پاکستانی مسائل کا حل گیٹ نمبر 4 کو تالا لگانے میں ہے

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام سیاسی مسائل کا حل یہ ہے کہ گیٹ نمبر 4 سے سیاستدانوں کا داخلہ بند کر دیا جائے اور اس گیٹ کو ہمیشہ کے لئے تالا لگا دیا جائے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ جس ملک میں وزیراعظم، بہ وقتِ ضرورت ’امپورٹ‘ کئے جاتے ہوں، جہاں آئین کی حیثیت ’کاغذ کے ایک ٹکڑے‘ سے زیادہ نہ ہو، جہاں دستور بنانے والا پھانسی چڑھا دیا جائے اور آئین توڑنے والے کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جاتا ہو، وہاں نجانے کیوں اختیار والی بحث ہر چند سال بعد شروع ہو جاتی ہے۔ سارا مسئلہ ایک صفحہ پر ہونے یا نہ ہونے کا نہیں بلکہ ایک ’سوچ‘ کا ہے۔ مظہر کہتے ہیں کہ آئین کے تحت ہر ادارے کو ایک منتخب حکومت کے ماتحت ہونا چاہئے مگر پاکستان میں زمینی حقائق اور سوچ اس سے قطعی مختلف ہے۔ یہاں وزیراعظم آئینی طور پر مضبوط ہوتے ہوئے بھی کمزور نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے فوج کے ادارے کو بھی سیاست زدہ کر دیا ہے۔
بقول مظہر عباس خندق تو جنگ کے ماحول میں کھودی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ایکا تنظیم کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے جی ٹی روڈ پر خندقیں کھودی جا رہی ہے۔ ایک بار پھر لاہور سے اسلام آباد تک ریاست یرغمال نظر آئی۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے ’مہنگائی کی سونامی‘ کے خلاف مظاہروں اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اہم قومی امور پر فیصلہ سازی کا فقدان نظر آتا ہے اور بات اب ’ایک صفحہ‘ سے دو مختلف صفحوں تک پہنچتی نظر آتی ہے؟ اختیار تو سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی تھا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف لگا دیں مگر اس وقت بھی مسئلہ ’طریقہ کار‘ پر بنا۔ اس وقت ان کی سری لنکا سے واپسی کا انتظار کرلیا جاتا حالانکہ وزیراعظم جونیجو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا بس فرق یہ تھا کہ ایک کے جہاز کو لینڈ نہیں کرنے دیا جا رہا تھا تو دوسرے کو لینڈ کرتے ہی فارغ کر دیا گیا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب آجاتے ہیں ہم اصل مسئلے کی طرف کہ آخر پاکستان کی اہم ترین ایجنسی ISI کے سربراہ کا تقرر کیوں ہمیشہ وجہ ’تنازع‘ بن جاتا ہے؟ اس کا ایک سیاسی پس منظر ہے اور اگر یہ ابہام ہمیشہ کے لئے دور کر دیا جائے تو شاید یہ ایک معمول کی تقرری ہو جائے۔ اسے اجتماعی بدقسمتی کہیں کہ پاکستان میں کئی قومی الیکشن متنازع رہے کیونکہ کہیں نہ کہیں فوج کے ادارے پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس ادارے کا جو ’سیاسی سیل‘ بنا، اسکا پہلا شکار وہ خود بنے۔ بعد میں آنے والے فوجی اور سویلین حکمرانی کے دور میں اس سیل کو ختم کرنے کے بجائے مضبوط کیا گیا اور اس کا بے دریغ استعمال ہوا۔ اب چاہے وہ اسلامی جمہوری اتحاد کا بنایا جانا ہو یا مشہور زمانہ اصغر خان کیس ہو، اگر اس ادارے کا کوئی سربراہ جنرل حمید گل مرحوم کی طرح برملا اعتراف کرے کہ ’’ہاں IJI میں نے بنائی تھی‘‘ اور دوسرا سربراہ جنرل اسد درانی سپریم کورٹ میں حلفیہ یہ کہیں کہ 1990 کے الیکشن میں پیسے اس نے تب کے آرمی چیف کے کہنے پر تقسیم کئے تھے‘ تو فیصلہ کرلیں کہ اصل ’فنی خرابی‘ کیا ہے اور کہاں ہے۔
مظہر عباس کے مطابق اصل مسئلہ جنرل فیض حمید کی تقرری کا نہیں، ادارے کی اپنی ساکھ کا ہے کیونکہ پوری دنیا میں ISI کو بین الاقوامی سطح کی چند بہترین انٹلیجنس ایجنسیوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ اس کے اختیارات کے ’ابہام‘ کو دور کیا جائے۔
بقول مظہر عباس بظاہر لگتا ہے کہ پچھلے چند برس میں ایک نئی ’ٹرائیکا‘ نے جنم لیا ہے جس میں اب صدر کی بجائے وزیراعظم اور آرمی چیف کے علاوہ ڈی جی ISI شامل ہیں۔ اسی لئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی اس مرتبہ ایک ایشو بن گئی اور اس معاملے کی طوالت نے کچھ سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا۔ اس مسئلے کا حل قانون سازی کے ذریعے نکالنا ہو گا، چاہے آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہو یا ڈی جی ISI کی تقرری کا۔ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے کو جس احسن طریقے سے حل کیا اس سے کم از کم یہ ابہام ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا کہ چیف جسٹس کون ہوگا اور میعاد میں توسیع نہیں ہوسکتی۔ آج آپ باآسانی بتا سکتے ہیں کہ آج سے دس سال بعد چیف جسٹس کون ہوگا؟ رہ گئی بات عدلیہ کی آزادی کی تو شاید وقت کے ساتھ یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے، بدقسمتی سے ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ جس ملک میں چیف جسٹس نظربند رہے ہوں وہاں عدلیہ کیسے آزاد ہو سکتی ہے؟
مظہر عباس کہتے ہیں ایک مرتبہ سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی مرحوم نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ اپنے گھر سے عدالت جانے کے لئے نکلے تو گیٹ پر کھڑے ایک جونیئر افسر نے سیلوٹ مارتے ہوئے کہا ’’سر آپ باہر نہیں جا سکتے‘‘۔ ایسا ہی کچھ افتخار چوہدری اور اس زمانے کے کچھ دوسرے ججوں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ لہازا موجودہ بحران کسی کے فائدے میں نہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں بار بار بڑی غلطی کرتی ہیں وہ بھی پرانی، نئی نہیں۔ آخر ہم کب سمجھیں گے کہ ’اشاروں کی زبان‘ اسپیشل لوگوں کے لئے ہوتی ہے اس سے نہ حکومتیں مضبوط ہوتی ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کی تحریکیں چلا کرتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب بڑے پیر پگارا مرحوم فخریہ انداز میں کہتے تھے ’’ہاں بھائی میں تو GHQ کا آدمی ہوں‘‘۔ اب زمانہ راولپنڈی والے شیخ رشید صاحب کا ہے جو روز گیٹ نمبر 4 کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ لیخن وقت آ گیانیے کہ اب یہ گیٹ ’غیر متعلقہ‘ سیاسی لوگوں کے لئے بند ہو جانا چاہئے تاکہ سیاست کی سمت درست ہو سکے۔ وقت وقت کی بات ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب فیض احمد فیض جیسے بڑے لوگ سیاست میں تھے اب تو لوگ سیاست سے صرف ’فیض یاب‘ ہونا چاہتے ہیں۔ اسی لئے سیاسی جماعتوں میں بھی انہی افراد کی اہمیت ہے جن کے تعلقات ’اسٹیبلشمنٹ‘ سے بہتر ہوتے ہیں۔ لہذا سارا مسئلہ ’سوچ‘ کا ہے کسی ایک صفحے کا نہیں۔
