ٹینس کی خواتین کھلاڑیوں کی بیک وقت دو سرکاری اداروں میں نوکری کا انکشاف

پاکستان میں ایتھلیٹس اور کھلاڑیوں کو نوکریوں کے مواقع نہ ملنے جیسی مشکلات کا سامنا ہے وہیں ملک میں چند خواتین کھلاڑی دو نوکریوں سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔
ٹینس کی تین کھلاڑی واپڈا اور زرعی ترقیاتی بینک کے لیے کام کر رہی ہیں۔ واپڈا میں موجود ذرائع نے بتایا کہ تینوں ٹینس کے کھلاڑی واپڈا کے پے رول پر ہیں، واپڈا نے حال ہی میں زرعی ترقیاتی بینک کو ایک خط لکھا ہے کہ وہ یہ دیکھ کر بتائیں کہ کیا یہ تینوں کھلاڑی زرعی ترقیاتی بینک کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ واپڈا کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ یہ تینوں کھلاڑی قومی سطح پر تمام مقابلوں میں واپڈا اسپورٹس بورڈ کی نمائندگی کر چکی ہیں اور ادارے کا حصہ بننے کے بعد سے واپڈا اسپورٹس بورڈ کے مختلف انٹریونٹ مقابلوں میں بھی شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر وظیفہ/تنخواہ بھی وصول کررہی ہیں۔ واپڈا کی جانب سے 13 اکتوبر 2020 کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ مبینہ طور پر یہ کھلاڑی کھیلوں کی بنیاد پر زرعی ترقیاتی بینک کے ذیلی ادارے کسان اسپورٹس سروس لمیٹیڈ سے منسلک ہیں۔ زرعی ترقیاتی بینک میں موجود ذرائع نے بتایا کہ تینوں خواتین کھلاڑی بینک کے پے رول پر ہیں اور اس وقت ان کے ریکارڈ چیک کیے جا رہے ہیں جن سے واپڈ کو آگاہ کردیا جائے گا۔ پاکساتن ٹینس فیڈریشن کے سیکریٹری کرنل ریٹائرڈ گل رحمٰن نے کہا کہ اس بارے میں کوئی خبر نہیں ہے، البتہ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت ایک کھلاڑی کو ایک حکومتی ادارے میں ہی نوکری دی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو سہولت دی جا سکے، کھلاڑیوں کو ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لیے حکومتی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر نوکریاں دی جاتی ہیں۔ ڈیوس کپ جیتنے والے قومی کھلاڑی مصحف ضیا نے کہا کہ نوکری تمام کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے اور تمام حکومتی اداروں اور محکموں کو ان کو یہ سہولت دینی چاہیے البتہ کسی کو بھی دو نوکریاں نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس سے دیگر مستحق کھلاڑیوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button