پاکستانی سیاست کا مداری اور بندر دونوں کیسے پھنس گئے؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ اپنے ہائبرڈ نظام حکومت کے ذریعے پاکستان کو بد ترین معاشی و سیاسی بدحالی کا شکار کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ سخت مشکل میں پھنسی نظر آتی ہے کیونکہ موجودہ نظام کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کئے بغیر اور اسکامکفسرہ ادا کیے بغیر یہ کوئی نیا منجن یا چورن بیچنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ لہذا اس مرتبہ صرف بندر نہیں بلکہ مداری بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں طلعت حسین کہتے ہیں کہ موجودہ حالات کے جبر نے قوم کو یہ ضرور سمجھا دیا ہے کہ اس مشکل کا آغاز کب سے ہوا اور کیسے انکو طوطا مینا کی کہانیاں سنا سنا کر برسوں گمراہ کیا گیا۔ فرضی داستانوں کے مصنفین عموماً اپنے بنائے ہوئے کرداروں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت صعرتحال الٹ یے اور موجودہ نظام کا خالق ہی اپنی تخلیق کی ہوئی مخلوق کی گرفت میں نظر آتا ہے۔ یعنی اوپر سے نیچے تک سب پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن دوسری جانب حزب اختلاف اپنے اختلافات کو بھلا کر اپنے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کو مکمل طور پر متحد کیے بغیر ایک نیا سیاسی اکٹھ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
طلعت بتاتے ہیں کہ بندر ایک بہت پھرتیلا جانور ہے، چابک دستی میں اس کو مات دینا مشکل ہے۔ درختوں پر کودتا ہوا کہاں سے کہاں نکل جاتا ہے۔ حملہ کرکے منہ چڑاتا ہوا واپس ایسے ہوتا ہے کہ آپ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ جال ڈالنے والے بتاتے ہیں کہ اس کے لیے جال کو کتر کر نکل جانا آسان ہے۔ مگر پھر بھی یہ تب قابو میں آ جاتا ہے جب ایک پتلی گردن والے مرتبان میں اس کی پسند کا پھل ڈال کر اس کو لالچ دیا جاتا ہے۔ عموما بندر پھل کو نکالنے کے لیے دونوں ہاتھ مرتبان کے اندر ڈالتا ہے اور پھر نکال نہیں پاتا کیوں کہ ہاتھ کھولے گا تو پھل گرے گا اور اگر پھل کو پکڑے رکھے تو یونہی پھنسا رہے گا۔ بقول طلعت، پاکستان میں سیاسی طاقت کا کھیل بندر پھنسانے والے مرتبان کی سی شکل اختیار کر گیا ہے اور ہر کسی نے ہاتھ گھسا کر اپنے آپ کو مقید کر دیا ہے۔ ماضی میں ایسے حالات غیر سیاسی قوتوں یا مداریوں کے لیے آسان شکار کا باعث بنتے رہے ہیں۔ جب سب پھنس جاتے تھے تو وہ اپنے پسندیدہ بندر کو نکال کر دوسرے کو جکڑ دیتے اور یوں اصل طاقت اپنے پاس رکھتے۔ لیکن اس مرتبہ صرف بندر ی نہیں بلکہ مداری بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
طلعت حسین بتاتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں بہت کم ایسے ہوا ہے کہ جب حقیقی اور ظاہری طاقت رکھنے والی تمام قوتیں ہاتھ پاؤں مارتی ہوئی نظر آئیں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کیا کرنا ہے، کیا ہونے والا ہے اور کیا ہو گا۔ حکومت کا سیاسی عدم تحفظ اب ابل کر سامنے آ رہا ہے۔ پارلیمان کے اندر سے حکومتی جماعت کے ممبران کا غائب ہو جانا اور بار بار اونچی آواز میں خود کو پانچ سال پورا کرنے کی یقین دہانی کرانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کی صفیں اگر ٹوٹی نہیں ہیں تو مسلسل بے ترتیبی کا شکار یقیناً ہو چکی ہیں۔ چھوٹے اتحادی جن کو بہلا پھسلا کر ایک آدھ وزارت دے کر خوش کر دیا جاتا تھا اب مسلسل آنکھیں نکال رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ، قاف لیگ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سب اکھڑے اکھڑے سے ہیں اور قانون سازی پر ووٹ ڈالنے کے لیے وزیراعظم سے منتیں کروا رہے ہیں۔ طلعت کہتے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلی سے اگر اشارہ لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اکھڑی اکھڑی باتیں اکھاڑ پچھاڑ کی آمد کے جھونکوں کی طرح ہوتی ہیں۔ مسلسل ہونے لگیں تو طوفان یقینی ہوتا ہے۔
حکمراں پی ٹی آئی کے اپنے سیاست دان بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کے سانپ نے ان کے حلقوں کو ایسے ڈسا ہے کہ ہر کوئی زہر اگلنے لگا ہے۔ یہ لوڈشیڈنگ تو ہے نہیں کہ لوگ ہلکا پھلکا احتجاج کر کے گزارہ کر لیں۔ گھر میں دانے ختم ہو گئے ہیں۔ نوکریوں سے نکالے گئے، سردی میں ٹھٹرے جسم ناتواں اور بےبس ہیں۔ تنگ آمد، بجنگ آمد کی سی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔
ہر حلقے میں گھروں کے معاشی نظام کی بربادی کے قصے زیربحث ہیں۔ حکومت کے چند ایک خصوصی وزرا کے علاوہ، پچھلی حکومت کے بارے میں پی ٹی آئی کے اپنے رکن بھی بات نہیں کرتے۔ سب کو پتہ ہے کہ اپنے علاقوں میں پچھلی حکومتوں پر تنقید ایسی ہوائی فائرنگ ہے جو واپس اپنے گھر پر آ کر ہی گرتی ہے۔ طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اس جنجال سے بچنے کا راستہ انتخابات سے پہلے تو سامنے آنے کا نہیں۔ یہ مصیبت معیشت کے ڈھانچے، آئی ایم ایف کے پروگرام اور پالیسی کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مارنے کا نتیجہ ہے۔ یہ چند ماہ کا قصہ نہیں، سالوں پر محیط مسئلہ ہے۔ ان حالات میں انتخابات ہوئے تو جیتنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے جادو کے علاوہ حکومت کے لیے اور کوئی فارمولہ کارگر نہ ہو گا۔
تاہم حکومتی حلقوں کو یہ اعتماد ضرور ہے کہ معاشی حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ شاید دوسری کسی جماعت کے لیے فوری طاقت پلیٹ میں رکھ کر دیے جانے پر بھی قابل قبول نہ ہو۔ یہ وہ اعتماد ہے جسکو استعمال کرتے ہوئے بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ کپتان حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ یہ وہ اعتماد ہے کہ تین سال سے خصوصی شفقت کا سلسلہ تھم تو گیا ہے لیکن شاید ہواؤں نے ایسا بھی رخ نہیں بدلا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی رحمتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے کاشانوں پر ہونے لگیں۔ لہذا امید اور بےچینی ہر روز حکومتی نمائندگان کو مختلف اور متضاد بیانات دینے پر مجبور کرتی ہے۔ کبھی کہتے ہیں حکومت پانچ نہیں دس سال چلے گی، کبھی بیان دیتے ہیں کہ وزیراعظم کی ان ہاؤس تبدیلی قابل قبول نہیں ہے۔
حزب اختلاف اپنے اختلافات کو بھلا کر اپنے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو مکمل طور پر متحد کیے بغیر ایک نیا سیاسی اکٹھ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
طلعت حسین بتاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے پرانے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے آصف علی زرداری کے ساتھ مل کر پی ڈی ایم کی کڑواہٹ کو دور کیا ہے۔
آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے موقعے کی مناسبت سے اپنے اعتراضات کو پرے رکھتے ہوئے ن لیگ کے ساتھ ایک غیررسمی الائنس ترتیب دیا ہے۔ احتجاج وغیرہ کے معاملات طے کرنا مقصود نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ اگر قومی اسمبلی کے اندر سے وزیراعظم کو چلتا کرنے کی بات آگے بڑھی تو اجتماعی سیاسی وسائل کیسے بروئے کار لائے جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کو بھی پتہ ہے کہ یہ سب کچھ اشارے ملے بغیر نہیں ہوگا اور اشارے بہرحال ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ ان جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تصویر صاف نظر آنے لگے گی جب 19 نومبر کا اہم دن گزر جائے گا اور آئی ایس آئی کا نیا سربراہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لے گا۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2018 کے بعد طاقت صرف حکومت نے استعمال نہیں کی۔ ایک اشتراکی نظام معرض وجود میں لایا گیا تھا جو ابھی تک برقرار ہے اور جس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ مسلسل بیک سیٹ ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھی۔ باہمی ناچاکیاں اپنی جگہ، اس نظام میں پارٹنر تبدیل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا اپوزیشن بھی پھنسی ہوئی ہے، امید بھی رکھی ہے اور حتمی انتظام کرنے سے بھی قاصر ہے۔ لیکن طلعت حسین کے خیال میں سب سے زیادہ مشکل میں ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نظر آتی ہے جس کے لیے موجودہ ناکامی کی ذمہ داری قبول کیے اور اس نظام۔خو خود ختم کیے بغیر ایک نیا سیاسی منجن بیچنا اب ناممکن ہے۔
