چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی عزت اور سیاست کا جنازہ کیسے نکالا؟

گجرات کے چوہدریوں نے ہمیشہ اقتدار کی سیاست کی ہے ۔تاہم حالیہ تاریخ میں اقتدار کی ہوس میں چودھری شجاعت حسین سے دیرینہ تعلقات کو ٹم کرنے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الہی باقاعدہ مشکل میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے بیٹے مونس الہی ملک سے باہر ہیں، جبکہ ان کے خاندان کے کئی افراد بشمول خواتین کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد ہے۔

مشرف دور میں ن لیگ کو خیرباد کہہ کر چوہدری پرویز الہی پانچ سال پنجاب کے وزیراعلی رہے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بنی۔ اس وقت بھی چوہدری خاندان کو باقاعدہ انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پنجاب بینک سے متعلق ایک کیس میں مونس الہی پر مقدمہ دائر ہوا، تاہم وہ اس میں سے بھی باآسانی نکل گئے۔

سال 2018 میں پرویز الہی 10 سیٹوں کے باوجود تحریک انصاف کے ساتھ الحاق کر کے پنجاب کے سپیکر بنے اور بعد ازاں عثمان بزدار کے بعد جب پی ڈی ایم انہیں پنجاب کا وزیر اعلی بنا رہی تھی تو وہ عین اسی وقت دوبارہ عمران خان کی سیاست کےساتھ کھڑے ہو گئے، اور تحریک انصاف کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے اور 2022 میں جولائی سے دسمبر تک وزیر اعلٰی رہے۔

کیا چوہدری پرویز الہی نے مشکل سیاست کا فیصلہ کسی بڑے فائدے کے لیے کیا؟ اس سوال کا جواب سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ چوہدری برادران نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کی ہے۔ اب جب اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو سیاست سے الگ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے تو پرویز الہی سے زیادہ ان کے فرزند مونس الہی نے مشکل سیاست کا فیصلہ کیا اور چوہدری پرویز الہی نے یہ راستہ چنا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پرویز الہی ایک زیرک سیاستدان ہیں ان کو بڑے اچھے طریقے سے پتا تھا کہ عمران خان کا ساتھ دینے کا مطلب کیا ہے، اور برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے انہوں نے تحریک انصاف کو باقاعدہ 25 مئی کے واقعات کا حوالہ بھی دیا کہ جب حکومت ساتھ نہیں ہوتی تو اس بات کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں انہوں نے ایک جوا کھیلا۔ اور وہ اس میں کتنے کامیاب ہوں گے اب ایک آدھ واقعے سے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ان کا جوا عمران خان کی سیاست پر زیادہ منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پچھلے 25 برسوں میں پرویز الہی نے احتجاجی سیاست نہیں کی ہے اور نہ ان کی سیاسی جماعت ایسی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بدلتی سیاسی فضا نے انہیں ایک مختصر دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔

31جنوری اور یکم فروری کی درمیانی رات سابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے آبائی گھر گجرات میں پولیس نے چھاپہ مارا، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ سابق وزیراعلٰی نے اس ریڈ کی ذمہ داری نگراں حکومت پر ڈالتے ہوئے اس کو انتقامی کارروائی اور الیکشن سے بھاگنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے جبکہ نگران حکومت نے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے قانون کی عملداری سے تعبیر کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایک ماہ پہلے چوہدری پرویز الٰہی خود پنجاب کے وزیراعلٰی تھے اور اسمبلی تحلیل کرنے کے حق میں نہیں تھے، تاہم چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کہنے پر انہوں نے اسمبلی توڑ دی۔ انہوں نے البتہ اس خدشے کا سرعام اظہار کیا تھا کہ حکومت میں نہ ہونے کے سبب انہیں اور تحریک انصاف کو انتقامی کاررائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے بارے سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ ’اہم بات یہ کہ اس چھاپے کی اصل وجوہات سامنے لائی جانی چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری پرویز الہی اس وقت اپنی ساری سیاست اپنے بیٹے کے مستقبل کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے دہائیوں پر محیط اپنے بڑے بھائی کے ساتھ شروع کی جانے والی سیاست میں بھی اسی وجہ سے دراڑ ڈال لی ہے۔ اس عمل میں وہ بھی اب نشانے پر آ گئے ہیں۔

مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ’اس میں تو کوئی دو رائے ہیں ہی نہیں کہ عمران خان کے ساتھ چلنے میں اس طرح کی صورت حال کا سامنا ان کو کرنا پڑنا تھا اور اس بات کا سب سے زیادہ ادراک بھی انہیں ہی تھا۔ اگر وہ اس وقت پی ڈی ایم کے وزیر اعلی بن جاتے تو وہ آج بھی وزیر اعلی ہوتے۔ انہوں نے غیرمتوقع طور پر بڑے فیصلے کیے ہیں۔ جن کی اپنی قیمت بھی ہے۔

Back to top button