’’پاکستانی فنکارہ شازیہ سکندر کی امریکہ میں دھوم‘‘

پاکستانی فنکارہ شازیہ سکندر نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے ایک ’’لیڈی جسٹس‘‘ کے نام سے ایسا مجسمہ تیار کیا ہے جس کو اعزازی طور پر امریکی عدالت کے باہر نصب کیا گیا ہے۔
پاکستان نژاد امریکی فنکارہ شازیہ سکندر کا بنایا ہوا مجسمہ ’لیڈی جسٹس‘ امریکی عدالت کے باہر نصب کیا گیا ہے، یہ مجسمہ ’جسٹس‘ کے متعلق خواتین کی طرف سے پہلی پیشکش ہے اور اسے مین ہٹن میں نیویارک اپیلینٹ کورٹ ہاؤس کے باہر رکھا گیا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں شازیہ سکندر کا کہنا تھا کہ اس مجسمے کی ثقافتی سطح پر بہت ضرورت تھی کیوںکہ پوری دنیا میں طاقت کی پیشکش کے روایتی انداز میں تبدیلی آ رہی ہے۔
شازیہ سکندر کا مجسمہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ امریکہ میں خواتین کے پیداواری حقوق پر بحث جاری ہے کیوںکہ امریکی سپریم کورٹ نے ایبورشن کے آئینی حق کو ختم کر دیا تھا۔
فنکارہ نے اپنے بیان میں لکھا کہ بطور انصاف خواتین کے تصور کو صدیوں سے پیش کیا جا رہا ہے لیکن اسے اپنے حق میں بولنے کی آواز پچھلی صدی میں ملی ہے۔
اس مجسمے کے بیرونی سطح پر اردو زبان میں ام حوا تحریر کیا گیا ہے جس کو اردو زبان سمجھنے والے بآسانی پڑھ سکتے ہیں لیکن عام طور پر انگریزی زبان میں اس کو لیڈی آف جسٹس کا نام دیا گیا ہے، شازیہ سکندر پہلی پاکستانی امریکن آرٹسٹ ہیں جن کو اس طرح سے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا ہے۔
شازیہ سکندر کی جانب سے مجسمے کے ساتھ اس کی کتابی شکل میں تفصیلات بھی تحریر کی ہیں جن کو انگریزی اور ہسپانوی زبان میں تحریر کیا گیا ہے، تحریر میں مجسمے کے تاریخی پس مںظر اور اس کی موجودہ دور میں اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔
یہ مجسمہ امریکی شہریوں میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے، لوگوں کی بڑی تعداد اس مجسمے کے قریب آتی ہے تصاویر بنواتی ہے بلکہ اکثریت اس کی تحریر اور پس منظر کو پڑھنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
خاتون آرٹسٹ کی جانب سے خاتون مجسمے کی ٹانگوں کو زمین کے اوپر اور پودے کی جڑوں کی طرح رکھا گیا ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ عورت دنیا میں جہاں بھی سفر کرتی ہے اپنی جڑوں کو ساتھ رکھتی ہے۔
