ویکسین کے معاملے میں پاکستان خطے میں بہت پیچھے ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ویکسین کے معاملے میں ملک بہت پیچھے ہے، بھارت سمیت دیگر پڑوسی ممالک میں ویکسین موجود ہے لیکن پاکستان نے تاحال کوئی ویکسین درآمد نہیں کیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا جلد لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان کو وائرس سے کم نقصان ہوا لیکن لگتا ہے کہ ویکسین کے لیے ہمیں بہت زیادہ انتظار کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ویکسین کے متعلق ہمیں کہا گیا تھا کہ جنوری تک اپنی تیاری رکھیں اس لیے ہم نے اپنی تمام تیاری لی لیکن تاحال ویکسین کی فراہمی کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ آج ہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیاتی عمل اسد عمر نے کہا تھا کہ کورونا ویکسین سے متعلق قوم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا اور رواں سال کی پہلی سہ ماہی تک ویکسین دستیاب ہوجائے گی’جبکہ اس سے قبل معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے اب تک کورونا وائرس کی کسی ویکسین کے لیے آرڈر نہیں دیا ہے۔
علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ نالائق اور نااہل حکومت کو عام شہری کے مسائل کا علم نہیں ہے جس کے باعث اسٹیل ملز کے 10 ہزار ملازمین کو بے روزگار کردیا ہےانہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام تاریخی مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں جبکہ حکومت کی ساری پالیسی بھی ناکامی سے دوچار ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے ہسپتالوں بشمول این آئی سی وی ڈی کو اپنے قبضے میں کرنے کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا جو عدالتی فیصلے کے بھی منافی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہسپتالوں کا انتظام سنبھالنے سے قبل انہیں واجبات کا معاملہ حل کرنا تھا لیکن اب تک نہیں ہوسکا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘اس کے باوجود حکومت نے ناکام بورڈ آف گورننس کا آرڈیننس جاری کیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مذکورہ آرڈیننس کی وجہ سے خیبرپختونخوا اور پنجاب کا صحت کا نظام غیر فعال ہوچکا ہے’۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں شہریوں کو مفت علاج فراہم کیا جارہا تھا لیکن اب اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کے بعد مستقل ملازمت کے حامل ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ غیر مستقل ملازم ہوجائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہستپالوں کا طبی عملہ پینشن سے بھی محروم ہوجائے گا۔انہوں نے سندھ میں گیس کی لوڈشیڈنگ پر کہا کہ گیس کی ترسیل اور فراہمی میں سندھ کو ترجیح دینی چاہیے، یہ اس کا بنیادی حق ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیر اعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ ناجائز وزیراعظم کی وجہ سے عوام پریشان ہے، ملک میں بلیک آؤٹ ہوجاتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آج تک جواب نہیں دیا کہ بلیک آؤٹ کیوں ہوا؟ جبکہ ملائیشیا میں پی آئی اے کے طیارے کو تحویل میں لیا گیا کیونکہ لیز کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
