ٹائی ٹینک کے ملبے میں پھنسنے پر ایک سائنسدان کیسے زندہ بچا؟

ایک سائنسدان کی بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے میں پھنس کر موت کے منہ سے نکلنے کی حیران کن داستان سامنے آئی ہے۔63 سالہ مائیکل گیولین ماہر طبیعات اور سابق ٹی وی صحافی ہیں جو 2000 میں ایک روسی تحقیقی آبدوز کے ذریعے بحر اوقیانوس کی گہرائی میں موجود ٹائی ٹینک کے ملبے تک گئے تھے۔

ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کی آبدوز ٹائی ٹینک کے ایک بڑے پروپلر میں پھنس گئی تھی۔وہ اس وقت اے بی سی نیوز کے لیے کام کرتے تھے اور پہلے ٹی وی صحافی تھے جو سمندر کی 12 ہزار 500 فٹ گہرائی میں موجود ٹائی ٹینک کے ملبے تک گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری آبدوز بہت مضبوط سمندری کرنٹ میں پھنس کر ٹائی ٹینک کے بہت بڑے پروپلر کی جانب بڑھنے لگی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ شروع میں تو ہمیں احساس ہی نہیں ہوا مگر پھر اندازہ ہوا کہ کچھ غلط ہوگیا ہے، کیونکہ وہ پروپلر اچانک آبدوز کے بہت زیادہ قریب آگیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ‘ہم پروپلر کے بلیڈز کے پیچھے پھنس گئے تھے اور اس پروپلر کے سامنے ہماری آبدوز ایک مچھر لگ رہی تھی’۔

مائیکل گیولین نے کہا کہ ‘اس وقت میرے اندر جو کچھ چل رہا تھا وہ میں کبھی نہیں بھولا اور مجھے لگ رہا تھا کہ اب زندگی کا اختتام آگیا ہے’۔اس وقت ٹائی ٹینک سے ملبہ آبدوز پر گرنے لگا تھا اور سائنسدان نےموت کے امکان کو قبول کرلیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا پائلٹ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اسے کامیابی نہیں ہو رہی تھی، اس وقت میں نے یہ امکان قبول کرلیا تھا کہ اب اختتام آگیا ہے اور میں ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہوں جو 1912 میں ٹائی ٹینک کے ساتھ ہلاک ہوئے تھے’۔پائلٹ کو آبدوز کو وہاں سے نکالنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔

مائیکل گیولین نے کہا کہ ان کے ذہن میں یہ خوفناک تجربہ اس وقت دوبارہ زندہ ہوگیا جب اوشین گیٹ کی ٹائٹن آبدوز 5 مسافروں کے ساتھ ٹائی ٹینک کی جانب جاتے ہوئے 18 جون کو لاپتہ ہوگئی تھی۔ٹائٹن کا ملبہ 22 جون کو دریافت ہوا تھا اور اس پر سوار تمام 5 مسافر ہلاک ہوگئے۔

مائیکل گیولین کے مطابق ہمیں ٹائی ٹینک کی جانب کیے جانے والے ایسے سفر روکنے چاہیے، یہ کوئی تفریحی دورہ نہیں ہوتا، سمندر بہت بے رحم ہے جو آپ کو نگلنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

Back to top button