکےحربے کے طور پر استعمال کیا جائےگا۔
خیال رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے 21 اگست کو کہا تھا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو واپس وطن بھیجا جائے کیوں انہیں واپس لانا ضروری ہوگیا ہے۔وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر (بیرونِ ملک) چلے گئے تھے انہوں نے ڈاکٹروں اور اپنے ٹیسٹ کو دھوکا دیا یہ تو ماسٹر ہیں اس چیز کے اور جاکر بیٹھ گئے لندن میں جہاں علاج تو کیا ایک ایکسرے تک تو کیا نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضمانت کے خاتمے کے بعد انہوں نے توسیع کی درخواست کی جس پر حکومت پنجاب نے ان سے میڈیکل رپورٹس طلب کیں لیکن چونکہ برطانیہ میں تو اس طرح کی چیزیں ہوتی نہیں اس لیے رپورٹس نہیں بھجوائی گئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کاکہنا تھا کہ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ جس طرح انہوں نے ہمارے قانون کا مذاق اڑایا، اپنی بیماری کو بہانہ بنا کر ملک سے فرار اختیار کی اب انہیں واپس آنا چاہیے اور الزامات کا عدالتوں میں سامنا کریں، وہ وہاں پر علاج کروانے کے بجائے چائے پی رہے ہیں کافی پی رہے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو کے ساتھ رابطہ کررہے ہیں وہاں بیٹھ کر سیاست شروع کی ہوئی ہے جیسے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو جبکہ ضمانت پر گئے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نیب سے درخواست کریں گے وزارت خارجہ کے ذریعے حکومت برطانیہ سے انہیں واپس بھیجنے کی درخواست کی جائے، کیوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں ان کو واپس لانا اب ضروری ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں جو حکومت کا فرض بنتا ہے وہ ادا کیا جائے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ وہ یہاں آ کر عدالتوں کے سامنے پیش ہوں اور وہی ان کا فیصلہ کریں گی، قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا جبکہ ہماری کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور نواز شریف کو اب واپس لایا جائے گا۔
