ٹک ٹاکر جنت مرزا نے نجی چیٹ سوشل میڈیا پر شیئر کیوں کی؟

معروف ٹک ٹاکر جنت مرزا کی جانب سے معروف ڈراموں کی پیشکش کے بیان پر ٹرولنگ کے بعد جنت مرزا نے ٹی وی ڈراموں کی آفرز کے پیغامات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے صارفین کو ہوش کے ناخن لینے کی اپیل کی ہے۔
یکم جولائی کو ایکسپریس انٹرٹیمنٹ کے پروگرام ’دی ٹاک شو‘ نشر ہوا تھا جس میں پاکستان میں سب سے زیادہ فالو کی جانے والی ٹک ٹاکر جنت مرزا نے شرکت کی تھی۔
پروگرام کے دوران جنت مرزا نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں نامور ڈرامہ سیریل ’’پری زاد‘‘ میں اُشنا شاہ کا کردار اور ڈراما ’’ہم کہاں کے سچے تھے‘‘ میں کبریٰ خان کا کردار کرنے کی آفر ہوئی تھی، مجھے پری زاد اور ہم کہاں کے سچے میں کردار ادا کرنے کی آفر ہوئی تھی، بدقسمتی سے میں جاپان میں تھی، جس کی وجہ سے میں نہیں کر سکی۔
ٹک ٹاکر نے بتایا تھا کہ مجھے آج بھی پچھتاوا ہے کہ کاش میں پاکستان میں ہوتی، مجھے نہیں لگتا کہ اُشنا اور کبریٰ خان سے بہتر کردار ادا کر سکتی تھی، یہ دونوں بہت عرصے سے اس فیلڈ میں کام کر رہی ہیں، لیکن اگر میں کوشش کرتی تو شاید لوگوں کو میرا کام بھی پسند آتا۔
جنت مرزا کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ایک جانب صارفین حیران ہوئے تو بہت سارے صارفین نے مذاق اڑاتے ہوئے دلچسپ تبصرے کیے۔
کچھ صارفین نے لکھا کہ ’جنت مرزا کے پاس اداکاری کا ہنر نہیں ہے لہٰذا وہ اداکاری کرتی اچھی نہیں لگیں گی۔سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کے بعد جنت مرزا نے آخر کار ڈرامے ملنے کی آفر کے ثبوت پیش کر دیئے، انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری پر دو واٹس ایپ چیٹ کے اسکرین شاٹ شیئر کیے جو بظاہر ’ہم ٹی وی‘ اور ’نینا کاشف‘ کے ہیں۔
جنت مرزا نے لکھا کہ ’میں سوشل میڈیا پر اپنے بیان کی وضاحت یا نجی چیٹ شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ ایسا کرنا بداخلاقی کے زمرے میں سمجھتی ہوں لیکن اب چیزیں بے قابو ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے میں نے چیزوں کو واضح کرنا بہتر سمجھا، میرے خیال سے کسی کو ٹرول کرنے اور کسی کی ذہنی صحت اور سکون کو برباد کرنے سے پہلے چیزوں کو واضح طور پر سمجھ لیں۔
جنت مرزا نے مزید لکھا کہ میں ان چند چینلز کے خلاف کارروائی کروں گی جنہوں نے بغیر تصدیق کیے میرے خلاف افواہیں بھیلائیں اور آن لائن ٹرولنگ کا نشانہ بنایا، میں کم عقل نہیں ہوں کہ کسی پروگرام کے دوران جھوٹ بول کر اس طرح کی باتیں شیئر کروں۔

Back to top button