ناجائز بیٹی کیس میں عمران خان کا بچنا نا ممکن کیوں؟

توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے خطرے سے دوچار سابق وزیر اعظم عمران خان اب اپنی ناجائز بیٹی کی چھپانے اور انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے کیس میں بچتے نظر نہیں آتے۔یکم فروری کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی مبینہ بیٹی ٹیریئن وائٹ کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر ان کی نااہلی سے متعلق دائر درخواست پر اپنا عبوری جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کراتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت ٹیریئن سے متعلق ڈیکلریشن کے جائزے کا آئینی دائرہ اختیار نہیں رکھتی اور چونکہ اب وہ رکن قومی اسمبلی نہیں رہے اس لیے یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے لہذا عدالت اس درخواست کو مسترد کرے۔
عمران خان کی طرف سے جمع کروائے گئے اس جواب میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی جب اس قسم کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی تو اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور موجودہ چیف جسٹس عامر فاروق اس نوعیت کا کیس سننے سے انکار کر چکے ہیں۔اس جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر ایک بار جج کیس سننے سے انکار کر دے تو دوبارہ کسی جج کا یہ کیس سننا غیر مناسب ہے۔
اس جواب میں عمران خان نے سابق رکن قومی اسمبلی فیصل واووڈا کی طرف سے دہری شہریت چھپانے کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جب کوئی شخص عوامی عہدہ رکھتا ہو تو اس وقت ہی اس کے خلاف کوئی درخواست دائر کی جاسکتی ہے اور اگر کوئی شخص عوامی عہدہ چھوڑ دے تو اس کے خلاف اس قسم کی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔
قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان نے اپنے جواب میں عدالتی دائرہ اختیار تو چیلنج کیا ہے لیکن انھوں نے اپنے جواب میں کہیں بھی ٹیریئن وائٹ کو اپنی بیٹی ماننے سے انکار نہیں کیا۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے بطور رکن قومی اسمبلی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا تاہم ضمنی انتخابات میں انھوں نے قومی اسمبلی کے سات حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور الیکشن کمیشن ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرچکی ہے۔
عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کی اب تک سات سے زیادہ سماعتیں ہوچکی ہیں تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ یہ درخواست قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔عدالتی سماعتوں کے بیچ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور عمران خان کی حکومت مخالف مہم کے عروج پر اس معاملے کو ازسر نو کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل عابد ساقی کا کہنا ہے کہ اس کیس میں بظاہر قانونی پچیدگیاں کم اور سیاسی پچیدگیاں زیادہ ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’بدقسمتی سے سیاسی مقاصد قانون کی آڑ میں حاصل کیے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔‘عابد ساقی کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ایسی باتیں عدالتوں میں نہیں آنی چاہییں اور نہ ہی عدالتوں کو ذاتی معاملات میں پڑنا چاہیے کیونکہ اس قسم کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنا خود عدالتوں کے لیے بھی نیک نامی نہیں لے کر آتا۔
صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’ملک میں جاری سیاسی تناؤ میں ہو سکتا ہے کہ عمران خان اس معاملے میں نااہل ہو جائیں لیکن انھیں سیاسی طور پر کسی طور ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘انھوں نے کہا کہ ’انتظامی اور عدالتی فیصلوں سے تو ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی سیاسی فائدہ اٹھایا جائے لیکن عمران خان کے حمایتی اس فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔‘مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ’جس طرح سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل کیا گیا لیکن اس فیصلے کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے حمایتیوں نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’سنہ 50 کی دہائی میں بھی سیاست دانوں کو نااہل قرار دیا گیا لیکن ایسے سیاست دانوں کو عوام کے دلوں سے نہیں نکلا جا سکا۔‘انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں عدلیہ کا کردار بھی متنازع رہا ہے اور اب یہ تمام تر ذمہ داری پارلیمنٹ پر ہے کہ وہ اس بارے میں قانون سازی کرے یا کوئی ایسا طریقہ کار وضح کرے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے سیاست دان ایک دوسرے کی مخالفت اور سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے عدالتوں یا کسی ادارے کی طرف نہ دیکھیں۔
درخواست گزار محمد ساجد کے مطابق چونکہ عمران نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ کے بطن سے پیدا ہونے والی بیٹی ٹیری کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پارلیمنٹرین اپنی اولاد چھپاتا ہے تو اسکی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی بنتی ہے جوکہ تاحیات نااہلی بھی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف ٹیری وائٹ کیس کی بنیاد پر نا اہلی کی پٹیشن سب سے پہلے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے دائر کی تھی جو کہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ ٹیریان اس وقت عمران کے دونوں بیٹوں کے ہمراہ جمائما کے زیر پرورش ہیں۔ ٹیریان عمران کی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ کی اولاد ہیں جن کے انتقال کے بعد عمران کی خواہش پر جمائما نے اسےگود لے لیا تھا۔ٹیریان وائٹ کے بارے میں سیتا وائٹ کا دعویٰ تھا کو وہ عمران کی اولاد ہے لیکن خان نے ہمیشہ اس سے انکار کیا۔ ماضی میں پاکستانی اخبارات نے اس بارے میں برطانوی اخبار مرر اور امریکی اخبار دی نیو یارک پوسٹ کی رپورٹیں چلائی تھیں جن کے مطابق سیتا وائٹ عمران کی گرل فرینڈ تھیں اور دونوں کی شادی کے بغیر محبت کے نتیجے میں ٹیریان پیدا ہوئی۔ سیتا کی موت کیلیفورنیا میں سانتا مونیکا کی یوگا کلاس کے دوران ہوئی جو بیورلے ہلز میں ان کے شاندار مکان کے قریب میں واقع ہے۔ ان کی موت سے صرف چند ہفتے پہلے ہی انہیں آٹھ سال کی قانونی لڑائی کے بعد اپنے مرحوم باپ کی جائیداد سے ایک تصفیہ کے ذریعے تین ملین ڈالر کی رقم ملی تھی۔
سیتاوائٹ ایک یوگا اسٹوڈیو میں قدیم ورزشوں اور روحانی مشقوں کی تعلیم دیا کرتی تھیں۔ ٹیریان عمران سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ سیتا وائٹ نے ٹیریان کو عمران کی اولاد ثابت کرنے کے لیے لاس اینجلس کی ایک عدالت میں دعوی ٰدائر کیا تھا جس کا فیصلہ 1997 میں آ گیا تھا اور امریکی جج نے عمران کو لڑکی کا باپ قرار دیا تھا۔امریکی عدالت کے فیصلے اور ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق عمران خان ہی ٹیریان کے اصل والد ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی مرر کی سال 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران نے ٹیریان وائٹ کو اس لئے اپنی بیٹی تسلیم نہیں کیا کیونکہ پاکستان ایک قدامت پسند ملک ہے جہاں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کو نہ تو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی خاندان میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ ٹیریان وائٹ دراصل عمران کی جمائما سے شادی سے تین سال قبل پیدا ہوئی اور اب تک جمائما کے زیر کفالت ہے۔ اسکی والدہ سیتا وائٹ کی وفات کے بعد جمائمہ گولڈ سمتھ نے ٹیریان وائٹ کو گود لے لیا تھا۔
ٹیریان کی والدہ سیتا وائٹ نے اپنی زندگی میں بیٹی کی پیدائش کے بعد ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح عمران خان اس کی بیٹی کو اپنا لیں تاہم عمران خان کے ٹیرن کو بیٹی ماننے سے انکار پر سیتا وائٹ نے اس حوالے سے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیااور 7 سال بعد 2004 میں امریکی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو ٹیریان کا باپ قرار دے دیا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ آنے کے کچھ ہی دنوں بعد سیتا کی موت واقع ہو گئی۔ ٹیریان لندن میں جمائما کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ ڈیلی مرر کے مطابق عمران کی سابقہ اہلیہ جمائما اور ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کے ساتھ ٹیرن ایک فیملی کی طرح خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے اور انہوں نے انسٹا گرام پر اپنا ایک گروپ فوٹو بھی حال ہی میں شیئر کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ عمران تو آج بھی ٹیریان کو اپنی بیٹی تسلیم نہیں کرتے تاہم جمائما کھلے عام اسے اپنی سوتیلی بیٹی کہتی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس کیس میں عمران خان کے مستقبل کا کیا فیصلہ کرتی ہے۔
