’’پاور گیم سے باہر ہونے پر رانا ثنا اللہ پارٹی سے ناراض‘‘

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ کا اپنے حلقے این اے 100 سے آزاد امیدوار سے شکست کھانے اور پاور گیم سے باہر ہونے پر ان کی پارٹی سے ناراضگی کی چہ میگوئیاں عروج پر ہیں، محسن نقوی کو وزیر داخلہ بنائے جانے کے بعد ان افواہوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ دوسری دفعہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے، الیکشن ہارنے کے بعد رانا ثنا اللہ کے حوالے سے بہت سی چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ اب ’’ن لیگ‘‘ رانا ثنا اللہ کو ضمنی الیکشن لڑوا کر پاور کوریڈور کا حصہ ضرور بنائے گی لیکن جب محسن نقوی کو وفاقی وزیر داخلہ بنا دیا گیا تو یہ افواہیں بھی دم توڑ گئیں کہ رانا ثناء اللہ اب پاور گیم کا حصہ ہوں گے۔ن لیگ ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ پارٹی سے ناراض ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بننے کو تیار نہیں، الیکشن سے پہلے جب عمران خان کو عدت کیس میں سزا ہوئی تو رانا ثنا اللہ چاہتے تھے کہ پارٹی اس کے اوپر کوئی موقف نہ دے، نواز شریف اور شہباز شریف اس ذاتی نوعیت کے کیس پر مذمت کا بیان دیتے لیکن پارٹی نے ان کی کوئی بات نہیں مانی جس سے پارٹی کو الیکشن میں نقصان بھی ہوا۔ رانا ثنا اللہ لاہور کے حلقہ این اے 128 سے عون چوہدری کو ٹکٹ دینے کے بھی حامی نہیں تھے، وہ چاہتے تھے کہ اس حلقے میں مسلم لیگ ن اپنا امیدوار کھڑا کرے لیکن انکی یہ بات بھی نہیں مانی گئی۔الیکشن ہارنے کے بعد رانا ثنا اللہ کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں نواز شریف نے رانا ثنا کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ کام کرنے کو کہا، جس پر رانا ثنا اللہ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ن لیگ کے قائد نواز شریف چاہتے ہیں کہ رانا ثنا اللہ صوبائی وزیر داخلہ کے طور پر پنجاب میں مریم نواز کے ساتھ کام کریں، مگر پارٹی کے اب بننے والے کئی وزرا جو مریم نواز کے بہت قریب ہیں وہ چاہتے ہیں کہ رانا ثناء اللہ پنجاب حکومت کا حصہ نہ بنیں۔ اس بات کا رانا ثنا اللہ کو بھی علم ہے، اور اسٹبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ رانا ثناء اللہ پاور کوریڈور کا حصہ نہ بنیں۔کچھ دن پہلے سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جو لوگ جیتے ہیں وہ آگے آئیں اور ملک اور قوم کے لیے کام کریں۔ میرا ابھی تک ایسا کوئی ارداہ نہیں کہ میں صوبے اور وفاق میں حکومت کا حصہ بنوں، اور نہ ہی ضمنی الیکشن اور سینیٹ کا الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ کچھ عرصہ آرام کروں، بطور صدر پنجاب مسلم لیگ ن پارٹی کے لیے کام کروں، کیونکہ پنجاب کے اندر بہت سارا کام کرنے والا ہے، جو سمجھتا ہوں کہ بہت ضروری بھی ہے، یہ کہنا کہ نواز شریف میرے سے ناراض ہیں ایسا کچھ نہیں، نواز شریف چاہتے ہیں کہ میں وفاق یا پنجاب حکومت کے ساتھ کام کروں، مزید کہا کہ آگے کیا ہوتا ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن میں نے اپنی رائے پارٹی قائد کو بتا دی ہے، پاور گیم سے مجھے کسی نے نہیں میں نے خود اپنے آپ کو کچھ عرصے کے لیے باہر رکھا ہے۔

Back to top button