پارلیمنٹ اور عدلیہ کی لڑائی میں سسٹم بریک ڈاؤن کا خطرہ

سینئر صحافی اعزاز سید کاکہنا ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کے حوالے سے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کھل کر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ اگر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تو پارلیمنٹ بھی ایسا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پارلیمنٹ متحد ہو گئی ہے اور اس کا اتحاد واضح طور پر نظر آ رہا ہے جبکہ عدلیہ ابھی بھی منقسم ہے۔ اعزاز سید نے مزید کہا کہ عدلیہ کو وزیر اعظم یا کابینہ کی بجائے پوری پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی، کسی ایک بندے کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں مذاکرات کی فضا بنانے کیلئے مختلف سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں تاہم مذاکرات کے لئے بنائی گئی کمیٹیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ حکومتی جماعتوں کو عمران خان پر کوئی اعتبار نہیں۔ عمران خان اب تک مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کو مذاکرات کے لئے بھیجتے ہیں جن کی عمران خان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
دوسری طرف ماہر قانون یوسف نذر کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جہاں آئینی پٹیشنز پر مختصر آرڈر جاری ہوتے ہیں اور تفصیلی فیصلے نہیں جاری کیے جاتے۔ شارٹ آرڈر بذات خود قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ سپریم کورٹ کے 14 اپریل کے فیصلے میں سب سے بڑا نقص ہی یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تفصیلی وجوہات ہی جاری نہیں کیں۔ اسی وجہ سے اس فیصلے کو بددیانتی پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ فنڈز کے معاملے میں سٹیٹ بنک کو براہ راست ہدایت جاری کرنا اچھی روایت نہیں، سپریم کورٹ نے یہ غلط نظیر قائم کی ہے۔نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبرسےآگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی لڑائی ہے اور اس کا آغاز 2016 سے ہوا تھا۔ اس کو سپریم کورٹ نہیں ختم کر سکتی، اس کا حل سیاسی ہی ہو سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2007 کی طرح اسٹیبلشمنٹ اس وقت بھی کنفیوژڈ ہے کہ کس گھوڑے پر پیسے لگائے، معاشی حالات اتنے خراب نہ ہوتے تو شاید وہ خود آ چکے ہوتے۔
ماہر قانون احمد حسن شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ ربرسٹمپ ہے اور جیسا ہم نے کہہ دیا ہے پارلیمنٹ چپ چاپ اس پر عمل کرے تو یہ رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 90 دن میں انتخابات کروانے والا معاملہ حتمی نہیں ہے، قابل ترجیح ہے کہ اس عرصے کے اندر کروائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نیا دائرہ اختیار بنا رہی ہے تو پھر پارلیمنٹ بھی یہی کرے گی۔ اس صورت حال میں ہمیں پیچھے ہٹ کر صفر سے شروع کرکے معاملات کو دوبارہ سے دیکھنا ہو گا۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی لڑائی سسٹم کے بریک ڈاؤن کا ثبوت ہے اور بریک ڈاؤن کی صورت میں انتخابات ملتوی کروانے کا اصول درست معلوم ہوتا ہے۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ میں لامتناہی عرصے کے لیے انتخابات ملتوی کرنے کے حق میں نہیں ہوں، لیکن دو صوبوں میں جلدی انتخابات کروا کر آپ سسٹم میں بگاڑ پیدا کر دیں گے اور اس سے وفاق کو شدید خطرہ درپیش ہو جائے گا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے ضمنی گرانٹ منظور کرنے کی تحریک مسترد کر دی ہے جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا ہے کہ فنڈز جاری کرنا اسٹیٹ بینک کا کام نہیں اور رقم جاری کرنا وزارت خزانہ اور قومی اسمبلی کا استحقاق ہے اور عدالت نے بھی یہی کہا تھا۔ادھر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کیلئے 21 ارب روپے جاری کرنے کی ڈیڈلائن پیر کو ختم ہوگئی ‘وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ خزانہ بھی الیکشن کیلئے 21ارب روپے دینے پر تیار نہیں ‘پیرکو وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو انتخابات کے لیے 21 ارب روپے فنڈز جاری کرنے کے حکم کا معاملہ منظوری کے لیے قومی اسمبلی کو بھجوایا جبکہ اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی فنڈز جاری کرنے کا معاملہ ایوان زیریں کو ریفر کردیا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا جہاں کابینہ نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری کرنے کا معاملہ پارلیمان میں پیش کرنے کی منظوری دی جبکہ قائم مقام گورنرا سٹیٹ بینک سیما کامل نے قائمہ کمیٹی خزانہ کو بتایا ہے کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر رقم مختص کی ہے لیکن اجراکا اختیاراسٹیٹ بینک کے پاس نہیں‘ فنڈزمختص کرنے سے پیسے اکائونٹ میں ہی موجود رہیں گے‘رکن قومی اسمبلی نویدقمر کا کہناتھاکہ سپریم کورٹ کہہ رہی ہے بجٹ مختص کرنے کا اختیار ہمیں دیا جائے لیکن قومی اسمبلی کا یہ اختیار کسی ادارے کو نہیں دے سکتے‘ پارلیمنٹ بھی توہین کی کارروائی شروع کرسکتی ہے‘ پارلیمنٹ کی توہین پر ہم بھی جیل بھیج سکتے ہیں‘۔ہم اپنے اختیارات کا ہر صورت تحفظ کرینگے۔قومی اسمبلی اپنے اختیارات کا تحفظ نہیں کرے گی تو کیا فوج آکر کرے گی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اتنی معاشی مشکلات کے باوجود ایک شخص کو خوش کرنے کیلئے الیکشن کروانے کا فیصلہ دیا گیا‘سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک سے کنسولیڈڈیٹڈ فنڈ سے رقم نکالنے کا حکم دیا تھا۔قائمہ کمیٹی خزانہ نے معاملہ پر غور کیا۔ وفاقی کابینہ اور قائمہ کمیٹی نے معاملہ اس ایوان کو بھیج دیا کیونکہ یہ اختیار اس ایوان کا ہے۔ایوان میں 21 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کے حوالہ سے تحریک پیش کی گئی ،ایوان نے تحریک کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔
