کیا نواز شریف بھی زرداری کی طرح اپنی پارٹی مریم کو سونپ سکتے ہیں؟


نام نہاد مفاہمتی سیاست کے امیں نون لیگ کے صدر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عوام میں تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ کو دیکھتے ہوئے نواز شریف کے قریبی رفقا اب انہیں یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بھی آصف علی زرداری کی طرح پیچھے ہٹ کر پارٹی کی قیادت مریم نواز کو سونپ دیں۔
نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے قریبی حلقوں میں آج کل اس بات پر بحث جاری ہے کہ پارٹی اور شریف خاندان کی سیاست کو کیسے آگے بڑھایا جائے اور مستقبل میں پارٹی کی قیادت خاندان کے کس فرد کو سونپی جائے۔ میاں صاحب کے قریبی رفقاء کا یہ موقف یے کہ مزید گومگو کی کیفیت میں رہنے کی بجائے نواز شریف کو ن لیگ کے سیاسی وارث کے حوالے سے اب دو ٹوک فیصلہ کردینا چاہیے۔ یہ مشورہ بھی دیا جا رہا یے کہ موجودہ حالات میں جارح مزاج اور نسبتا نوجوان مریم ہی ن لیگ کی کشتی کو پار لگا سکتی ہیں۔ شاید انہیں مشوروں کی بھنک پڑنے کے بعد شہباز شریف نے خود کو سیاست میں متحرک کیا ہے اور کراچی جاکر آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات بھی کر ڈالی ہے۔
بحر حال سچ تو یہی ہے کہ پاکستان میں سیاست گنتی کے کچھ خاندانوں کے گرد گھومتی ہیں۔ بھارت کی طرح یہاں کے عوام بھی انتخابات میں پرانے سیاسی خاندانوں کو ترجیح دیتے ہیں چاہے اسٹیبلشمنٹ ان کو قبول کرے یا نہ کرے۔ ایک طرف آصف علی زرداری پہلے ہی بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنا کر سیاسی منظر نامے سے قدرے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کا اشارہ دیدیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مستقبل میں پارٹی کی قیادت بھی کر سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ مریم نواز کے دادا میاں محمد شریف سٹیل انڈسٹری میں بڑا نام تھے۔ وہ کاروباری آدمی تھے مگر اچھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے تھے اسی لیے حلقہ اشرافیہ میں جانے پہچانے جاتے تھے۔وقت یہ بتاتا ہے کہ میاں شریف کی پوتی مریم نواز سیاست میں وہی حربے اور وہی گُر استعمال کر رہی ہیں جو برمحل ہوں، پاپولر ہوں، مخالفین کی نیندیں اڑانا جانتے ہوں اور اپنے ووٹ بینک کو مٹھی میں دبائے رکھنے کے قابل ہوں۔ شاید اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ ان کے پیچھے نواز شریف کے ناکام اور کامیاب سیاسی تجربات کا نچوڑ بھی شامل ہے۔
نون لیگ کی قیادت سنبھالنے کے لیے اس وقت خاندان کے اندر مریم نواز کا مقابلہ شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف سے ہے۔ دھاگہ رکھ کر مفاہمت کی سیاست کرنے والے شہباز شریف پہلے ہی سیاسی منظر نامے سے خاصے ہٹے ہوئے نظر آتے ہیں جس کی بنیادی وجہ انکے خلاف نیب کے کیسز ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کا پنگا نہیں ڈالنا چاہتے اور تبھی باہر نکلیں گے جب سلیکٹرز کپتان کو ہٹانے کا فیصلہ کریں گے۔
دوسری طرف حمزہ شہباز نیب کے نرغے میں ہیں لیکن نیب کی پیشی پرانکی کوئی بڑی خبر نہیں بن پاتی۔ دوسری طرف مریم نواز کی چند ساعتوں کی عدالتی پیشی بھی سیاسی پاور شو بن جاتی ہے۔ چچا اور بھتیجی میں بس یہی فرق ہے۔کہیں چچا اکیلے نظر آتے ہیں، کہیں بھتیجی کے قافلے میں ایک بھی چچا زاد ساتھ نہیں ہوتا۔ کہیں چچا اپنے بڑے بھائی کے استقبال کو نہیں پہنچ پاتے کہیں بھتیجی کو کہنا پڑتا ہے کہ اختلاف رائے تو حُسن ہے۔ آگے سیاست کے اور بھی کئی امتحان آنے کو ہیں۔ ان حالات میں اب نواز شریف کے قریبی رفقاء ان کو یہ مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ چچا اور بھتیجی کا یہ معاملہ ایک ہی بار حل کر لیا جائے اور ان بکھیڑوں سے بچنے کے لیے نون لیگ کو باضابطہ طور پر پارٹی کی باگ باضابطہ طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں تھما دینی چاہیے۔
ن لیگ کے سامنے پیپلزپارٹی کی مثال موجود ہے۔ مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی آپسی لڑائی نے پیپلز پارٹی کو ماضی میں شدید نقصان پہنچایا۔ مرتضیٰ کھلم کھلا کہتے تھے کہ انہیں اپنی بہن کا انداز سیاست پسند نہیں۔ ان کے اپنے بہنوئی زرداری سے بھی اچھے تعلقات نہ تھے۔ یہ خاندانی ٹینشن سیاسی طور پر بھٹو خاندان کے لیے ایک چیلنج بنی رہی۔ آج بھی فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار بھٹو جونئیر کی راہیں اپنی پھپو کے بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ سے جدا ہیں۔ رہ گئی بات مریم اور حمزہ کے درمیان موروثی سیاست کا تاج پہننے کی تو یہ بھی وقت کے ساتھ بہت واضح ہوچکا ہے۔ نواز شریف کے بیٹوں حسن، حسین اور بیٹی اسما نے خود کو سیاست سے دور رکھا۔ شہباز شریف کے بیٹوں میں بھی صرف حمزہ نے مرکزی دھارے کی سیاست کی لیکن قومی سیاست میں وہ مکمل طور پر غیر متعلقہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ایسی واہ واہ نہ ہوسکی جو عوامی مقبولیت مریم کے حصے میں آئی۔ سیاست تو کھیل ہی عوامی مقبولیت کا ہے تو پھر پارٹی بطور ورثہ مریم کی جھولی میں کیوں نہ آگرے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک مردانہ سبقت پر یقین رکھنے والے معاشرے میں مریم نواز ترجیح بن گئیں؟ تجزیہ کاروں کے خیال میں اس کی پہلی اور آخری وجہ مریم نواز کا جارحانہ مزاج ہے۔ یہ مریم نواز کی فطرت نہیں لگتی کہ وہ درمیانی راہ نکالیں۔ وہ نپے تُلے جواب دینے کی عادی نہیں اور شاید وہ مبہم پیغام پر بھی یقین نہیں رکھتیں۔ وہ مقتدر حلقوں کو دو ٹوک مخاطب کرنے اور سیاست میں کھلم کھلا دشمن بنانے کی عادی ہیں۔وقت اور حالات نے بھی مریم نواز کو ایک جارح سیاست دان بننے کا بھرپور موقع دیا۔ مریم نے بھی وقت کی آواز پہ لبیک کہا اور پانامہ مقدمے کی ابتدا سے آج تک ہر طرح کے سیاسی حالات میں ابھر کر سامنے آئیں۔سیاسی شطرنج کھیلنے والے پرانے کھلاڑیوں کو خوب اندازہ ہوگیا ہے کہ مریم ان کے لئے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ وہ مصلحتاً مہینوں خاموش رہنا بھی جانتی ہیں اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر منصوبہ سازوں کو براہ راست للکارتی بھی خوب ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر کھانے کی ترکیبیں پسند کرتی ہیں اور جب موڈ ہو تو اسی ٹوئٹر پر بے باک سیاسی بیان دینے سے بھی نہیں چوکتیں۔ اس لیے نواز شریف کی واپسی کے لیے سیٹ بیلٹ کسنے والوں کو بھی اندازہ ہے کہ واپسی ہو گئی تو سامنا ایک نہیں دو سے ہوگا۔
سیاست کے سیانے اکثر یہ کہتے رہے کہ نواز شریف کو ان کی بیٹی کا جارحانہ انداز لے ڈوبا۔ پاکستانی سیاست میں پیشیوں کا موسم شروع ہونے کو ہے اور آنے والے دن بتائیں گے کہ اس جارح سیاست دان کے پھر سے متحرک ہونے کی خبر سے کتنوں کے دل ڈوبے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button