ویسٹ انڈین کھلاڑی بھی نسل پرستی کے خلاف سراپا احتجاج

امریکا میں سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف امریکا سمیت دنیا بھر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور اب کھیلوں کی برادری بھی سراپا احتجاج ہے۔ دنیا بھر کے کھیلوں سے جارج فلائیڈ کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور اب کرکٹر خصوصاً ویسٹ انڈین کرکٹرز نے بھی احتجاج کرتے ہوئے سیاہ فام امریکی شہری کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
Right now if the cricket world not standing against the injustice against people of color after seeing that last video of that foot down the next of my brother you are also part of the problem.
— Daren Sammy (@darensammy88) June 1, 2020
. @ICC and all the other boards are you guys not seeing what’s happening to ppl like me? Are you not gonna speak against the social injustice against my kind. This is not only about America. This happens everyday #BlackLivesMatter now is not the time to be silent. I wanna hear u
— Daren Sammy (@darensammy88) June 2, 2020
For too long black people have suffered. I’m all the way in St Lucia and I’m frustrated If you see me as a teammate then you see #GeorgeFloyd Can you be part of the change by showing your support. #BlackLivesMatter
— Daren Sammy (@darensammy88) June 2, 2020
سابق ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی اور کرس گیل نے اس بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کرکٹ سے بھی نسل پرستی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ڈیرن سیمی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ امریکا میں ہوا اس کے بعد بھی اگر اس وقت دنیائے کرکٹ رنگ کی بنیاد پر کی جانے والی ناانصافی کے خلاف یکجا نہیں ہوتی تو آپ بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور دیگر کرکٹ بورڈ نہیں دیکھ رہے کہ مجھ جیسے لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کیا آپ مجھے جیسوں سے ہونے والی سماجی ناانصانی کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے، یہ صرف امریکا کا مسئلہ نہیں، یہ سیاہ فاموں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے اور اب خاموش رہنے کا وقت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاہ فام لوگ ایک عرصے سے مشکلات سے دوچار ہیں، میں سینٹ لوشیا میں ہوں اور اگر آپ مجھے اپنی ٹیم کا حصہ سمجھتے ہیں تو میں بھی بہت افسردہ اور مایوس ہوں، کیا آپ اس مقصد کی حمایت کر کے تبدیلی کا حصہ بنیں گے۔
✊🏿🇯🇲✊🏿 pic.twitter.com/kyJP7GxnlK
— Chris Gayle (@henrygayle) June 1, 2020
سیمی کے ساتھ ساتھ جارح مزاج ویسٹ انڈین بلے باز کرس گیل نے بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ اور لوگوں کی زندگی کی طرح سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہمیت رکھتی ہے، سیاہ فام لوگوں کو بے وقوف سمجھنا چھوڑ دیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے دنیا بھر میں سفر کیا اور سیاہ فام ہونے کی وجہ سے مجھے نسل پرستانہ جملوں کا سامنا کرنا پڑا، نسل پرستی صرف فٹبال ہی نہیں بلکہ کرکٹ میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ٹیموں میں سیاہ فام ہونے کی وجہ سے ان سے متعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا لیکن انہیں اپنے سیاہ فام ہونے پر فخر ہے۔
ادھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ نسل پرستی کی مذمت کی ہے اور اسے کبھی بھی برداشت نہیں کیا، ضابطہ اخلاق کے تحت نہ صرف کھلاڑی کو سزا دی جاتی ہے بلکہ معاملے کو بہتر انداز میں سمجھنے اور آگاہی دینے کےلیے اسے تعلیمی پروگراموں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ آئی سی سی نے کہا کہ ہم نے اس طرح کا رویہ کبھی برداشت نہیں کیا اور اس طرح کے عمل پر تاحیات پابندی تک کی بھی سزا ہے اور ہم اپنے اراکین کو بھی اس حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ کسی سے بھی امتیازی سلوک یا نسل پرستانہ رویے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادھر انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی امتیازی سلوک اور نسل پرستی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ایک تصویر ٹوئٹ کی جس میں سیاہ فام کرکٹر جوفرا آرچر کو ساتھی کھلاڑیوں جوز بٹلر اور عادل رشید کے گلے لگے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز امریکا کی ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ وہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے دم توڑ گیا تھا۔ امریکی ریاست مینسوٹا میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس نے اس وقت کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود پورے امریکا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جب کہ 40 سے زائد شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔
