پاکستان بنگلادیش اور بھارت سے بھی زیادہ غریب کیوں؟

مغربی پاکستان کے استحصال کو جواز بنا کر اس سے علیحدہ ہو جانے والا مشرقی پاکستان جو اب بنگلا دیش کہلاتا ہے51 سال  میں پاکستان سے 11 گنا زیادہ امیر ہو چکا ہے ، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر محض تین ارب ڈالرز اور بنگلہ دیش کے زرمبادلہ ذخائر 33؍ ا رب 79؍ کروڑ ڈالرز ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ ہی آزاد ہونے والا اس کا ازلی دشمن ہمسایہ ملک بھارت  573؍ ارب 73؍ کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر  کا مالک ہے ، فروری 2023 کے پہلے دس روز  کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر 10سال کی کم ترین سطح 3 ارب ڈالر پر آگئے ہیں ، پاکستان کےپاس اتنے مناسب وسائل نہیں ہیں کہ وہ خام تیل اور خدمات سمیت بنیادی ضروریات کے لیے ادائیگیاں کرسکے ،پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 130؍ ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔ 2025ء تک تین مالی سال میں پاکستان کو 73؍ ارب ڈالرز مالیت کے بیرونی قرضے چکانے ہیں جبکہ ملکی اقتصادیات بتدریج ڈوبتی جارہی ہے۔ ملک کے اقتصادی ماہرین بھی شرح مبادلہ میں بڑھتے فرق پر قابو نہیں کرپارہے ہیں جسکے دنیا کےساتھ تجارت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

آئی ایم ایف غیر ملکی زرمبادلہ ملک کے بیرونی اثاثے قرار دیتا ہے جو فنانسنگ کےلیے ضروری ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں کام آتے ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر کے حوالے سے پاکستان اپنے ٹوٹے بازو بنگلہ دیش سے بھی بہت پیچھے ہے جس کے زرمبادلہ ذخائر 33؍ ا رب 79؍ کروڑ ڈالرز ہیں۔ پاکستان کے حالات بھی اقتصادی دیوالیہ سری لنکا جیسے ہوتے جارہے ہیں جس کے زرمبادلہ ذخائر گزشتہ دسمبرتک ایک ارب 90؍ کروڑ ڈالرز رہ گئے تھے ۔ زرمبادلہ کی بلند ترین فہرست میں چین تین ٹریلین 122؍ ا رب ڈالرز کے ساتھ پہلے اور جاپان ایک ٹریلین 226؍ ارب ڈالرزکے ساتھ دوسرے نمبر پرہے۔ سوئٹزرلینڈ کے زرمبادلہ ذخائر 848؍ ارب 50؍ کروڑ ڈالر ہیں دوسری طرف بھارت بھی دنیا کی ایک بڑی معیشت کے طور پر ابھرا  ہے جس  کے زر مبادلہ کے ذخائر  573؍ ارب 73؍ کروڑ ہیں ۔

واضح رہے کہ معاشی بحران کو دیکھتے ہوئے بالآخر حکومت نے IMF کی سخت ترین شرائط ماننے کی ہامی بھرلی جس کیلئے حکومت کو سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنا پڑرہے ہیں۔ حکومت نے روپے کی قدر کے مصنوعی نظام کو ترک کرکے مارکیٹ مبنی فری فلوٹ نظام پر چھوڑ دیا جس کی وجہ سے جنوری سے اب تک انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں ریکارڈ 50روپے یعنی 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے صرف ایک دن میں بیرونی قرضوں میں تقریباً 2800 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔یہ وہ قرضے ہیں جو ہم نے دراصل لئے نہیں لیکن راتوں رات روپے کی قدر  یا ایکسچینج ریٹ میں کمی کی وجہ سے ہمیں اضافی دینا پڑیں گے۔

اسٹیٹ بینک نے افراط زر کنٹرول کرنے کیلئے پالیسی ریٹ مزید بڑھاکر 17فیصد کردیا جس سے بینکوں کے شرح سود 19 سے 20 فیصد تک ہوگئی اور بزنس کی مالی لاگت میں شدید اضافہ ہوا ہے 1975ء کے بعد 48 سال میں ریکارڈ 28 فیصد تک پہنچ گئی، جس کے آنیوالے دنوں میں 32 فیصد ہونے کی توقع ہے کیونکہ IMF پیٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس اور 10 روپے فی لیٹر PDL بھی عائد کرنے کا مطالبہ کررہا ہے جس سے پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہوجائیں گی IMF مذاکراتی ٹیم 31جنوری کو پاکستان آئی اور آرڈیننس اور منی بجٹ کے ذریعے اضافی ٹیکسز لگانے، گردشی قرضے کم کرنے کیلئے بجلی کے نرخوں میں 12.50 روپے فی یونٹ اور گیس کے نرخوں میں 74فیصد اضافہ، 283ارب روپے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی، ادویات اور LPG کی قیمتوں میں 60روپے فی کلو اضافہ، سیلاب متاثرین کیلئے 500 ارب روپے کے اخراجات کی اجازت، بیورو کریسی کے اثاثوں کی تفصیلات اور 2017ء کے بے نامی ٹرانزیکشنزایکٹ پر عملدرآمد جیسی شرائط پیش کیں جبکہ حکومت نے پہلے مرحلے میں بجلی کے نرخ میں 6.32 روپے فی یونٹ اضافے اور 300 یونٹ تک سبسڈی ختم کرنے کی تجویز دی ہے ۔ IMF بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے 600ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگانے پر بھی زور دے رہا ہے مگر حکومت پہلے مرحلے میں 200ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگانے پر آمادہ ہے ۔ حکومت نے گردشی قرضے کم کرنے کیلئے IMF کو سرکلرڈیٹ مینجمنٹ پلان پیش کیا ہے لیکن IMF کو حکومتی مینجمنٹ پلان کے عملدرآمد پر تحفظات ہیں۔ وزیر خزانہ IMF معاہدے کی بحالی کیلئے دوست ممالک سے 4 سے 5 ارب ڈالر کے نئے سافٹ ڈپازٹس کیلئے بھی کوشاں ہیں تاکہ حکومت اور IMF کے مابین ڈیڈلاک ختم اور اسٹاف لیول معاہدہ کیا جاسکے

Back to top button