پاکستان اپنی ڈیجیٹل کرنسی کب متعارف کروانے والا ھے؟

ممتاز صنعت کار اور کالم نگار مرزا اختیار بیگ بتاتے ہیں کہ ملکی معیشت میں کیش لین دین کو کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک بٹ کوائن کی طرز پر پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی لانے کا سوچ رہا ہے جس سے کاغذی نوٹوں کا استعمال محدود کردیا جائے گا۔اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل کرنسی کے سلسلے میں سینڈ باکس پائلٹ نظام متعارف کرانے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ اپنے ایک کالم میں اختیار بیگ لکھتے ہیں کہ اس وقت دنیا کے 11 ممالک کے مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کا اجرا کرچکے ہیں جبکہ 130 ممالک ڈیجیٹل کرنسیوں پر کام کررہے ہیں۔ چین، بھارت، سعودی عرب، فرانس، گھانا اور کینیڈا سمیت 21 ممالک نے اپنے پائلٹ پروجیکٹ لانچ کئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں 6.4 ملین کارڈز سرکولیشن میں ہیں جن میں 24 فیصد کریڈٹ کارڈز اور 76 فیصد ڈیبٹ کارڈز ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں 3200 اے ٹی ایم اور 54 ہزار POS ٹرمینلز کام کررہے ہیں جو 24 گھنٹے پلاسٹک منی کے ذریعے بینکنگ سہولتیں فراہم کررہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی اور پہلی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن 3 جنوری 2009 میں متعارف کرائی گئی جس کو پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے غیر قانونی قرار دیا ہے کیونکہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کو قانونی تحفظ حاصل نہیں اور انہیں عام طور پر غیر قانونی نجی کمپنیاں یا افراد چلارہے ہیں۔ بینکنگ نظام سے باہر ہونے کی وجہ سے کرپٹو کرنسی جرائم پیشہ عناصر منی لانڈرنگ میں استعمال کررہے ہیں
مرزا اختیار بیگ کا کہنا ھے کہ دنیا میں ڈیجیٹل پیمنٹ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بجائے کیش لین دین میں اضافہ ہوا ہے اور جون 2023 میں ملک میں کیش سرکولیشن 9200 ارب روپے یعنی 32 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو مجموعی منی سپلائی کا 30 فیصد اور جی ڈی پی کا 11 فیصد ہے جبکہ دنیا میں GDP میں کیش سرکولیشن کی اوسط شرح 5 فیصد ہے۔ پاکستان کی معیشت میں کیش سرکولیشن میں اضافے سے اشیاء کی طلب، امپورٹ اور کھپت میں اضافہ ہورہا ہے جس سے روپے کی قدر پر دبائو اور افراط زر یعنی مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ لوگ کرپشن، اسمگلنگ اور غیر دستاویزی کالے دھن کو بینکوں کے بجائے رئیل اسٹیٹ، ڈالر، سونا اور زرعی اجناس میں سٹے بازی کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں بینکوں کے ڈپازٹس میں اوسطاً اضافہ 12 فیصد ہے لیکن کیش ٹرانزیکشن میں گروتھ 17 فیصد ہے۔ ملک میں تقریباً 15 فیصد لوگوں کے بینک اکائونٹس ہیں جبکہ 85 فیصد افراد بینکنگ نظام سے باہر ہیں۔ مرزا اختیار بیگ کا کہنا ھے کہ لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کیلئے بجلی، موبائل اور دیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی ڈیجیٹل ہونی چاہئے تاکہ یہ اکائونٹ میں ریکارڈ ہو سکیں۔ غیر دستاویزی معیشت میں سب سے بڑا سیکٹر رئیل اسٹیٹ ہے جس کی GDP میں شرح 21 فیصد ہوگئی ہے جس کی روک تھام کیلئے ہمیں کیش لین دین کو روکنا ہوگا۔ چین اور بھارت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے کامیاب پلیٹ فارمز متعارف کرائے ہیں جس سے بھارت میں ڈیجیٹل پیمنٹ 40 فیصد یعنی 2400 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان نے بھی 2021 میں راست گیٹ وے پیمنٹ نظام متعارف کرایا تھا جس سے پاکستان کی موبائل بینکنگ میں 100 فیصد اور انٹرنیٹ بینکنگ میں 52 فیصد اضافہ ہوا جو خوش آئند ہے
مرزا اختیار بیگ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل بینکنگ تیز ی سے فروغ پارہی ہے جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد پیش پیش ہیں۔ دنیا میں ڈیجیٹل پیمنٹ میں سرفہرست 6 ممالک کے اعداد و شمار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کیش لین دین کے بجائے ڈیجیٹل پیمنٹ کی طرف تیزی سے منتقل ہورہی ہے جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس ہے۔ ہمیں اپنی بلیک اکانومی کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈیجیٹل پیمنٹ کے نظام جلد از جلد متعارف کرانا ہوں گے تاکہ دستاویزی معیشت کو فروغ ملے اور کرپشن، اسمگلنگ اور ناجائز ذرائع سے غیر دستاویزی دولت کو دستاویزی بنایا جاسکے۔
