پاکستانی اداکار ڈرامہ ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ کا حصہ کیوں نہ بن سکے؟

پاک ترک مشترکہ پروڈکشن میں بننے والے ڈرامے ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ کے لیے پاکستان کے چھ ہزار اداکاروں کے آڈیشن لیے گئے جن میں سے 60 اداکاروں کو فائنل کیا گیا لیکن کسی کو بھی ڈرامے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔شہیرا جلیل نے حال ہی میں ’’سم تھنگ ہاٹ‘‘ کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت شوبز انڈسٹری کے حوالے سے کھل کر بات کی اور ساتھ ہی صلاح الدین ایوبی ڈرامے سے متعلق بھی کئی انکشافات کیے۔پاکستان اور ترکیہ کے نجی پروڈکشن ہاؤسز کے اشتراک سے تیار کیے گئے تاریخی ڈرامے ’صلاح الدین ایوبی‘ کا ٹریلر کچھ دن قبل جاری کیا گیا تھا اور اسے رواں ماہ نومبر کے وسط سے ترکیہ میں نشر کرنے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔ڈرامے کے پروڈیوسرز میں ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی بھی شامل ہیں اور اس میں کام کرنے کے لیے پاکستان کے 6 ہزار اداکاروں کے آڈیشن لیے گئے تھے، جس میں سے صرف 60 اداکاروں کا منتخب کیا گیا تھا لیکن ڈرامے کے جاری کیے گئے ٹریلر میں کسی پاکستانی اداکار کی جھلک نہیں دکھائی گئی، جس پر بعض پاکستانی اداکاروں نے مایوسی کا اظہار بھی کیا۔کچھ عرصہ قبل ژالے سرحدی نے بھی صلاح الدین ایوبی میں کسی پاکستانی اداکار کی جھلک نہ دکھائے جانے پر اظہار افسوس کیا تھا، اب ابھرتی ہوئی اداکارہ شہیرا جلیل نے بھی اس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بھی صلاح الدین ایوبی کے لیے کاسٹ کیا گیا تھا۔ شہیرا جلیل کا کہنا تھا کہ گولڈن ٹکٹ حاصل کرنے والے اداکاروں میں عائشہ عمر، اشنا شاہ، علیزے شاہ اور ارسلان نصیر سمیت دیگر بڑے بڑے اداکار تھے اور وہ بھی ان میں شامل تھیں۔شہیرا جلیل نے صلاح الدین ایوبی میں کسی پاکستانی اداکار کے شامل نہ ہونے پر اسے پاکستان کا نقصان قرار دیا۔ان سمیت جن پاکستانی اداکاروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، ان کا واٹس ایپ گروپ بھی بنایا گیا لیکن آج تک کسی کو کام کے لیے نہیں بلایا گیا اور اب تو ڈرامے کا ٹریلر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ہوئی، ان کے والد یوسی ناظم رہے ہیں اور وہ 2018 سے قبل فل برائٹ اسکالر شپ پر تعلیم حاصل کرنے امریکا گئی تھیں، وہاں انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کی جدوجہد کی، جس وجہ سے ان کا نام ایک ایسی آرگنائزیشن میں شامل کیا گیا، جسے فلسطینیوں کے حقوق پر بات کرنے کی وجہ سے دہشت گرد تسلیم کیا جاتا ہے۔شہیرا جلیل الباسط نے بتایا کہ 2018 میں امریکی سکول میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والی سبیکا شیخ ان کی کزن تھیں، جنہیں انہوں نے منتیں کر کے وہاں سکالر شپ پر پڑھنے کے لیے بھیجا، پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری موجود ہونے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کاسٹنگ کاؤچ بھی انڈسٹری کا حصہ ہے لیکن نئی لڑکیاں زیادہ ذہین ہیں، وہ ہدایت کاروں سمیت دیگر افراد کے جھانسے میں نہیں آتیں۔
