لبنان پر اسرائیلی حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید متاثر کیا: اسحاق ڈار

 

 

 

 

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید متاثر کیا، امریکی اور ایرانی وفود کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تقریباً رک گئی تھیں۔

عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مفاہمتی کوششوں کےبعد تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے،مذاکرات حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کےلیے ہورہے ہیں،یہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا دوسرا مرحلہ ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران یورینیئم باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرے گا،جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں پر ورکنگ گروپس سرگرم ہیں،لبنان سے متعلق معاملات بھی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے، بعض معاملات طے کرنے کےلیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، مجموعی معاہدے کےلیے 60 دن کا ٹائم فریم رکھا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز 60 روز تک بغیر کسی ٹیرف کے گزرسکتے ہیں،جہازوں کو صرف سٹینڈرڈ نیوی گیشن یا سروس فیس دینا ہوگی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مذاکرات کی ذاتی طور پر رہنمائی کی،سعودیہ، قطر،مصر اور امارات ثالثی کے عمل کو سپورٹ کررہے ہیں،مذاکرات کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے لیکن حتمی معاہدہ قابل حصول ہے،ڈیل میں کوئی منفی نکتہ نہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے،پاکستان نے خالصتاً امت مسلمہ اور عالمی امن کےلیے ثالثی کا مخلصانہ کردار ادا کیا۔

اسرائیل کا جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سب کچھ اسلام آباد معاہدے کے اندر موجود ہے،یہ تاثر غلط ہےکہ پس پردہ کوئی خفیہ ڈیل ہوئی ہے،باہمی رضامندی سے معاہدے کی مدت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے۔

 

Back to top button