صدر زرداری نے آصفہ بھٹو کو ہی خاتون اول کیوں بنایا؟

سینئر صحافی نصرت جاوید نے کہا ھے کہ آصفہ بھٹو زرداری پاکستان کی وہ پہلی دختر نہیں جنہیں ان کے صدر ہوئے والد نے ’’خاتون اوّل‘‘مقرر کیا ہے۔ یہ واقعہ صدر ایوب خان کے دور میں بھی ہوچکا ہے۔صدر آصف علی زرداری کی جانب سے لیا یہ فیصلہ اس لئے بھی قابل فہم ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد وہ تنہا زندگی بسرکررہے ہیں۔ ایسے میں غیر ملکی سربراہان کے ساتھ رشتے استوار کرنے کے لئے آصفہ بھٹو زرداری کا انتخاب ایک عمدہ فیصلہ ہے۔
اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ آصفہ بھٹو زرداری کتابوں کی رسیا بتائی جاتی ہیں۔وہ ماحولیات اور جانوروں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کے حوالے سے دنیا بھر میں ابھرتے جذبات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ غیر ملکی وفود سے ملاقاتوں کے دوران وہ ان دونوں موضوعات کے تناظر میں اہم افراد کو ہمارے ہاں ماحولیات کے حوالے سے ابھرتے سنگین مسائل کا حل ڈھونڈنے کو مائل کرسکتی ہیں۔ اپنی والدہ کی تقریباََ فوٹو کاپی نظر آتی آصفہ بھٹو زرداری سوشل میڈیا پر بھی بہت متحرک ہیں۔ ’’خاتون اوّل‘‘ کی حیثیت میں وہ سوشل میڈیا کی بدولت پاکستان میں بے موسمی بارشوں کی وجہ سے مسلسل نمایاں ہورہے ماحولیات سے متعلق مسائل پر لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کے لئے ایک موثر بیانیہ بھی تشکیل دے سکتی ہیں۔جدید ذرائع ابلاغ سے مکمل طورپر آگاہ آصفہ بھٹو کا پا کستان کی ’’خاتون اوّل‘‘مقرر ہونا ایک اچھی اور خیر کی خبر ہے۔
نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ہماری توجہ تاریخ سے بھی قطعاََ ہٹادی ہے۔اکثر واقعات کو ہم ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ ٹھہرانے کو فوراََ رضا مند ہوجاتے ہیں۔تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ اس عادتِ بد کا مجھے آصف علی زرداری کی تقریب حلف برداری کے بعد بہت شدت سے احساس ہورہا ہے۔ اتوار کی شام شروع ہوتے ہی ایوانِ صدر سے لوٹ کر میں نے تھوڑی دیر کو سوشل میڈیا دیکھا تو وہاں دہائی مچائی جارہی تھی کہ آصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد آصفہ بھٹو زرداری کو ’’فرسٹ لیڈی‘‘ یا ’’خاتون اوّل‘‘ مقرر کردیا ہے۔اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم کے باعث لوگ مذکورہ اقدام کو سراہنا یا اس کی بھد اڑانا شروع ہوگئے۔ دونوں جانب کے افراد مگر ایک نکتے پر متفق نظر آئے کہ پاکستان کی تاریخ میں ’’پہلی بار‘‘ کسی صدر نے اپنی دختر کو ’’خاتون اوّل‘‘ ٹھہرادیا ہے۔ کاش ’’تاریخ‘‘ بنانے سے قبل دونوں جانب کے فریقین نے ’’انکل گوگل‘‘ ہی سے رجوع کرلیا ہوتا۔ 1960ء کی دہائی میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی بطورصدرِ پاکستان اپنی دختر بیگم نسیم اورنگ زیب صاحبہ کو ’’خاتون اوّل‘‘ تعینات کیے رکھا تھا۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ بیگم نسیم اورنگزیب نہایت باوقار اور حسین خاتون تھیں۔ سوات کے پرنس اورنگزیب ان کے شوہر تھے جو کسی زمانے میں ایوب خان کے اے-ڈی-سی بھی رہ چکے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان امریکہ کے قریب ترین حلیفوں میں شامل تھا۔ اسی باعث ایوب خان بطور صدرِ پاکستان دو سے زیادہ بار امریکہ کے سرکاری دورے پر مدعو کئے گئے تھے۔ دونوں مرتبہ بیگم نسیم اورنگزیب ان کے ہمراہ تھیں۔امریکی دورے کے دوران ہی ایوب خان نے امریکی صدر جان کنیڈی کے ساتھ ذاتی مراسم استوار کئے۔اسی باعث امریکی صدر کی اہلیہ جیکو لین کنیڈی بھی بطور خاتون اوّل پاکستان کے دورے پر آئی تھیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ بھی ہمارے ہا ں ایک طویل دورے کے لئے 1960ء کی دہائی ہی میں مدعو ہوئی تھیں۔ غیر ملکی سربراہان مملکت کے ان تمام دوروں کے دوران بیگم نسیم اورنگزیب بہت اہتمام اور تیاری کے ساتھ ’’خاتون اوّل‘‘ کی حیثیت میں ایوب خان کے ہمراہ موجود ہوتیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایوب خان کی تمام تر کاوشوں کے باوجود 1962ء میں چین-بھارت جنگ کے بعد امریکی صدر کنیڈی نے سوویت یونین کے ساتھ بھارت کے گہرے مراسم کو بھلاتے ہوئے اس ملک کو ’’امریکی کیمپ‘‘ میں لانے کی کوششیں شروع کردیں۔فیلڈ مارشل ایوب خان کو امریکہ کی بے گانگی کا احساس مگر 1965ء کی پاک-بھارت جنگ کی وجہ سے ہونا شروع ہوگیا تھا۔اسی وجہ سے موصوف نے الطاف گوہر سے ’’جس رزق سے آتی ہو‘‘ کے عنوان سے اپنی ’’آپ بیتی‘‘لکھوائی تھی۔ اگرچہ مذکورہ کتاب کا انگریزی عنوان ” فرینڈز ناٹ ماسٹرز” زیادہ پسندیدہ تھا
