ٹرمپ نے عدم اعتماد کی تحریک کے خدشے پر سارا الزام حامیوں پر ڈال دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپٹل ہل میں ان کے حامیوں کی جانب سے دھاوا بولنے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک کے خدشے پر تمام الزامات اپنے حامیوں پر ڈال دیئے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ کیپٹل ہل میں کشیدگی کے دوران پولیس افسر برائین ڈی سکنیک زخمی ہوئے تھے بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔پولیس افسر کے علاوہ ایک خاتون اور ہنگامی اقدامات کے دوران مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد دنیا بھر سے ہونے والی مذمت اور ڈیموکریٹس کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے پیش نظر گزشتہ روز اپنے حامیوں کے اقدامات سے خود کو الگ کرلیا تھا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘مظاہرین نے امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور جو لوگ اس کشیدگی اور نقصان میں شامل تھے وہ ہمارے ملک کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں اور جنہوں نے قانون توڑا ہے ان کو بھگتنا پڑے گا’۔ٹرمپ کی وضاحت کے باوجود بھی ماہرین اس کو ماننے سے انکاری ہیں۔
دو روز قبل واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج میں تبدیلی اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے اس حملے کے دوران کیپیٹل ہل (امریکی ایوان نمائندگان) کی عمارت میں موجود قانون دان اپنی جانیں بچاتے ہوئے ڈیسکوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔
اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں کیپیٹل ہل کے اندر ایک خاتون ہلاک ہو گئیں جس کے بعد میئر نے تشدد میں کمی کے لیے شام کے وقت واشنگٹن میں کرفیو نافذ کردیا۔امریکی دارالحکومت میں ناخواش گوار مناظر دیکھ کر دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور حکومت نے مذمت کی تھی جبکہ فیس بک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سوشل میڈیا ایپس پر غیر معینہ مدت کے لیے بلاک کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button