پاکستان اور افغانستان جنگ کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعلقات افغان طالبان حکومت یعنی امارات اسلامی کے ساتھ تنائو کے شکار ہیں اور اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو یہ تنائو کسی بھی وقت تصادم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف سخت اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں .

اپنے ایک کالم میں سلیم صافی کا کہنا ہے کہ منافقت کا انجام اللہ نے قرآن میں کفر سے بدتر قرار دیا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے منافقت کی سزا مل رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ ہم ملا عمر کی طرح رسک لے کر امریکہ، اس کے اتحادیوں بلکہ اقوام متحدہ کو ’’ناں‘‘ کرتے اور دوسرا راستہ اس عالمی اتحاد میں شمولیت کا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ کیا ۔ اب اگر اس کے بعد امریکہ یا کرزئی حکومت پاکستان کے مفادات کا خیال نہیں رکھ رہی تھی تو ہمارے جرنیلوں میں یہ ہمت ہونی چاہئے تھی کہ وہ امریکی اتحاد سے نکل جاتے لیکن چونکہ ایسی جرات نہ کر سکے اس لئے در پردہ دوبارہ افغان طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔ ایک طرف امریکہ کے اتحادی تھے۔ اس کے بدلے میں اس سے ڈالر بھی لے رہے تھے۔ اس کو زمینی راستہ بھی دے رکھا تھا۔ ڈرون کے اڈے بھی دے رکھے تھے۔ ملا عبدالسلام ضعیف اور ڈاکٹر غیرت بھیر کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے بھی کیا۔ ملا عبیداللہ اخوند اور ملا برادر جیسے طالبان کے اہم رہنمائوں کو امریکی خوشنودی کیلئے گرفتار بھی کیا لیکن دوسری طرف طالبان کی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجودگی اور سرگرمیوں سے صرف نظر کیا جس کی وجہ سے وہاں ٹی ٹی پی کو پنپنے کا موقع ملا۔ سلیم صافی کے مطابق دوسری طرف ہمارے جرنیل صاحبان نے ایم ایم اے اور عمران خان کو میدان میں اتارا، جو افغان طالبان کے حق میں اور امریکہ کے خلاف یا پھر ڈرون حملوں کے خلاف تحریکیں چلا رہے تھے۔ میڈیا پر دانشوروں اور دفاعی تجزیہ کاروں کو یہ ہدایت تھی کہ وہ افغان طالبان کو اچھا اور پاکستانی طالبان کو برا کہیں، حالانکہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ امریکہ ہم پر ڈبل گیم کا الزام لگاتا رہا لیکن ہم نہ سدھرے۔ پھر جب ہمارے اپنے سرحدی علاقے اور سوات میدان جنگ بن گئے تو حامد کرزئی اور اشرف غنی ہماری منتیں کرتے رہے کہ ہمارے دشمنوں یعنی طالبان کو پناہ دینے سے باز آجائو لیکن ہم اپنی ہزاروں لاشیں اٹھانے کے باوجود باز نہ آئے۔ ایک مرحوم جرنیل صاحب ٹی وی پر آکریہاں تک کہتے رہے کہ ’’مورخ یہ لکھے گا کہ ایک مرتبہ پاکستان آرمی نے امریکہ کے ہتھیاروں سے سوویت یونین کو شکست دی اور دوسری مرتبہ پاکستان آرمی نے امریکی ہتھیاروں سے امریکہ کو شکست دی‘‘۔ امریکہ نے پاکستان کو لالچ بھی دیا اور دبائو بھی ڈالا لیکن جب ہر حربہ ناکام ہوا اور طالبان کی مزاحمت کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہی تو اس نے یکسر یوٹرن لے لیا۔ امریکہ نے قطر معاہدے کے تحت افغانستان کو دوبارہ طالبان کے حوالے کیا۔ سابق امریکی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب پینٹاگان وغیرہ نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ہمارے انخلا سے وہاں پر القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش جیسی تنظیمیں مضبوط ہو سکتی ہیں تو ٹرمپ نے سوال کیا کہ کیا وہ امریکہ تک پہنچ کر دوبارہ نائن الیون جیسی کارروائی کر سکیں گے تو انہیں جواب ملا کہ نہیں۔ امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ جس پر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر میں کیوں اپنے فوجی مروائوں اور کیوں اپنے لوگوں کا پیسہ خرچ کروں۔ وہاں اگر حالات خراب ہوتے ہیں اور مذکورہ تنظیمیں مضبوط ہوتی ہیں تو ہونے دو۔ پاکستان جانے، ایران جانے، چین اور وسط ایشیائی ریاستیں جانیں۔ چنانچہ امریکی اور نیٹو فورسز افغانستان کو طالبان کے سپرد کر کے اور کھربوں کا جدید ترین اسلحہ پیچھے چھوڑ گئیں جس کا ایک بڑا حصہ ٹی ٹی پی کو بھی ملا کیونکہ وہ اس جنگ میں افغان طالبان کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھی۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے ہر امیر نے افغان طالبان کے امیر کی بیعت کر رکھی ہوتی ہے اور افغان طالبان کیلئے نیٹو فورسز کے خلاف پہلے خود کش حملے بھی افغان طالبان نے نہیں بلکہ پاکستانی محسود طالبان نے کئے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاں افغان طالبان اور القاعدہ کو پناہ دی تھی اور پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ اس بنیاد پر شروع کی تھی کہ اس نے طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ کیوں دیا. تماشا یہ ہے کہ افغان طالبان کی فتح جو ٹی ٹی پی کی فتح بھی تھی پر اتنا جشن افغانستان میں نہیں منایا گیا جتنا کہ پاکستان میں منایا گیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دیں۔ دفاعی تجزیہ کار اور ریٹائرڈ جرنیل ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے صحافیوں کو لے جانے اور وہاں جشن منانے کیلئے خصوصی جہاز تیار کیا لیکن پھر کسی دانا شخص کے کہنے پر وہ جہاز نہیں بھیجا گیا۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے کابل کے سیرینا ہوٹل میں مشہور زمانہ چائے کا کپ پیا اور پھر امارات اسلامی سے کہا کہ وہ ٹی ٹی پی کو ان کے ساتھ بٹھائے۔ امارات اسلامی نے ایسا کیا لیکن وہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب نئی عسکری قیادت ٹی ٹی پی سے بات نہیں کرنا چاہتی اور اس کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں لیکن افغان طالبان ایسا کرنے کی بجائے مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستان ان سے مذاکرات کرے۔ دوسری طرف ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور پاکستانی پالیسی سازوں کی رائے ہے کہ اس میں انہیں افغان طالبان کی امارات اسلامی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، جس کا مقصد پاکستان سے اپنی شرائط ہے۔ چنانچہ پاکستان کے تعلقات امارات اسلامی کے ساتھ تنائو کے شکار ہیں اور میرے منہ میں خاک اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو یہ تنائو کسی بھی وقت تصادم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف سخت اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اللہ کرے دونوں فریق ایک دوسرے کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ایک دوسرے کی مجبوریوں کو مدنظر رکھ کر پرامن حل نکال لیں ، جس کا بظاہر امکان کم ہونے لگا ہے ، لیکن کیا یہ اب ان جرنیلوں، مذہبی و سیاسی رہنمائوں، طالبان کے حامی دانشوروں کا اخلاقی فرض نہیں کہ وہ جاکر افغان طالبان اور پاکستان کے مابین مسلۓ کو سلجھائیں یا پھر اپنی ماضی کی پالیسیوں اور تجزیوں پر قوم سے معافی مانگیں۔

Back to top button