قومی اسمبلی نے بجٹ 2026-27 کی منظوری دے دی

قومی اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کےلیے فنانس بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، جب کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔
فنانس بل کے تحت یکم جولائی سے نئے ٹیکس اقدامات اور مالیاتی اصلاحات نافذ العمل ہوں گی۔تنخواہ دار طبقے،جائیداد کے لین دین،سوشل میڈیا سے حاصل ہونےوالی آمدن اور مختلف کاروباری شعبوں کےلیے ٹیکس کے نئے قواعد متعارف کرائےگئے ہیں۔
سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنےوالے افراد ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے جب کہ اس سے زائد آمدن پر نئے سلیب کےمطابق ٹیکس عائد ہوگا۔
بل میں درآمدی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جب کہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونےوالی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی نافذ کیاگیا ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر،بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر صنعت کےلیے اضافی ٹیکس اقدامات شامل کیےگئے ہیں، جب کہ بعض فلاحی اور عوامی خدمت کے اداروں کو ٹیکس چھوٹ اور استثنیٰ دیاگیا ہے۔
آٹو سیکٹر میں درآمدی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کےلیے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔بعض گاڑیوں پر ڈیوٹیز کم کی گئی ہیں جب کہ بڑی درآمدی اور الیکٹرک گاڑیوں پر نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔
فنانس بل کے تحت ٹیکس نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے انکم ٹیکس گوشوارے صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانا لازمی قراردیا گیا ہے۔ایف بی آر کے الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم میں مداخلت،نقصان یا عدم تنصیب پر سخت جرمانوں اور سزاؤں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
پاکستان نے مذاکراتی عمل میں تاریخی کردار ادا کیا : وزیراعظم
نئے قانون کےمطابق ایف بی آر کے نوٹسز پر عمل درآمد نہ کرنےوالوں کےخلاف جرمانوں میں اضافہ کیاگیا ہے، جب کہ ٹیکس نگرانی کے جدید نظام کو مؤثر بنانے کےلیے نئے اختیارات بھی دیےگئے ہیں۔
فنانس بل 2026 کی منظوری کے ساتھ ہی حکومت کی نئی مالیاتی اور ٹیکس پالیسی کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے اور تمام اہم اقدامات یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوں گے۔
