پاکستانی سیاست میں پیر اور گدی نشین کیا کردار ادا کرتے ہیں؟


پچھلی سات دہائیوں کی ملکی سیاست میں درگاہوں، درباروں اور پیروں نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے اور اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے کئی حلقوں میں تو ایسا محسوس ہوتا یے جیسے وہاں الیکشن سیاسی جماعتوں کے بجائے روحانی گدیوں کے مابین لڑے جاتے ہیں۔
انگریزوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے ہندوستان میں استحصالی تصورات کے تحت نئے سیاسی طبقات پیدا کیے اور انھیں اپنا دست راست بنا کر طاقت میں حصے دار بنایا۔ وفادار خانوادوں کو وائسرائے کے دربار تک رسائی، خطابات اور سرکاری عہدوں سے نواز کر انھیں سماج کے دیگر طبقات کے مقابلے پر ممتاز کیا گیا۔ برطانوی راج میں حکمت عملی کے تحت فرقہ وارانہ مذہبی شناخت کو سیاسی شناخت کے ساتھ مربوط کیا گیا، اس کے لیے سرداروں، وڈیروں، جاگیردار خانوادوں کو مزارات کی گدی نشینی اور پیری مُریدی کے لیے منتخب کیا گیا۔
مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ پر برطانوی سرکار نے ہندستان میں جب کنٹرولڈ جمہوری سیاست متعارف کرائی تو سرکار نے انھی خانوادوں کو اسمبلیوں تک پہنچانے کا بندوبست کیا۔اور پھر انھی جاگیرداروں کو پیری مُریدی کا کردار سونپا گیا۔ پیروں کو ڈپٹی کمشنر، کمشنر یا گورنر کے دربار میں کُرسی عطاء کی جاتی، یہ کُرسی منصب، مُریدوں کی تعداد، انگریز وفاداری پر بہ طور انعام دی جاتی۔ پھر سرکار کی جانب سے ان پیروں کو سونے یا چاندی کے حروف میں لکھا شاباش نامہ دیا جاتا اورمخصوص علامتی لباس کے ساتھ تلوار اور بندوق بھی فراہم کی جاتی۔ انگریز دور سے جاری سیاست میں گدی نشینوں کی مداخلت تاحال جاری ہے۔ تاہم دیگر صوبوں کی نسبت اندرون سندھ کی سیاست میں پیروں اور خانقاہوں کا تسلط زیادہ مضبوط نظر آتا ہے اور وہاں پر کسی بھی سیاسی امیدوار کی کامیابی اس بات کے مرہون منت ہوتی ہے کہ وہ کس خانقاہ سے تعلق رکھتا ہے یا اسے کس خانوادے کی تائید حاصل ہے اور عموما اندرون سندھ میں انتخابی کمپینز متعلقہ خانقاہوں کے مریدین اور عقیدت مند ہی چلاتے ہیں۔
ملک کی مختلف خانقاہوں اور سلسلہ ہائے ارادت کی بات کی جائے توملتان کے حضرت غوث بہاؤالدین زکریا کی درگاہ سے وابستہ غوثیہ جماعت سندھ میں شروع ہی سے غیر سیاسی رہی۔ لیکن شاہ محمود قریشی کے گدی نشین بننے کے بعد وہ غوثیہ جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی قوت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
پی پی پی سے 18 برس کی سیاسی رفاقت ختم کر کے شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے اپنے نئے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو اپنے آبائی حلقے ملتان کے بجائے سندھ کے سرحدی ضلع گھوٹکی کو ترجیح دی۔ جہاں غوثیہ جماعت کے مریدوں کی ایک بڑی تعداد سندھ کے دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی پی پی پی کے سیاسی مراکز سمجھے جانے والے دیہی سندھ کے اضلاع میں بھی کچھ حمایت موجود ہے۔ دوسری طرف پیر پگارا کی حُر جماعت کے ضلع سانگھڑ اور خیر پور میں ایک کثیر تعداد میں روحانی پیروکار ہیں۔ دیگر روحانی جماعتوں کے مقابلے میں حر جماعت سب سے زیادہ منظم ہے۔ حُر جماعت انتخابات میں ہمیشہ مسلم لیگ فنکشنل کو سپورٹ کرتی ہے جس کے قومی و سندھ اسمبلی کے لیے ارکان منتخب ہوتے رہے ہیں۔
سروری جماعت ضلع مٹیاری کے ہالہ کے آستانے سے تعلق رکھتی ہے اور پی پی پی کے مرکزی رہنما مرحوم مخدوم امین فہیم بھی اسی درگاہ سے تعلق رکھتے تھے۔امین فہیم کا اثر و نفوذ مٹیاری کے ساتھ ساتھ تھرپارکر اور عمرکوٹ سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں تھا۔مخدوم خاندان نے 2018 کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل پیپلز پارٹی سے اپنی 50 سالہ وابستگی ختم کرنے کی دھمکی دے کر پارٹی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی مطلوبہ نشستیں لینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
اسی طرح رانی پور روحانی سلسلے کے گدی نشین پیر عبدالقادر جیلانی کے پوتے اور درگاہ کے موجودہ گدی نشین فضل شاہ کے والد پانچ بار رکنِ قومی اسمبلی رہے ہیں۔فضل شاہ خود دو بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور گزشتہ انتخابات میں وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر ایک مرتبہ پھر اسمبلی تک پہنچ چکے ہیں۔ گھوٹکی کی درگاہ عالیہ بھرچنڈی شریف کے پیر بھی سیاسی حوالے سے کافی اہم ہیں جن کے پیر عبدالحق عرف میاں مٹھو آئے دن ہندو لڑکیوں کی مذہب تبدیلی اور شادیوں کے حوالے سے خبروں میں رہتے ہیں۔
سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بالخصوص دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب کی سیاست میں درگاہوں، درباروں اور پیروں کا کردار بہت مضبوط ہے اور مقامی درگاہوں کے گدی نشینوں کی سیاست اور انتظامیہ میں گرفت موجود ہے جہاں مرید خود کو اپنے پیر کے فیصلے قبول کرنے کا پابند سمجھتے ہیں۔ مذہب اور روحانی گدیوں پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق درگاہوں اور مزاروں سے وابستہ روحانی پیر یا تو خود انتخابات میں حصہ لیتے ہیں یا اپنے نمائندوں کو انتخابات میں امیدوار نامزد کرتے ہیں۔ پاکستان کے متعدد حلقوں میں اس روایت کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات سیاسی جماعتوں کے بجائے روحانی گدیوں کے درمیان لڑے جاتے ہیں۔
روحانی گدیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ اراکین اسمبلی 2017 میں سرگودھا کی درگاہ سیال شریف سے وابستہ پیر خواجہ حمیدالدین سیالوی کی ہدایت پر اپنی نشستوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ برِصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج کے دوران خطے میں جاری مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ پر ایک منصوبے کے تحت روحانی گدیوں کی سیاست میں کردار کو دوبارہ فروغ دیا تھا۔برطانوی راج کے دوران انگریز بھی اس خطے کی سیاست پر درگاہوں اور پیروں کے کردار کے قائل تھے اور وہ خطے کے روحانی و صوفی بزرگوں سے یا تو تعاون کر کے چلتے تھے یا پھر انہیں مراعات و عطیات اور زمین دیتے تھے تاکہ اُن کی طرف سے کسی بھی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جنوبی ایشیا کی تاریخ پر تحقیق کرنے والی برطانوی پروفیسر سارہ انصاری اپنی کتاب ”صوفی سینٹس اور اسٹیٹ پاور، پیرز آف سندھ 1843-1947‘ میں لکھتی ہیں کہ برطانوی راج نے سندھ کے پیروں کو سیاسی طاقت دینے کے لیے 1876 میں ‘اینکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ’ نافذ کیا جس میں 20 برس تک توسیع کی جاتی رہی۔ سارہ انصاری لکھتی ہیں اس ایکٹ کا بنیادی مقصد مقروض زمینداروں کو عارضی طور پر معاشی تحفظ پہنچانا تھا مگر مریدوں کی شکل میں مالی مدد کے پوشیدہ ذرائع موجود ہونے کے باوجود پیروں نے بھی اشرافیہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ایکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
اینکمبرڈ ایکٹ کے تسلسل کے طور پر 1905 میں کورٹ آف وارڈز سسٹم اور بعد میں کوآپریٹیو سوسائیٹیز ایکٹ بھی متعارف کرائے گئے جن کا پیروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ سارہ انصاری مزید لکھتی ہیں کہ برطانوی حکمرانوں نے 1886 میں ‘بمبئی ایکٹ’ متعارف کر کے پیروں کو تنازعات کے حل کرنے کے اختیارات دیے اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہی پیروں کی معاشی طاقت زمینوں کے بڑے رقبے خریدتے وقت نظر آنا شروع ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں نے پیروں کی حمایت کی پالیسی کا تسلسل جاری رکھا۔
اب برسوں سے اقتدار میں رہنے سے پیروں اور گدی نشینوں کے نہ صرف سیاسی اور سماجی رتبے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ وہ معاشی طور پر بھی کئی گنا طاقتور بن چکے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تعلیم کے عام ہونے کی وجہ سے اب روحانی جماعتیں بتدریج اپنا اثر و رسوخ کھو رہی ہیں اور ملک کے دیہی علاقوں میں پیری مریدی کی بنیاد پر ووٹ دینے میں کمی ہو رہی ہے جب کہ مذہبی جماعتوں، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (ف) کی شکل میں مذہبی ووٹ بڑھ رہا ہے۔
پیری مریدی کی بنیاد پر ووٹ دینے کے رجحان میں کمی کے اسباب بتاتے ہوئے محققین کہتے ہیں ماضی میں روحانی گدیوں سے وابستہ پیر اپنے اولیا کے پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنے لوگوں کے پاس آتے تھے لیکن اب یکسر یہ معاملہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اُن کے بقول، "پہلے سجادہ نشین سال میں ایک بار لازمی کسی علاقے کا دورہ کرتے اور اپنے پیروکاروں سے مسائل دریافت کرتے تھے مگر گزشتہ دو دہائیوں سے یہ سلسلہ عملی طور پر ختم ہو کر رہ گیا ہے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button