ٹیکس ختم، بجٹ کے بعد سولر سسٹم کتنا سستا ہوا؟

مالی سال 2023-24 میں سستا ہونے والا سولر پینل اب بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہے، مینو فیکچرنگ، بیٹریز کی تیاری، انورٹر کے خام مال اور مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی ختم ہونے سے قیمتیں کم ضرور ہوئیں لیکن اس میں مزید کمی ضرورت ہے۔

جینیسز پاور سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بجٹ کے بعد سولر پینل سسٹم کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ کے بعد سولر پینل سسٹم کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے مگر پچھلے برس سے موازنہ کیا جائے تو اس سال رمضان تک سولر پاور سسٹم کا کاروبار 20 فی صد ہوا جبکہ گزشتہ برس رمضان کے مہینے میں یہی کاروبار 70 سے 80 فی صد تک تھا۔

اگر ایک عام سولر سیٹ کی قیمت کی بات کی جائے تو اس پر پہلے تقریباً ساڑھے 8 لاکھ روپے تک کا خرچ آتا تھا مگر بجٹ میں قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد اب اس پر 7 لاکھ 20 ہزار روپے لاگت آتی ہے، ایک واٹ کا پینل جو پہلے تقریباً 140 روپے کا آتا تھا اب وہی پینل تقریباً 85 روپے کا آتا ہے۔

ری انرجی سولر سلیوشن کے ڈائریکٹر شرجیل احمد سلہری نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینل سسٹم کے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی یہ سامنے آئی ہے کہ رواں سال کے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹیاں ختم ہو گئی ہیں، ان پر تو پہلے بھی کوئی کسٹمز ڈیوٹیاں عائد نہیں تھیں۔ اس میں محض سولر پینل کے انورٹر پر جنرل سیلز ٹیکس(جی ایس ٹی) لاگو تھا جو اب ختم ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک چھوٹے گھر میں سولر پینل سسٹم لگانے پر کم از کم 12 سے 13 لاکھ کا خرچہ آتا ہے، سولر پینل کی خریداری کے دوران عام آدمی کے لیے فراڈ پکڑنا خاصا مشکل کام ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس(جی ایس ٹی) ختم ہونے سے تقریباً 5 سے 7 فی صد فرق آتا ہے۔ ادھر اس وقت ڈالر کے نرخ بھی کم ہو رہے ہیں، یہ بھی ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں پینل کی قیمتیں کم ترین سطح پر ہیں۔

اسلام آباد کے ایک رہائشی عمار عباسی نے سولر پینل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں سولر پینل سسٹم لگوانے کے بعد کافی سکون آگیا ہے۔ ’جب سے سولر پینل سسٹم لگوایا ہے بجلی کے بلوں سے جان چھوٹ گئی ہے۔ ہمارے ملک میں بجلی کی پیداوار ہماری ضرورت سے کم ہے۔ اس لیے گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے اگر قابل استطاعت لوگ سولر پینل سسٹم لگوائیں گے تو یقیناً اس کا فائدہ حکومت کے ساتھ عام آدمی کو بھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جس کمپنی سے سولر پینل سسٹم لگوا رہے ہیں تو اس بارے خوب تحقیق کر لی جائے اور انہی کمپنیوں سے سولر پینل سسٹم لگوائیں جو گورنمنٹ آف پاکستان سے منظور شدہ ہوں، راولپنڈی کے رہائشی محمد عدنان نے وی نیوز کو بتایا کہ وہ گھر میں سولر پینل سسٹم لگوانا چاہتے ہیں مگر ابھی ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ شاید بجٹ میں سولر پینل سسٹم کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، سولر پینل سسٹم کی قیمتوں میں اتنی کمی نہیں کی گئی کہ ایک متوسط آمدنی والا شخص اس سسٹم کو خرید سکے، اگر حکومت توانائی کے متبادل ذرائع پیدا کرنا چاہتی ہے اور اس کے فوائد عام آدمی تک پہنچانا چاہتی ہے تو اسے سولر پینل سسٹم کی قیمتوں میں مزید کمی لانا چاہئے۔

Back to top button