پاکستان اسٹیل ملز کی اراضی کو لیز پر دینے کا فیصلہ

حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کی پراپرٹیز کو لیز پر دینے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی اراضی کو لیز پر دینے کا طے پایا ہے اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں 32 پراپرٹیز کی نشاندہی کی گئی ہے، نشاندہی کردہ 32 میں سے 5 پراپرٹیز نیا پاکستان ہاوَسنگ اتھارٹی کو دیدی گئی ہیں ان پانچ پراپرٹیز پر کم آمدنی والے افراد کےلیے سستے گھر بنائے جارہے ہیں، غیر استعمال شدہ پراپرٹیز کی فروخت کا عمل اگلے ہفتے سے شروع ہوگا جبکہ اسٹیل ملز کے مجموعی نقصانات 350 ارب روپے کے ہیں ۔
وفاقی وزیر نجکاری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن 17 سے 19 اداروں کی نجکاری پر کام کررہا ہے، جن کے حوالے سے وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کے بعد پیش رفت شروع ہوگی جب کہ روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کو بحال کریں گے اسے فروخت نہیں کیا جائے گا تاہم کے الیکٹرک کے معاملات آئندہ ایک2 ماہ میں حل کرلیے جائیں گے، کے الیکٹرک کی ملکیت اور واجبات سمیت مختلف مسائل درپیش ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل مل کےلیے 11 ارب 44 کروڑ 10 لاکھ روپے کا قرضہ بھی جاری کیا تھا، اس سلسلے میں وزارت خزانہ نے پاکستا ن اسٹیل مل کو قرضہ جاری کرنے کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کیا تھا جس کے مطابق جاری کردہ قرضہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت دیا جارہا ہے جس سے اسٹیل مل کے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کی جائے گی، وفاقی حکومت کی طرف سے جاری رقم پاکستان اسٹیل مل کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی ہے جسے 20سال میں واپس کیا جائے گا۔
قبل ازیں حکومت نے پاکستان اسٹیل مل کے گزشتہ 10سالوں کے خسارے کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کیں جس کے مطابق دس سالوں میں سٹیل مل کا مجموعی آپریشنل خسارہ 169ارب 51کروڑ رہا، مالی سال 2018-19میں مالی خسارہ 16ارب 50کروڑ رہا، جون 2013سے سٹیل ملز ملازمین کو 34ارب تنخواہ کی مد میں ادا کئے جا چکے ہیں، پاکستان اسٹیل مل کے اثاثہ جات کے کل لاگت 409ارب 68کروڑ روپے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button