پاکستانی نوجوان اعلیٰ تعلیم کیلئے کیسے رقم اکٹھی کر سکتے ہیں؟

ابتدائی تعلیم میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی نوجوان اعلیٰ تعلیم کیلئے ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں کیونکہ عام طور پر متوسط گھرانوں میں اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ بچوں کے بیرون ملک پڑھائی کے اخراجات برداشت کر سکیں، اسی لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد ’’کرائوڈ فنڈںگ پلیٹ فارم‘‘ کا سہارا لیتی ہے۔
بی بی سی کے نمائندے حسن عباس نے بتایا کہ چند سال پہلے جب میں نے اپنی بیچلرز کی ڈگری مکمل کی تو بہت سے پاکستانی نوجوانوں کی طرح میں بیرون ملک مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانا چاہتا تھا مگر اس خواب کو پورا کرنے کے لیے میرے پاس ایک ہی راستہ تھا اور وہ یہ کہ میں سکالرشپ حاصل کروں کیونکہ نہ تو میرے پاس اتنے پیسے تھے کہ میں یونیورسٹی کی فیس ادا کر سکوں اور نہ ہی میرے والدین کی اتنی مالی استطاعت تھی۔
پاکستان سے ڈگری مکمل کرنے کے بعد عموماً یہ مسئلہ بہت سے پاکستانی نوجوانوں کو درپیش ہوتا ہے جو بہتر یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم تو حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر داخلہ ملنے کے باوجود وہ مالی مشکلات کی وجہ سے بیرون ممالک جا نہیں پاتے۔
گذشتہ دنوں ٹوئٹر پر ایک پاکستانی نوجوان عبداللہ شاہد کی ٹوئٹ میری نظر سے گزری جسے نیویارک یونیورسٹی نے فلم سازی کے ماسٹرز پروگرام میں داخلہ تو دے دیا لیکن 35 ہزار ڈالر کی سکالرشپ حاصل کرنے کے باوجود انھیں صرف ایک سال کی پڑھائی کے لیے 50 ہزار ڈالر درکار تھے جو ان کے پاس نہیں تھے، عبداللہ کے مطابق جن سکالرشپ کے لیے وہ اہل تھے انھوں نے وہاں اپلائی کیا لیکن وہ مزید رقم کا بندوبست نہیں کر سکے لہٰذا انھوں نے مطلوبہ رقم جمع کرنے کے لیے ’کراؤڈ فنڈنگ‘ کا ارادہ کیا۔
کراؤڈ فنڈنگ کے لیے شاید اُردو زبان میں کوئی مخصوص لفظ نہ ہو مگر اس کے لفظی معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ مجمے یا لوگوں سے رقم اکھٹا کرنا۔ کراؤڈ فنڈنگ کا تصور امریکہ اور یورپ میں کافی عام ہے جس کے تحت کوئی شخص، ٹیم یا ادارہ انٹرنیٹ پر کسی خاص ’کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم‘ کو استعمال کرتے ہوئے کسی منصوبے یا مقصد کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں سے چھوٹی چھوٹی مقدار میں رقم جمع کرتے ہیں، سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو بجائے یہ کہ اپنے آئیڈیا کے لیے کسی ایک سرمایہ دار سے بڑی رقم حاصل کی جائے، بڑی تعداد میں عام لوگوں سے چھوٹی چھوٹی رقوم حاصل کی جائیں۔
عبداللہ نے جب یونیورسٹی کی فیس کے لیے کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم کا لنک اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا تو ابتدا میں تو انھیں مثبت باتیں پڑھنے کو ملیں لیکن جلد ہی ایسے صارفین بھی سرگرم ہو گئے جنھوں نے اُن پر کڑی تنقید کی۔
عبداللہ نے اپنا بیچلرز بھی امریکہ کے لبرل آرٹس کالج پامونا سے کیا تھا لہٰذا یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ اس ڈگری کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے بتایا کہ فلم بنانا ان کا جنون ہے، انھوں نے امریکہ سے بیچلرز اس لیے کیا تھا کیوںکہ ان کی رائے میں کوئی مقامی یونیورسٹی اس معیار کی ڈگری نہیں کروا رہی تھی، اور بیچلرز کے لیے بھی انھیں پامونا کالج سے مالی مدد اور بعد میں قرضہ لینا پڑا، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان کیوں آئے تو ان کا کہنا تھا کہ میرا ہمیشہ سے شوق یہی تھا کہ میں پاکستان میں فلمیں بناؤں، یہ خواہش تھی کہ پاکستانی کہانیاں سناؤں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مدد مانگنا کوئی بُری بات نہیں۔ آپ کو اپنے آپ کو سب کے سامنے رکھنا ہوتا ہے، آپ اپنی پوری زندگی کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے میرے میں مہارت ہے، ٹیلنٹ ہے تو رقم عطیہ کریں ورنہ نہ کریں۔ میں کسی کی منت نہیں کر رہا کہ مجھے پیسے دیں تاکہ میں پارٹی کر لوں، یا میں گاڑی خرید لوں۔‘
عبداللہ 51500 ڈالرز جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ’گو فنڈ می‘ ویب سائٹ پر انھوں نے اب تک تقریباً 12 ہزار ڈالر جمع کر لیے ہیں جبکہ ’انڈی گوگو‘ پر 350 ڈالر، انٹرنیٹ پر کچھ ایسی ویب سائٹس ہیں جہاں پر لوگ جا کر اپنے پراجیکٹس اور مقاصد کے بارے میں بتاتے ہیں اور لوگوں سے اس کے لیے پیسے مانگتے ہیں۔
اخلاقی ذمہ داری یقیناً پیسے لینے والے کی ہے کہ جس مقصد سے اس نے عطیات مانگے ہیں وہ اس کام کو پورا کریں لیکن دینے والوں کو بھی یاد رکھنا ہے کہ وہ ان سے پیسے دینے کے عوض کوئی پراڈکٹ نہیں خرید رہے جو نہ ملنے پر ان کے ساتھ فراڈ ہو جائے گا۔یہ بس مدد کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے اور کوئی آپ کو پیسے دینے پر مجبور نہیں کر رہا، یہ آپ کی صوابدید ہے۔

Back to top button